Monday , September 24 2018
Home / دنیا / وزارت عظمی کیلئے نوری المالکی کی کوششوں کو ایران کی تائید

وزارت عظمی کیلئے نوری المالکی کی کوششوں کو ایران کی تائید

تہران 6 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران نے آج کہا کہ وہ عراق کے وزیر اعظم کی حیثیت سے برقرار رہنے نوری المالکی کی کوششوں کا حامی ہے تاہم اس نے کہا کہ وہ عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کئے جانے والے کسی دوسرے لیڈر کی تائید بھی کرنے تیار ہے ۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ نوری المالکی کے اتحاد کو گذشتہ انتخابات م

تہران 6 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران نے آج کہا کہ وہ عراق کے وزیر اعظم کی حیثیت سے برقرار رہنے نوری المالکی کی کوششوں کا حامی ہے تاہم اس نے کہا کہ وہ عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کئے جانے والے کسی دوسرے لیڈر کی تائید بھی کرنے تیار ہے ۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ نوری المالکی کے اتحاد کو گذشتہ انتخابات میں اول مقام حاصل ہوا ہے اور عراق میں پارلیمنٹ کی تائید سے جو کوئی بھی فیصلہ کیا جائیگا ایران اس کی تائید کریگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسٹر مالکی وزیر اعظم منتخب ہوتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرینگے ۔ اگر کسی اور شخص کو پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کیا جاتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران اس کی بھی تائید کریگی ۔

یہ عراق کا بالکل داخلی معاملہ ہے ۔ عراقی پارلیمنٹ کا منگل کے دن اجلاس ہونے والا ہے جس میں ایک اسپیکر کے علاوہ صدر اور وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں آسکتا ہے ۔ نوری المالکی 2006 سے وزیر اعظم ہیں اور گذشتہ ہفتے انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ تیسری معیاد کیلئے بھی اپنی امیدواری سے دستبردار نہیں ہونگے جبکہ وہاں مذہبی طبقہ ان کی تائید سے گریزاں ہے اور اس کا الزام ہے کہ وہ شیعہ اکثریت والے اس ملک کو مسلی تشدد کی سمت جھونک رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ تخریب کاروں کے مقابلہ کیلئے عراق کو مشورہ اور مدد بھی دینے کو تیار ہے ۔ اس گروپ نے اب اسلامی خلافت کا اعلان کردیا ہے ۔ مملکت اسلامی کے عسکریت پسندوں نے گذشتہ مہینے عراق میں وسیع علاقہ پر اپنا کنٹرول کرلیا ہے اور انہوں نے وہاں اپنی خلافت کا اعلان کردیا ہے ۔ عسکریت پسندوں کی کارروائی میں کئی مقامات سے عراقی افواج نے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ اور اس کارروائی کے نتیجہ میں کرد قائدین کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ کرد قائدین اب اپنے خود مختار شمالی علاقہ میں آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نائب وزیر خارجہ ایران نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے عراق کو منتشر کردینے کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے کا موقع فراہم نہیں کریگا اور نہ اس علاقہ کے تعلق سے اسرائیل کے عزائم پورے ہونے دئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران اے عراق کے کرد قائدین کو بھی علیحدگی پسندی کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا کہ یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔ انہوں نے امریکہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ یہاں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران عراق کے حالات کے تعلق سے امریکہ کا رول مشتبہ ہی رہا ہے ۔ ہمیں عراق کے تعلق سے امریکہ کے ساتھ کسی طرح کے مذاکرات کی یا مل کر کام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقہ بشمول شام اور عراق کے تعلق سے سعودی عرب کا رول بھی مثبت نہیں رہا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT