Sunday , November 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ورنگل میں انتخابات میں مسلمانوں کو بادشاہ گر کا موقف

ورنگل میں انتخابات میں مسلمانوں کو بادشاہ گر کا موقف

ورنگل۔ 16 نومبر (ایم اے نعیم) ورنگل پارلیمانی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں مہم عروج پر ہے۔ 12% مسلم تحفظات کے تیقن پر جماعت اسلامی ورنگل، ایم پی جے، سجادگان، رضاکار مسلم تنظیموں کی جانب سے ٹی آر ایس امیدوار دیاکر کی تائید کا اعلان کیا گیا جس سے ٹی آر ایس کے قائدین نے سکون کی سانس لی ہے۔ اس طرح کانگریس پارٹی کے مرکزی قائدین کے دورہ ورنگل سے پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ٹی آر ایس اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ کا امکان ہے۔ بی جے پی، وائی ایس آر کانگریس، کمیونسٹ پارٹی کی انتخابی سرگرمیاں بھی تیز ہوچکی ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ، ورنگل پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ انہیں گزشتہ کے مقابلے میں کم ووٹ حاصل ہونے کی فکر لاحق ہوچکی ہے۔ مسلمانوں کے ووٹ انتخابی نتائج میں فیصلہ کن رول ادا کریں گے۔ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ٹی آر ایس کے اعلیٰ قائدین نے ساری قوت لگا دی ہے۔ ہریش راؤ، کے تارک راما راؤ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ورنگل کے مسلمانوں سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ مسلم اقلیت کے انتخابی جلسوں میں یہ قائدین 12% تحفظات کسی بھی حال میں دینے کا تیقن دے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ورنگل اور مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (ایم پی جے) کی جانب سے ٹی آر ایس امیدوار کی تائید کے اعلان کے ساتھ ساتھ ورنگل کی مختلف درگاہوں کے سجادگان اور رضاکار مسلم تنظیموں کی جانب سے مسلم مسائل کے مطالبات کو قبول کرنے پر ٹی آر ایس کی تائید کے اعلان کے بعد ٹی آر ایس قائدین نے سکون کی سانس لی ہے۔ ہریش راؤ اور کے ٹی آر کی جانب سے زبردست انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین 15 دنوں سے شب و روز انتخابی مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کی تائید میں کانگریس کے اعلیٰ قائدین ڈگ وجئے سنگھ، سابق اسپیکر پارلیمنٹ میرا کمار، جئے پال ریڈی، سدھیر بابو، سبیتا اندرا ریڈی، اتم کمار ریڈی، محمد علی شبیر، فاروق حسین، خواجہ فخرالدین اور دیگر مقامی قائدین انتخابی مہم میں کود پڑے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو پال کورتی، پرکال، وردھنا پیٹ، بھوپال پلی حلقہ میں عوامی تائید حاصل ہورہی ہے۔ اس لئے کانگریس کے اعلیٰ قائدین ان حلقوں میں انتخابی مہم زور و شور سے چلا رہے ہیں جبکہ مسلم ووٹ حاصل کرنے میں کانگریس قائدین ناکام نظر آرہے ہیں مقامی مسلم قائدین کے آپس میں اختلافات بھی عروج پر ہیں۔ تیسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک این آر آئی ڈاکٹر دیویا کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر جی کشن ریڈی، مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ، کے لکشمن کے ساتھ مقامی بی جے پی قائدین کے ساتھ تلگو دیشم کا اتحاد رہنے سے تلگو دیشم کارکن انتخابی مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ بہار کے نتائج کے بعد پارٹی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوچکی ہے۔ وائی ایس آر کانگریس امیدوار نلاسوریا پرکاش بھی انتخابی میدان میں پارٹی کی رکن اسمبلی روجا اور کھمم کے ایم پی کی جانب سے روزانہ روڈ شوکر کرتے ہوئے عوام میں مقبولیت کیلئے کوشاں ہیں۔ صدر وائی ایس آر کانگریس وائی ایس جگن موہن ریڈی بھی انتخابی مہم میں روڈ شو کرتے ہوئے تلنگانہ میں قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 4% تحفظات کے نام پر مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن ورنگل میں کوئی بڑا مسلم لیڈر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ باہر کے لوگوں کو لاکر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ جگن کے دورہ سے اس پارٹی کے ووٹ بینک میں کچھ حد تک اضافہ کا امکان ہے لیکن وائی ایس آر امیدوار جتنے ووٹ حاصل کرے گا، ٹی آر ایس کو انتخابی فائدہ حاصل ہوگا۔ کمیونسٹ جماعتوں کے تائید میں امیدوار کالی ونود کمار بھی انتخابی میدان میں ہیں لیکن ایک مخصوص حصہ تک ہی انتخابی مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کو بائیں بازو کی تنظیموں کی تائید کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان سخت مقابلہ کا امکان ہے۔ ٹی آر ایس کے بعض قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ اسی طرح تلگو دیشم پارٹی کی راجیہ سبھا رکن گنڈو سدھا رانی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئی ہیں۔ چار بڑی جماعتیں ، کانگریس، ٹی آر ایس، بی جے پی، وائی ایس آر کانگریس کے اعلیٰ قائدین ورنگل کا رخ کئے ہیں۔ یہ قائدین یہاں پر ہی کیمپ کرتے ہوئے انتخابی مہم میں سرگرم ہیں۔ گاوں کی بہ نسبت شہری علاقوں میں ٹی آر ایس کو زیادہ ووٹ ملنے کا امکان نظر آرہا ہے۔ ورنگل پارلیمانی حلقہ کے تحت 7 اسمبلی حلقہ جات ورنگل ایسٹ، ورنگل ویسٹ، پرکال، پالاکورتی، اسٹیشن گھن پور، وردھنا پیٹ، بھوپال پلی ہیں۔ ان سات حلقوں میں سے 6 حلقوں پر ٹی آر ایس کا قبضہ ہے جبکہ صرف ایک حلقہ پالاکورتی کی تلگو دیشم پارٹی کے دیاکر راؤ نمائندگی کرتے ہیں۔ ورنگل پارلیمانی ضمنی انتخابات پر سب کی نظر ٹکی ہوئی ہیں۔ حکمراں جماعت کی کارکردگی سے عوام کتنے مطمئن ہیں، ٹی آر ایس کو ڈر ہے کہ ووٹ بینک میں کمی ہوگی۔ کانگریس اس حلقہ سے کامیاب ہونے کیلئے کوشاں ہیں۔ وائی ایس آر اپنے وجود کا احساس دلانے میں لگی ہوئی ہے۔ اصل مقابلہ کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان نظر آرہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT