Wednesday , November 14 2018
Home / Top Stories / وزیراعظم ملائیشیاء مہاتر محمد سے ذاکر نائیک کی ملاقات

وزیراعظم ملائیشیاء مہاتر محمد سے ذاکر نائیک کی ملاقات

متنازعہ مبلغ کو ہندوستان کے حوالہ نہ کرنے وزیراعظم کے فیصلہ کوحکمراں جماعت کی تائید
کوالالمپور ۔9 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) ملائیشیاء کے وزیراعظم مہاتر محمد نے مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں اور رقمی ہیر پھیر کے ضمن میں ہندوستان کو مطلوب ذاکر نائیک سے ملاقات کی اور ان کی حکمراں پارٹی کے ایک پالیسی ساز نے متنازعہ مبلغ کوملک بدرنہ کرنے حکومت کے فیصلہ کی پرزور مدافعت کی ہے ۔ وزیراعظم مہاتر محمد نے مستقل سکونت کی اجازت کے حامل ذاکر نائیک کو ملک بدر کرنے سے انکار کردیا تھا اور دوسرے دن ان سے ملاقات کی تھی ۔ اس ملاقات کو ہندوستان میں ٹھیک نہیں سمجھا جائے گا ۔ ’ فری ملائیشیاء ٹوڈے ‘ نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ’’ میں توثیق کرسکتا ہوں کہ نائیک آج (ہفتہ کی ) صبح اُن( مہاتر) سے ملاقات کے لئے گئے تھے لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نائیک نے مہاتر سے کس مسئلہ پر بات چیت کی ۔ حکمراں جماعت پکاتان ہراپن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی ۔باخبر ذرائع نے کہا کہ یہ غیر مقررہ اور اچانک ملاقات تھی جو محتصر رہی ۔ اس ملاقات سے ایک دن قبل وزیراعظم مہاتر نے یہ واضح ترین اشارہ دے دیاتھا کہ حکومت ملائیشیاء ‘ نائیک کو ملک بدر نہیں کرے گی جو دہشت گردی اور رقمی ہیر پھیر کے الزامات پر ہندوستان کو مطلوب ہیں ۔ وزارت خارجہ نے چہارشنبہ کو توثیق کی تھی کہ نائیک کی حوالگی کیلئے جنوری میں ملائیشیا سے سرکاری طور پر درخواست کی گئی ہے ۔ جس کے بعد ہندوستانی میڈیا میں شدت کے ساتھ یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ ہندوستان کی درخواست پر حکومت ملائیشیاء جلد کارروائی کرے گی لیکن گذشتہ روز مہاتر محمد کی طرف سے کی گئی وضاحت کے بعد یہ قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں ۔اس دوران حکمراں پی پی بی ایم پارٹی کے ایک پالیسی ساز رئیس حسین نے کہا کہ ان ( نائیک) کی حوالگی دراصل اوئیغور مسلمانوں کی چین کی حوالگی کے مترادف ہوگی ۔ رئیس حسین دراصل یہ حوالہ دے رہے تھی کہ چین بھی 11اوئیغور مسلمانوں کی چین کو حوالگی کے مترادف ہوگی ۔ رئیس حسین دراصل یہ حوالہ دے رہے تھی کہ چین بھی 11اوئیغور مسلمانوں کی حوالگی کیلئے ملائیشیا پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے جو گذشتہ سال تھائی لینڈ کی جیل سے ڈرامائی انداز میں فرار ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر ملائیشیا میں داخل ہوئے تھے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT