Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / وزراء اردو مترجم سے محروم، اردو طبقہ دشواری کا شکار: جناب زاہد علی خان

وزراء اردو مترجم سے محروم، اردو طبقہ دشواری کا شکار: جناب زاہد علی خان

اقلیتی اقامتی اسکولس میں فن خطاطی کورس، اردو عالمی کانفرنس کی تجاویز : محمد محمود علی
سالارجنگ میوزیم میں این سی پی یو ایل کی خطاطی نمائش و تربیتی پروگرام کا افتتاحی تقریب میں خطاب
حیدرآباد۔5نومبر(سیاست نیوز) مدیر اعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان نے فن خطاطی کے فروغ کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کو ضروری قراردیتے ہوئے کہاکہ شہر حیدرآبادکا شمار دنیا کے ان ممالک میںہے جہاں پر اُردو زبان کے فروغ کی جدوجہد پورے زور شور کے ساتھ کی جاتی ہے مگر حکومتی سطح پر بھی اُردو زبان کا فروغ ہماری لسانی تہذیب کو پروان چڑھانے میںمعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ آج یہاں سالار جنگ میوزیم میں قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نئی دہلی کے زیر اہتمام منعقدہ خطاطی نمائش وتربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب زاہد علی خان نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میں اُردو کودوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے باوجود اسکے کسی بھی وزیرکے پاس اُردو مترجم نہ ہونے کی وجہہ سے اُردو داں طبقے کو کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ جناب زاہدعلی خان نے فن خطاطی کے ماہرین کی زبوں حالی پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ اس عظیم پیشے سے وابستہ ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وہ آج کسم پرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔انہوں نے مکثر شاہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ بیماری کی حالت میںانہیں نمس اسپتال میں علاج کے لئے بیڈتک مہیا نہیںکیاگیا تھا ‘ مگر ہماری پہل اور نمائندگی کے بعد انہیں بیڈ فراہم کیاگیا ۔جناب زاہد علی خان نے ماہر فن خطاط نعیم صابری کا بھی حوالہ دیا جو علیل ہیں او رکہاکہ ایسے ماہرین کی حکومتی سطح پر پشت پناہی ضروری ہے تاکہ فن خطاطی کو فروغ مل سکے ۔انہوں نے فن خطاطی کے نمونوں کو خرید کر مذکورہ پیشہ سے وابستہ افراد کی مالی مدد کرنے کی بھی عوام سے اپیل کی ۔جناب زاہد علی خان نے کہاکہ ادارہ سیاست کی جانب سے شکاگو میں بھی فن خطاطی کے نمونوں کی نمائش کا اہتمام کیاگیا تھا۔ انہوں نے ادارہ سیاست کی جانب سے فن خطاطی کو فروغ دینے کے لئے کی جانے والی پہل کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’سیاست ‘ نے اب تک دیڑھ کروڑ روپئے خطاطی کے فروغ کے لئے خرچ کئے ہیں تاکہ اس عظیم فن کو محفوظ کیا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ چھ ہزارسے زائد فن خطاطی کے نمونے ادارہ سیاست میںمحفوظ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ادارہ ادبیات اُردو میں بھی خطاطی کے کئی نایاب نمونے موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔جناب زاہد علی خان نے اُردو کے متعلق کی جانے والی بدگمانیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اُردوآج کے جدید دور میںبھی کافی مقبول ہے ۔ ادارہ سیاست کی ویب سائیڈ دنیا کے تین ہزارپانچ سو شہروں کے لوگ اُردو اخبار کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے سرکاری طور پر اُردو کی سرپرستی کو ضروری قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ اُردو کی بقاء اور فروغ کی تحریکیں اپنی جگہ ہیںمگر حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ دوسری سرکاری زبان کا درجہ رکھنے والی اُردو کو سرکاری دفاتر میںبھی رائج کرے تاکہ اُردو داں طبقے کو درپیش مسائل دور کئے جاسکیں۔ جناب زاہدعلی خان نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی اُردو دانی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ریاست کے تمام محکموں میں بھی اُردو کے مترجم کا تقرر عمل میںلاتے ہوئے حکومت تلنگانہ ریاست میں اُردو زبان کو اس کا کھویاہوا مقام فراہم کریگی۔نائب وزیراعلی تلنگانہ ریاست الحاج محمد محمودعلی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اُردو زبان کی ترقی وترویج کے لئے بجٹ میںاضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کا شمار اُردو دانوں میں ہوتا ہے اور وہ اُردو زبان اور اُردو داں طبقہ کی فلاح وبہبود کے لئے سنجیدہ اقدامات بھی کررہے ہیں ۔ جناب محمد محمودعلی نے کہاکہ اسی وجہہ سے انہیںہندوستان کے نمبرون چیف منسٹر کے اعزاز سے نوازا گیا اور ریاست تلنگانہ کوفلاحی ریاست قراردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی قوم کی بدحالی کو تعلیم سے دور کیاجاسکتا ہے اور یہی وجہہ ہے کہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو بھی تلنگانہ میںمسلمانوں کے ماضی کا احیاء عمل میںلانے کے لئے انہیںزیور تعلیم سے آراستہ کرنے کاکام کررہے ہیں۔ جناب محمدمحمودعلی نے بتایا کہ اقلیتوں کے لئے اقامتی اسکولس کا قیام اسی مقصد سے عمل میںلایاجارہا ہے کہ دیگر طبقات کے ساتھ مسلم اقلیت کوبھی تعلیم یافتہ بنایا جاسکے۔ انہوں نے فن خطاطی کے فروغ میںادارہ سیاست کی کاوشو ں کی ستائش کی او رکہاکہ حکومت تلنگانہ تمام اقامتی اسکولس میں فن خطاطی کو نصاب میںشامل کرتے ہوئے فن خطاطی سے وابستہ افراد کا شعبہ درس وتدریس میں تقرر عمل میںلایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت تلنگانہ پانچ سو اقامتی اسکولس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جہاں پر مستقبل میں فن خطاطی سے وابستہ افراد کی ضرورت پڑے گی۔جناب محمد محمودعلی نے حکومت تلنگانہ کے زیراہتمام عالمی اُردو کانفرنس کے انعقاد کا بھی اعلان کیا او رکہاکہ بہت جلد اس اعلان کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ جناب محمد محمود علی نے کہاکہ اُردو میوزیم کے متعلق جگہ کی نشاندہی کے بعد یہ بجٹ فوری طور پر جاری کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر سالار جنگ میوزیم کے کسی حصہ میں اُردو میوزیم کی تعمیر کی تجویز سامنے آتی ہے تو وہ حکومتی سطح پر مرکز سے نمائندگی بھی کریں گے ۔جناب محمد محمودعلی نے قومی یوم تعلیم کے موقع پر فن خطاطی کے ماہرین میں کارنامہ حیات ایوارڈ کی تقسیم کا بھی اعلان کیا۔ پروفیسرارتضاء کریم ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان ‘ پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری اُردو اکیڈیمی‘ جناب احمد علی نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔ بعدازاں جناب محمد محمودعلی کے ہاتھوں خطاطی نمائش او رتربیتی پروگرام کا افتتاح عمل میںلایاگیا۔اس موقع پر منتظمین تقریب کی جانب سے تمام مہمانوں کو تہنیت پیش کی گئی۔پروفیسر بیگ احساس کے علاوہ شہر حیدرآباد کی دیگر معزز شخصتیں اور خطاطی کے شائقین کی کثیرتعداد اس تقریب میںموجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT