Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / ورنگل میگا ٹیکسٹائیل پارک سے 50 ہزار ملازمتوں کی فراہمی ممکن

ورنگل میگا ٹیکسٹائیل پارک سے 50 ہزار ملازمتوں کی فراہمی ممکن

اعظم جاہی ملز پر سبقت ۔ سنگ بنیاد رکھنے کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤکا خطاب ۔ دیگر پراجیکٹس کے کاموں کا بھی آغاز

ورنگل 22 اکٹوبر( این ایس ایس ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ورنگل رورل علاقہ میں کاکتیہ میگا ٹیکسٹائیل پارک کا سنگ بنیاد رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی سب سے بڑی صنعت بن جائے گی جہاں ہر طرح کے کپڑے اور لباس تیار کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکسٹائیل پارک کو کپڑوں کی تیاری اور ورکرس کو روزگار کی فراہمی میں اعظم جاہی ملزم سے سبقت حاصل ہوجائیگی ۔ چیف منسٹر نے آج مدی کونڈہ میں آئی ٹی ان کیوبیشن سنٹر قاضی پیٹ میں روڈ اوور برج اور آوٹر رنگ روڈ کے کاموں کا بھی سنگ بنیاد رکھا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے ٹکسٹائیل پارک کے سنگ بنیاد سے قبل ایک ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے گجرات میں سورت ‘ ٹاملناڈو میں تروپور ‘ مہاراشٹرا میں شولا پور اور دیگر مقامات کا دورہ کیا تاکہ وہاں مختلف اقسام کے کپڑوں کی تیاری وغیرہ کا جائزہ لیا جاسکے ۔ اب یہ تمام کپڑے وغیرہ ورنگل میں تیار کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پارک میں دھاگے کی تیاری ‘ کپڑوں کی تیاری اور ریڈی میڈ ملبوسات وغیرہ تیار کئے جائیں گے تاکہ ملک اور بیرون ملک کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے ۔میگا ٹیکسٹائیل پارک میں کاروبار کیلئے آگے آنے والی 22 صنعتوں اور کمپنیوں کے نام بھی چیف منسٹر نے گنوائے ۔

انہوں نے کہا کہ 3,900 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ان کمپنیوں سے آئے گی تاکہ کاروبار شروع کیا جاسکے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس ٹیکسٹائیل پارک میں وسیع پیمانے پر مختلف انداز کے کپڑے اور ملبوسات تیار کئے جائیں گے اور ان کے نتیجہ میں 27,000 ملازمتیں راست طور پر اور 50000 ملازمتیں بالواسطہ طور پر حاصل ہونگی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پارک یقینی طور پر ملک میں اپنی نوعیت کا منفرد پارک ہوگا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ورنگل ٹیکسٹائیل پارک میں کاٹن کی گھریلو مارکٹ ہوگی ۔ یہاں اشیا کو منتقل کیا جائیگا اور ہر طرح کے ملبوسات تیار کئے جائیں گے تاکہ دنیا بھر میں 700 کروڑ کی آبادی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے ۔ چیف منسٹر نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ 22 کمپنیوں نے یہاں کام کاج اور تجارت کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے اور معاہدے کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے وزیر صنعت کے ٹی راما راؤ اور متعلقہ عہدیداروں کی بھی ستائش کی جنہوں نے ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ یہ کرشماتی کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے ذریعہ 5017 صنعتیں قائم ہوسکیں ‘ صنعتوں کی توسیع کا عمل تیز ہوا ہے اور صنعتی پالیسی پر کسی رکاوٹ کے بغیر عمل آوری کے ذریعہ سرمایہ کاری حاصل کی جا رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سنگل ونڈو اجازت ناموں کیلئے دیگر ریاستوں میں کچھ رکاوٹیں ضرور ہیں لیکن تلنگانہ میں اس نظام میں کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں اور تمام اجازت نامے اندرون 15 دن آن لائین فراہم کئے جا رہے ہیں اور دفاتر کے چکر لگانے کی اب ضرورت نہیں رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتیجہ میں تلنگانہ میں اب تک 1.07 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری تین سال میں حاصل ہوئی ہے اور یہ کے ٹی آر اور دوسرے عہدیداروں کی شاندار کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ انہیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ورنگل ٹیکسٹائیل پارک میں ہر طرح کے کپڑے ‘ ہوزیری ‘ بلانکٹس ‘ ساڑیاں اور دوسرے طرز کے ملبوسات تیار کئے جائیں گے اور اس کے نتیجہ میں ریاست کی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا ۔ چیف منسٹر نے ادعا کیا کہ انہوں نے علیحدہ ریاست کی جدوجہد کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ یہاں ایک ٹیکسٹائیل پارک قائم کیا جائیگا اور آج اسے حقیقت کا روپ دیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ورنگل کے عوام کو میگا ٹیکسٹائیل پارک کے قیام پر مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری ‘ وزیر صنعت و ہینڈ لوم کے ٹی راما راؤ ‘ وزیر عمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ ‘ اسپیکر اسمبلی ایس مدھوسدن چاری کے علاوہ ٹی آر ایس کے دیگر قائدین اور سرکاری عہدیدار وغیرہ بھی اس تقریب میں شریک تھے ۔

TOPPOPULARRECENT