Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / ورنگل ضمنی انتخاب کیلئے کانگریس کی مہم میں شدت ‘ قومی قائدین کی شرکت

ورنگل ضمنی انتخاب کیلئے کانگریس کی مہم میں شدت ‘ قومی قائدین کی شرکت

آج ریالی سے غلام نبی آزاد خطاب کرینگے ۔ ایک لاکھ افراد کی شرکت کا امکان ۔ پارٹی کو عوامی تائید ملنے کا یقین
حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخابات کی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ پارٹی نے کئی قومی قائدین کو پارٹی کی انتخابی مہم میں شامل کرتے ہوئے اقلیتوں اور کسانوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد کل 18نومبر کو ورنگل میں پارٹی امیدوار سروے ستیہ نارائنا کی انتخابی ریالی سے خطاب کریں گے۔ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے بتایا کہ انتخابی ریالی کا آغاز ورنگل ریلوے اسٹیشن سے ہوگا جو مختلف راستوں سے گذر کر ایم جی ایم گراؤنڈ پہنچے گی جہاں غلام نبی آزاد اور دیگر قائدین خطاب کریں گے۔ پارٹی کو توقع ہے کہ اس ریالی میں تقریباً ایک لاکھ افراد شرکت کریں گے۔ پارٹی نے ورنگل کی انتخابی مہم میں جن قومی قائدین کو شامل کیا ہے ان میں سابق اسپیکر لوک سبھا شریمتی میرا کمار، جنرل سکریٹری اے آئی سی سی ڈگ وجئے سنگھ، سابق مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے اور سابق مرکزی وزیر سچن پائلٹ شامل ہیں۔ محمد علی شبیر نے دعویٰ کیا کہ ورنگل میں کانگریس کو عوام کی غیر معمولی تائید حاصل ہورہی ہے اور ہر اسمبلی حلقہ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام انتخابی جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے تائید کا یقین دلارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں ٹی آر ایس حکومت کے خلاف سخت ناراضگی دیکھی جارہی ہے اور عوام انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل سے نالاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتیں اور کسان پوری طرح کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ ورنگل میں کپاس کے کسانوں کو امداد فراہم کرنے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 12فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ پر ٹی آر ایس حکومت کا یو ٹرن اسے اقلیتوں کی تائید سے محروم کرسکتا ہے۔ حکومت نے 4 ماہ میں تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن دیڑھ سال گذرنے کے باوجود ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی پہل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین اور وزراء کو جگہ جگہ عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ انتخابی مہم جاری رکھنے میں دشواری محسوس کررہے ہیں۔ پولیس کو استعمال کرتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ سرکاری مشنری اور دولت کے استعمال کے ذریعہ ٹی آر ایس کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ابھی سے پولیس کے ذریعہ حکومت کے مخالفین کو ہراساں کیا جارہا ہے جبکہ عوام میں بھاری رقومات کی تقسیم کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کی کامیابی کے امکانات کو روشن قرار دیا اور کہا کہ انتخابی نتائج ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی پر ریفرنڈم ثابت ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے انتخابی وعدوں کے سلسلہ میں 50 سوالات پر مشتمل جو کتابچہ جاری کیا تھا عوام میں وہ کافی مقبول ہوچکا ہے اور کئی مقامات پر وزراء سے عوام نے انہیں سوالات کو دہرایا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ورنگل کے ضمنی چناؤ کے آزادانہ و منصفانہ انعقاد کو یقینی بناتا ہے تو کامیابی کانگریس پارٹی کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب کی مہم میں چیف منسٹر کی شرکت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی آر ایس عوامی ناراضگی سے کس حد تک خوفزدہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT