Saturday , November 25 2017
Home / دنیا / وزیراعظم آسٹریلیاٹونی اباٹ برخواست

وزیراعظم آسٹریلیاٹونی اباٹ برخواست

پارٹی میں داخلی چیلنج کا نتیجہ ‘ رائے دہی میں 54مخالف اور 44 تائید میں
کینبرا۔14ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی اباٹ آج ڈرامائی انداز میں اقتدار سے بے دخل کردیئے گئے ۔ اُن کی حریف میلکم ٹرنبل نے پارٹی میں داخلی رائے دہی کے موقع پر جب کہ دو سال کے عرصہ میں قدامت پسندوں کی حکومت کی عدم مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا ۔ عجلت میں کل رات پارٹی کی قیادت نے ایک رائے دہی منعقد کی جس میں 57سالہ اباٹ جو اوپینین پولس میںکمزور نتائج کی وجہ سے پریشان تھے صرف 44ووٹ حاصل کرسکے ۔ جب کہ ان کے حریف میلکم ٹرنبل کو 54ووٹ حاصل ہوئے ۔ ٹرنبل کی کامیابی سابق وزیراعظم جولیا گیلارڈ کی بغاوت کا اعادہ ہے جو انہوں نے 2010ء میں وزیراعظم کیوین روٹ کے خلاف کی تھی اور سابق وزیر  مواصلات سے آسٹریلیا کی پانچویں وزیراعظم صرف پانچ سال کے عرصہ میں بن گئی تھیں ۔ لبرل ارکان پارلیمنٹ نے بھی جولی بشپ کو پارٹی کی ڈپٹی لیڈر کی حیثیت سے منتخب کرلیا ۔ 60سالہ ٹرنبل توقع ہے کہ اباٹ کے گورنر جنرل کو مکتوب کی روانگی اور استعفیٰ پیش کرنے کے بعد تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے ۔ ٹرنبل ملک کے 29ویں وزیراعظم ہوں گے ۔ انہوں نے آج دوپہر کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ۔ وقفہ سوالات کے دوارن اباٹ سے انہوں نے کہا کہ وہ قیادت کیلئے انہیں چیلنج کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ملک کی ضروریات کیلئے معاشی قیادت فراہم کرنے سے قاصر ہیں ۔ ٹرنبل نے کہا کہ اُن پر مسلسل دباؤ پڑرہاہے کہ اپنا نام پیش کریں ۔ اب یہ فیصلہ صرف یہ نہیں ہے کہ اسے سرسری طور پر قبول کرلیا جائے ۔ انہوں نے کئی ساتھیوں سے اور کئی آسٹریلیائی شہریوں سے مشاورت کی ہے ۔ ہر شعبہ ہائے حیات میں اپنے حامیوں سے بات چیت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لائحہ عمل طویل مدت سے کئی افراد سے مشاورت کے بعد طئے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کافی واضح ہے کہ حکومت معاشی قیادت فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔حالانکہ ہمیںاس کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT