Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / وزارت عظمی قبول کرنے تیار ہوں‘ موقع دے کر دیکھیں ‘ کے سی آر 

وزارت عظمی قبول کرنے تیار ہوں‘ موقع دے کر دیکھیں ‘ کے سی آر 

 قومی سیاست میں تبدیلی ناگزیر ‘ ہم خیال جماعتوں سے بات چیت
 کانگریس اور بی جے پی کے بغیر تیسر ے محاذ کے قیام کی کوششیں
 وزیر اعظم مودی میرے اچھے دوست ‘ نازیبا ریمارکس کی تردید ‘ چیف منسٹر
حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کا واضح طور پر اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاست میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے علاقائی اور دیگر قومی جماعتوں کے ساتھ تیسرے محاذ کے قیام کے امکانات کو مسترد نہیں کیا۔ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ آزادی کے 70 سال گزرنے کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ لہذا موجودہ سیاسی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بعض پارٹیوں سے بات چیت کی ہے اور کانگریس اور بی جے پی کے متبادل کی تلاش پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسرا یا جو کوئی بھی محاذ ہوگا وہ بی جے پی اور کانگریس کے بغیر ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام میں تبدیلی کیلئے عوام میں تبدیلی ضروری ہے جس کے بعد سیاسی جماعتیں بھی اسی سمت میں گامزن ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کانگریس اور بی جے پی کو ایک ہی سکہ کے دو رُخ قرار دیا اور کہا کہ اگر موجودہ حکومت کو تبدیل کیا جاتا ہے تو کانگریس برسراقتدار آئے گی اور حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ اسکیمات کے نام تبدیل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ عوام کے مفاد میں کام کرنے والی جماعتیں متحد ہوں۔ انہوں نے غیر کانگریس اور غیر بی جے پی محاذ کی تیاری کیلئے نئی دہلی جانے اور مختلف پارٹیوں سے بات چیت کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ جو کچھ بھی مساعی کریں گے وہ کسی سے مخفی نہیں رہے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے اس بارے میں کہنے کے بعد ہی وہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں  چیف منسٹر نے کہا کہ کیا کے سی آر کو ملک و قوم کیلئے کام کرنے کا حق نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے عہدہ کے بارے میں پوچھے جانے پر کے سی آر نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر یہ عہدہ کیوں نہیں؟ کیا میں اس کی اہلیت نہیں رکھتا ، مجھے انگلش اور ہندی زبانیں آتی ہیں۔ ایک بار موقع دے کر تو دیکھیں، میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کروں گا۔ کے سی آر نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام عوامی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی کیلئے ہم خیال جماعتوں سے بات چیت کروں گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کی مسائل کی بنیاد پر تائید
کی گئی۔ جو مسائل عوام کے حق میں محسوس کئے گئے ان کی ہم نے تائید کی۔ ٹی آر ایس کبھی بھی این ڈی اے کا حصہ نہیں رہی۔ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ جب حالات بنتے ہیں تو قیادت خود بخود اُبھرتی ہے۔ تلنگانہ کی ضرورت محسوس کی گئی تو کے سی آر کی قیادت اُبھر کر آئی۔ اسی طرح قومی سطح پر بھی کوئی نہ کوئی قیادت ضرور اُبھریگی۔ انہوں نے کہا کہ متبادل کس انداز کا ہوگا اس کا تعین ہم خیال جماعتوں سے مذاکرات کے بعد ہی ہوگا۔ جن پارٹیوں سے میری گفتگو ہوئی ان کا ایک ہی سوال تھا کہ دونوں کا متبادل کیسا ہو۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی عمر 64 برس کی ہے اور وہ عمر کے باقی حصہ کو ضرورت پڑنے پر ملک کی خدمت میں وقف کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال کا عرصہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، صرف 6 سال مخلوط حکومتوںکا دور رہا ۔ باقی کانگریس اور بی جے پی نے ملک پر حکومت کی۔ 70 سال بعد بھی ہر گاؤں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے کیا یہ سچائی نہیں ہے۔ کسانوں کے مسائل اور دیگر مسائل کے سلسلہ میں کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں اُن کے بعض ریمارکس پر بی جے پی کے اعتراض اور تنقیدوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نریندر مودی کا احترام کرتے ہیں، وہ ہمارے معزز وزیر اعظم ہیں اور میرے اچھے دوست بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں باہم اچھے دوست ہیں لیکن درمیان میں لوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر میں تقریر کے دوران انہوں نے کوئی بھی غیر پارلیمانی لفظ وزیر اعظم کے تعلق سے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے واضح انداز میں ’ گارو ‘ کہا تھا لیکن اسے توڑ مروڑ کر پیش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر میں 70 منٹ تک انہوں نے تقریر کی لیکن بی جے پی صرف ایک جملہ پر ہنگامہ کررہی ہے جبکہ کسانوں کے مسائل پر انہوں نے جو کہا اس پر خاموش ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ نریندر مودی کے خلاف نہیں ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بہت سے اُمور پر گفتگو ہوتی ہے جس کا وہ اعتراف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں جب وہ دانتوں کے علاج کیلئے دہلی میں تھے انہوں نے مودی سے ملاقات کیلئے وقت پوچھا لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ نریندر مودی حکومت کے نہیں بلکہ ملک کی سُست رفتار ترقی کے خلاف ہیں۔
TOPPOPULARRECENT