Saturday , December 15 2018

وزیراعظم ،امریکی کانگریس سے خطاب نہیں کریں گے

واشنگٹن 14 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی امریکی کانگریس سے آئندہ سپٹمبر کے اواخر میں خطاب نہیں کریں گے تاہم صدر امریکہ بارک اوباما سے اُن کی ایک منی چوٹی کانفرنس مقرر ہے۔ واشنگٹن سے ارکان مقننہ نومبر کے کانگریس انتخابات سے قبل ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر جان بیہنر نے نریندر مودی کو مدعو کیا تھا۔ وہ اُن کا استقبال

واشنگٹن 14 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی امریکی کانگریس سے آئندہ سپٹمبر کے اواخر میں خطاب نہیں کریں گے تاہم صدر امریکہ بارک اوباما سے اُن کی ایک منی چوٹی کانفرنس مقرر ہے۔ واشنگٹن سے ارکان مقننہ نومبر کے کانگریس انتخابات سے قبل ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر جان بیہنر نے نریندر مودی کو مدعو کیا تھا۔ وہ اُن کا استقبال کرسکیں گے۔ 30 جولائی کے مکتوب میں بیہنر نے مودی سے کہا تھا کہ وہ اُنھیں مکتوب اِس مقصد سے روانہ کررہے ہیں کیونکہ امریکہ کے ایوان نمائندگان کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے آئندہ کسی بھی تاریخ پر مودی کے خطاب سے گہری دلچسپی ہے۔ جاریہ سال سپٹمبر کے اواخر میں ایوان نمائندگان کا پروگرام ناقابل قیاس ہے۔ مودی کو دعوت دی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کے اپنے دورہ کے موقع پر مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں۔ بیہنر نے کہا تھا کہ اُنھیں امریکہ کے دارالحکومت کے مودی کے امکانی دورہ سے بہت زیادہ دلچسپی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی کانگریس کا مشترکہ اجلاس آپ کے سفر سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دے۔ گزشتہ دو وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ دونوں ایوان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں۔ امریکی کانگریس کا یہ اعلیٰ ترین اعزاز تھا جو کسی دوسرے سربراہ حکومت کو دیا گیا تھا۔ مودی کو دعوت کی توثیق 8 علیحدہ مکتوبات سے ہوئی تھی جو ایوان نمائندگان اور سنیٹ میں گشت کروائے گئے تھے جن میں امریکی کانگریس سے خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ اِس طرح 2005 ء میں امریکہ کا ویزا مودی کو 2002 ء کے گجرات فسادات کے دوران بے عملی کی وجہ سے نہ دیئے جانے کا ازالہ بھی ہوتا تھا۔ حکومت امریکہ ، ہند ۔ امریکہ تعلقات میں بہتری کی خواہاں ہے لیکن یہ بھی نہیں چاہتی کہ اِس سلسلہ میں کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے۔ بیہنر نے مکتوب کے بارے میں کسی بھی قسم کی افواہوں کا انسداد کرتے ہوئے خارجہ پالیسی تیار کرنے والوں میں ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ امریکہ ۔ ہند سیاسی کارروائی کمیٹی جو 2 ماہ طویل مہم چلاتے ہوئے بیہنر پر زور دے رہی تھی کہ مودی کو مودی کیا جائے کیونکہ اُن کے خیال میں اِس سے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے تھے۔ اب اُن کے تاریخی خطاب سے محروم ہونے پر مایوسی کا اظہار کررہی ہے۔ ایوان کی خارجہ اُمور کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن براڈ شیرمن اور دیگر 87 ارکان نے تاہم اِس ہفتہ ایوان کی قیادت پر زور دیا تھا کہ اُن 29 سپٹمبر سے 2 اکٹوبر تک امریکی کانگریس کا اجلاس جاری رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT