Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم اور بی جے پی انتشار کی حکمت عملی پر عمل پیرا

وزیراعظم اور بی جے پی انتشار کی حکمت عملی پر عمل پیرا

مودی تو ’’تاریخ ‘‘ رکھتے ہیں ۔ دادری قتل میں ’’بی جے پی کے لوگ‘‘ ملوث ۔ راہول گاندھی کا الزام

مانڈیا؍ بنگلورو، 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پر لفظی حملے میں شدت پیدا کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج انھیں اور بی جے پی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے کی ’’حکمت عملی‘‘ کے ذریعے ’’ملک کو منتشر‘‘ کردینے کا مورد الزام ٹھہرایا جبکہ یہ ریمارک بھی کیا کہ نریندر مودی ایک ’’تاریخ‘‘ رکھتے ہیں۔ راہول نے الزام عائد کیا کہ دادری قتل واقعہ میں ’’بی جے پی کے لوگ‘‘ ملوث ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے مودی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ (وزیراعظم) ایسا نہیں لگتا کہ اپنی پارٹی پر لگام لگانا چاہتے ہیں جو ’’بالکلیہ مختلف انداز‘‘ میں کام کررہی ہے۔ وہ مانڈیا میں حال میں قرض سے بدحال دو کسانوں کی خودکشی کے پیش نظر متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اور وزیراعظم نے ہندوئوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑادیا ہے۔ ہر الیکشن میں اسی طرح صف بندی ہوتی ہے، فسادات ہوتے ہیں۔ بی جے پی کے کارکن دادری واقعہ میں بھی ملوث ہوئے اور مودی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی باتیں کررہے ہیں۔ راہول نے مودی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھتے ہوئے بعد میں بنگلورو میں بھی کانگریس گرام پنچایت ممبرز کی کانفرنس میں وزیراعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ پی ایم او سے اور چند بیوروکریٹس کی مدد سے اس ملک ’’کا کام کاج چلا رہے ہیں‘‘ اور پارٹی ایم پیز کو اپنی رائے پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دے رہے ہیں۔ ’’مودی کی سوچ مختلف ہے لیکن میں نہایت مدلل نکتہ بیان کردینا چاہتا ہوں کہ یہ ملک (صرف) دفتر وزیراعظم سے اور بیوروکریٹس کی مدد کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ نائب صدر کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم کو خود اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ملک کے کسانوں کی مدد کرنا چاہئے۔ سابقہ یو پی اے حکومت کی کارکردگی کا موجودہ حکومت کی کارکردگی سے تقابل کرتے ہوئے راہول نے کہاکہ کانگریس زیر قیادت حکومت نے کاشتکاروں کے 70 ہزار کروڑ روپئے کے قرضہ جات معاف کردیئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT