Saturday , August 18 2018
Home / Top Stories / وزیراعظم مودی ، چندرا بابو نائیڈو کی ناراضگی دور کرنے میں ناکام

وزیراعظم مودی ، چندرا بابو نائیڈو کی ناراضگی دور کرنے میں ناکام

٭ فون پر 10 منٹ تک بات چیت بے فیض، ٹی ڈی پی وزراء مستعفی
٭ جوابی کارروائی میں نائیڈو کا بینہ سے بی جے پی وزراء کا استعفیٰ

نئی دہلی ۔8مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے آندھراپردیش کے ناراض چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے فون پر بات چیت کی لیکن وہ نائیڈو کی ناراضگی دور کرنے میں ناکام رہے ۔ 10 منٹ تک ٹیلی فون پر بات چیت کے باوجود تلگودیشم کے دو مرکزی وزراء نے مودی کابینہ سے استعفیٰ دیدیا ۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے آندھراپردیش کو خصوصی موقف نہ دینے پر احتجاج کرتے ہوئے کل ہی تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور مرکز نے اپنے دو وزراء کو مودی کابینہ سے استعفیٰ دینے کی ہدایت دی تھی ۔ جوابی کارروائی کے طور پر نائیڈو کابینہ سے دو بی جے پی وزراء کے سرینواس راؤ اور پی مانیکیالاراؤ نے بھی استعفیٰ دیدیا ۔ وزیر شہری ہوا بازی اشوک گجپتی راجیو اور مملکتی وزیر سائینس و ٹکنالوجی وائی ایس چودھری آج شام وزیراعظم کی رہائش گاہ پہونچے اور اپنے مکتوب استعفیٰ حوالے کردیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں راضی کرانے کی آخری کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔ اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں وزراء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چندرا بابو نائیڈو نے کہا ہے کہ آندھراپردیش کے عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔ اب ان کی آرزوؤں کی تکمیل کیلئے ہم نے مرکز سے علحدگی اختیار کرلی ہے ۔ تاہم تلگودیشم قائدین نے کہا کہ ہم این ڈی اے کا حصہ رہیں گے ‘ مودی کابینہ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ ناگزیر حالات میںکیا گیا ہے ۔ تلگودیشم کے دو وزراء وائی ایس چودھری اور ان کے ساتھی اشوک گجپتی راجو نے اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن وہ این ڈی اے کاحصہ رہیں گے ۔ اس فیصلہ کو بدبختانہ اعلان قرار دیتے ہوئے چودھری نے جو مودی حکومت میں مملکتی وزیر سائنس و ٹکنالوجی تھے کہا کہ وہ اور گجپتی راجو آندھراپردیش کیلئے پارلیمنٹیرین کے طور پر کام کرتے رہیں گے ‘ گجپتی راجو وزیر شہری ہوا بازی تھے ۔

تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے کل رات اعلان کیا تھا کہ ان کے قائدین مودی کابینہ سے علحدہ ہوجائیں گے ۔ ان کا یہ فیصلہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کے اس بیان سے چند گھنٹوں بعد ہی سامنے آیا تھا کہ مرکز کی جانب سے آندھراپردیش کو کوئی خصوصی موقف نہیں دیا جاسکتا ‘ انہیں مساوی فنڈس کے ساتھ ایک خصوصی پیکیج کی پیشکش کی جائے گی ۔ وائی ایس چودھری نے کہا کہ ہم کو اس وقت خوشی ہوتی ہے جب شادیاں انجام پاتی ہیں ‘ طلاق کی صورت میں خوشی کہاں رہتی ہے ۔ یہ اچھا قدم نہیں ہے لیکن بدبختی کی بات ہے کہ ناگزیر حالات کے باعث یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے ۔

بی جے پی کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے ۔ جمہوریت کا حق تب ہی بھلا معلوم ہوتا ہے جب ہر ایک کے ساتھ انصاف کیا جائے اور یکساں برتاؤ کیا جائے ۔ جب بی جے پی ایک ذمہ دار موقف و مقام پر ہے تو اس کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت تھی ۔ کل رات ہی بی جے پی کے دو وزراء نے بھی آندھراپردیش حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا ‘ ریاستی اسمبلی میں چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو نے کہا تھا کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ان کی ریاست کیلئے جو کچھ وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف مالیاتی پیکیج کی پیشکش کی جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اب شمال مشرقی ریاستوں کا راج سنبھال رہی ہے ۔ آندھراپردیش کیلئے کچھ نہیں ۔ مرکز ان ریاستوں کیلئے صنعتی اقدامات کرنے جارہا ہے ‘ آندھراپردیش کیلئے کچھ نہیں ‘ آخر ایسا امتیازی سلوک کیوں ہورہا ہے ؟ ۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے مرکز پر الزام عائد کیا کہ اس نے آندھراپردیش کے ساتھ مبینہ طور پر امتیازی سلوک روا رکھا ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے فون کیا تھا لیکن ان کی کوشش رائیگاں گئیں ۔ یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے کہ این ڈی اے حکومت سے علحدہ ہونے کے فیصلہ سے انہیں واقف کروایا جائے لیکن مودی نے ان کے فون کو وصول نہیں کیا ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کل رات ہی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکز نے آندھراپردیش کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے کا عہد کیا تھا ‘ تلنگانہ کے قیام کے وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ آندھراپردیش کو راحت پہنچائی جائے گی ‘ چار سال قبل متحدہ آندھراپردیش سے تلنگانہ کو علحدہ کیا گیا تھا ۔ ارون جیٹلی نے آندھراپردیش کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا تھا کہ اسے مرکز کے وعدہ کے مطابق خصوصی موقف دیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT