Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / وزراء کی 34فیصد تعداد کو فوجداری مقدمات کا سامنا

وزراء کی 34فیصد تعداد کو فوجداری مقدمات کا سامنا

76فیصد تعداد کروڑپتی ‘ آندھراپردیش سرفہرست ‘ 51خاتون وزراء بھی شامل
نئی دہلی ۔7اگست ( سیاست ڈاٹ کام) ریاستوں میں وزراء کی 34فیصد تعداد کے خلاف فوجداری مقدمات زیرالتواء ہیں ۔ جب کہ 76فیصد تعداد کروڑپتیوں کی ہے جن کے اثاثہ جات کی مالیت اوسطاً 8.59 کروڑ روپئے ہیں ۔ ایک نئی تحقیق کے بموجب 620میں سے جملہ 88 وزراء نے اپنے اثاثہ جات کا اعلان کیا ہے ۔ 29 ریاستی اسمبلیوں اور دو مرکز زیر انتظام علاقوں میں جمہوری اصلاحات کے دوران تجزیہ کیا گیا ۔ پتہ چلا کہ وزراء کے زیادہ تر اثاثہ جات تلگودیشم پارٹی کے سری نارائنا ( 496 کروڑ روپئے مالیتی اثاثے ) ‘ دوسرے مقام پر کانگریس کے ڈی کے شیوا کمار (251 کروڑ روپئے مالیتی اثاثے ) رکھتے ہیں ۔ 680 ریاستی وزراء میں سے 210 یعنی 34فیصد وزراء کے خلاف فوجداری مقدمے زیرالتواء ہیں ۔ مرکز کے 78میں سے 24 یعنی 31فیصد وزراء کے خلاف فوجداری مقدمے زیردوران ہے ۔ جن وزراء کو سنگین فوجداری مقدمات بشمول جھارکھنڈ کے 9 ‘ دہلی کے 4 ‘ تلنگانہ کے 9 ‘ مہاراشٹرا کے 18 ‘ بہار کے 11اور اتراکھنڈ کے 2وزراء شامل ہیں ۔ اوسط اثاثہ جات کی ریاستی وزیر 8.59 کروڑ روپئے مالیتی ہیں ۔ مرکزی وزراء کے اثاثہ جات اس کے مقابلہ میں اوسطاً 12.94 کروڑ روپئے مالیتی ہیں ۔ ریاست آندھراپردیش بلند ترین اوسط اثاثہ جات کی قیمت فی وزیر کے حساب سے آندھراپردیش 20وزراء کے ساتھ سرفہرست ہے ۔ ان کے اثاثہ جات اوسطاً 45.49کروڑ روپئے ہیں ۔ اروناچل پردیش کے 7وزراء کے اثاثہ جات کی اوسط قیمت 36.96 کروڑ روپئے ہے ۔ ریاست تریپورہ میں سب سے کم مالیتی اثاثہ جات وزراء کے پاس ہیں ۔ یہاں کے 12وزرا کے اثاثہ جات کی اوسط قیمت 32.62 کروڑ روپئے ہے ۔ جب کہ تمام ریاستوں کے اثاثہ جات کی اوسط مالیت وزراء کیلئے 31.67 لاکھ روپئے ہے ۔ 609وزراء میں سے 51 خاتون وزراء ہیں ۔ سب سے زیادہ مدھیہ پردیش میں ہیں ۔ دوسرے مقام پر ٹاملناڈو ہے ۔

TOPPOPULARRECENT