Monday , July 23 2018
Home / ہندوستان / وزارت ِپٹرولیم اور دہلی حکومت پر سپریم کورٹ ناراض

وزارت ِپٹرولیم اور دہلی حکومت پر سپریم کورٹ ناراض

25 ہزار اور ایک لاکھ روپئے بالترتیب جرمانہ عائد ، تساہلی چھوڑنے وزارت اور حکومت کو ہدایت
نئی دہلی ۔10 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے پیر کو وزارت پٹرولیم کی زبردست کھنچائی کرتے ہوئے کہ اُس نے سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی کیوں نہیں کی ، کہا کہ کیا وہ اپنے آپ کو ’’خدا‘‘ یا ’’سوپرحکومت‘‘ سمجھتے ہیں ؟ وزارت پٹرولیم پر احکامات کی پابجائی میں تساہلی پر 25 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل بنچ نے وزارت پٹرولیم اورقدرتی گیس پر اپنا غصہ ظاہر کیا جبکہ اُنھوں نے سپریم کورٹ کو اطلاع دی کہ انھوں نے وزارت ماحولیات ، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کو پیٹ کوکٹ پر عائد درآمد امتناع کے سلسلہ میں اتوار کو ہی بتایا گیا تھا ، سخت غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا ، وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس اپنے آپ کو ’سوپرحکومت‘ سمجھتے ہیں ؟ کیا یہ وزارت ، حکومت ہند کے تحت نہیں ہے ؟ اور اس وزارت کی اصل حیثیت کیا ہے ؟ اور وہ کیوں سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی نہیں کررہی ہے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو ’خدا‘ سمجھتے ہیں ؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب من چاہے گا جواب دیں گے ورنہ نہیں ؟ ، ان سے کہیے گا وہ اپنی وزارت کا نام بدل کر ’گاڈ‘ رکھ لیں‘‘۔ بنچ نے اپنے شدید جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے یہ تمام باتیں کہیں۔ بنچ نے مزید اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت پٹرولیم کیا ہمیں اپنے رحم و کرم پر سمجھتی ہے کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججس بیکار و فارغ ہیں، وہ انھیں مزید وقت دیں گے ؟ ’’ہمیں اس بات پر حیرت ہیکہ وزارت پٹرولیم ، وزارت ماحولیات سے بات چیت کرنے میں اپنی مرضی کا وقت لے رہی ہے ۔ یہ کھلے طورپر وزارت پٹرولیم کی تساہلی ہے ‘‘ ۔ بنچ نے اس احساس کا اظہار کرتے ہوئے وزارت پٹرولیم پر 25 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا اور اسے 13 جولائی یا اس سے قبل ’’سپریم کورٹ لیگل سرویس اتھاریٹی‘‘ کے پاس جمع کروایا جائے ۔ سپریم کورٹ بنچ نے وزارت پٹرولیم کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بالا جرمانہ جمع نہ کروانے کی ضرورت میں اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں بنچ نے دہلی حکومت پر ٹریفک اژدہام والے کئی کاریڈورس کی برخواستگی کی ٹائم لائین میں ’’اسٹیٹس رپورٹ‘‘ داخل نہ کرنے پر ’’ایک لاکھ روپئے ‘‘ کا جرمانہ عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT