Wednesday , December 12 2018

وزارت عظمیٰ کیلئے ممتابنرجی کو ہزارے کی تائید

نئی دہلی ۔ 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سماجی کارکن اناہزارے نے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنی ریاست سے باہر عزائم رکھنے والی مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی کی آج بھرپور تائید کا اعلان کیا اور اپنے ماضی کے شاگرد کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اروند کجریوال کی تائید نہیں کریں گے۔ اس رشوت ستانی کے خلاف مہم چلانے والے رہنما ہزارے نے کہ

نئی دہلی ۔ 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سماجی کارکن اناہزارے نے لوک سبھا انتخابات کے بعد اپنی ریاست سے باہر عزائم رکھنے والی مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی کی آج بھرپور تائید کا اعلان کیا اور اپنے ماضی کے شاگرد کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اروند کجریوال کی تائید نہیں کریں گے۔ اس رشوت ستانی کے خلاف مہم چلانے والے رہنما ہزارے نے کہا کہ وہ ممتابنرجی کی تائید کررہے ہیں کیونکہ انہوں نے ان کے 17 نکاتی ایجنڈہ کی تائید کی ہے اور اس پر عمل آوری سے اتفاق کیا ہے۔ اناہزارے نے ممتابنرجی کے ساتھ یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اپنے 17 نکاتی مطالبات پر مبنی ایک مکتوب تمام سیاسی جماعتوں کے نام لکھا تھا۔

دیدی (ممتابنرجی) اس پر مثبت جواب دیا اور عمل آوری سے اتفاق کیا۔ میں نے اروند کجریوال کو بھی مکتوب روانہ کیا تھا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا چنانچہ ان کی تائید کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ ہزارے نے ممتابنرجی کی تائید کا اعلان ایک ایسے وقت کیا ہے جب ان کے تعلقات اپنے سابق شاگرد کجریوال کے ساتھ کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ہزارے نے کجریوال کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے اور سرکاری رہائش گاہ قبول کرنے پر بھی تنقید کی تھی۔ ہزارے نے کہا کہ وہ ممتابنرجی کی تائید کسی جماعت کی حیثیت سے نہیں بلکہ انفرادی حیثیت سے کررہے ہیں کیونکہ وہ مس ممتابنرجی کے طریقہ کار اور اصولوں کو پسند کرتے ہیں۔ نیز ملک اور سماج کیلئے ممتابنرجی کے نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔ ہزارے نے کہا کہ ’’ممتابنرجی کی بحیثیت چیف منسٹر دوسروں کی طرح ایک پرتعیش آرام دہ زندگی گذار سکتی ہیں

لیکن وہ ایک چھوٹے سے گھر میں مقیم ہیں اور سرکاری کار تک استعمال نہیں کرتیں۔ ایک ایسی قربانی ہے جس کے بغیر سماج اور ملک ترقی نہیں کرسکتے‘‘۔ ہزارے نے 4 ماہ قبل انہوں نے اپنے 17 نکاتی ایجنڈہ پر تمام سیاسی جماعتوں کو مکتوب روانہ کیا تھا لیکن صرف ممتابنرجی نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ اس سوال پر کہ آیا آپ اروند کجریوال اور بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی مخالفت کرتے ہیں، ہزارے نے جواب دیا کہ وہ ان دونوں کی نہ تو کوئی تائید کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی مخالفت کرتے ہیں۔ ہزارے نے کہا کہ ممتابنرجی کی طرف سے نامزد کئے جانے والے صاف ستھرے ریکارڈ کے حامل امیدواروں کی تائید میں وہ مہم چلائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ’’2014ء کے انتخابات میں دیدی جو بھی امیدوار نامزد کریں گی ہم ان کی تائیدکریں گے۔

TOPPOPULARRECENT