Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / وزیراعظم مودی سے راہول اچانک بغلگیر، لوک سبھا میں اچنبھا

وزیراعظم مودی سے راہول اچانک بغلگیر، لوک سبھا میں اچنبھا

غیر متوقع خیرسگالی، ارکان حیرت زدہ٭ مودی نے مسکرا کر پیٹھ تھپتھپائی٭ کانگریس قائد کے جذبہ پر ہرسمرت کور کا اعتراض
نئی دہلی 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم اگرچہ پرجوش مصافحہ اور بغلگیری کے انداز کیلئے پہچانے جاتے ہیں لیکن ایک ایسی بغلگیری بھی ہوگئی جس کی شائد اُنھوں نے کوئی توقع بھی نہیں کی تھی۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے مختلف مسائل پر وزیراعظم مودی کو بشمول رفالے جٹ معاملت سخت ترین تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور خطاب کے اختتام کے بعد لوک سبھا کے وسط سے سبز قالین عبور کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کے قریب پہونچ گئے اور اُن سے بغلگیر ہوگئے۔ اس خیرسگالی جذبہ نے حکمراں بنچوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ مودی حکومت کے خلاف تلگودیشم پارٹی کی طرف سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر طوفانی بحث کے بعد راہول گاندھی کا یہ غیر متوقع خیرسگالی جذبہ دیکھا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً ٹیلی ویژن چیانلوں کا پسندیدہ ویڈیو کلپ بن گیا۔ راہول گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران انتہائی جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے خطاب کے دوران بی جے پی ارکان کے شوروغل اور وقفہ وقفہ سے رخنہ اندازی کے سبب اسپیکر سمترا مہاجن کو 15 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنا پڑا۔ تاہم کارروائی کے بحال ہوتے ہی راہول نے حکومت پر اپنے تنقیدی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اختتام سے عین قبل راہول گاندھی تیزی کے ساتھ وزیراعظم مودی کے قریب پہونچ گئے اور ان سے بغلگیر ہوگئے جس کا ویڈیو کلپ کچھ ہی دیر میں کافی مشہور و مقبول ہوگیا۔ راہول کا یہ ایک ایسا اچانک، غیر متوقع اور حیرت انگیز اقدام تھا کہ مودی ابتداء میں دم بخود اور اچنبھے میں نظر آئے اور ان سے بغلگیر ہونے کے لئے نہیں اُٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن بہت جلد خود کو سنبھال لیا اور راہول گاندھی کو واپس بلاتے ہوئے ان کی پیٹھ تھپکتے ہوئے اُنھیں شاباشی دی۔ وزیراعظم مودی اس موقع پر چند الفاظ ادا کرتے دیکھے گئے جو سنائی نہیں دیئے۔ اس منظر پر مودی کے بازو بیٹھے بی جے پی ارکان کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے جب مودی نے گاندھی پر مسکرادیا اور وہ (گاندھی) اپنی نشست کی طرف واپس لوٹ گئے اور نشست پر پہونچنے کے بعد کہاکہ ’’ہندو ہونے کے معنی و مطلب یہی ہوتا ہے‘‘۔ راہول کے اس ریمارک پر بشمول ان کی والدہ سونیا گاندھی اور دیگر سینئر قائدین، ان کی پارٹی کے ارکان نے میزیں تھپتھپاتے ہوئے خوشی اور ستائش کا اظہار کیا۔ راہول گاندھی نے جنھیں ’کانگریس مسلمانوں کی جماعت‘ ہونے سے متعلق اپنے ریمارکس پر مودی اور دیگر قائدین کی سخت مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا آج اس موقع پر جوابی وار کیا۔ راہول گاندھی نے کہاکہ ’وزیراعظم مودی اور بی جے پی نے مجھے سکھایا کہ ایک کانگریسی شخص کیا ہوتا ہے، ایک حقیقی ہندوستانی اور ایک حقیقی ہندو کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ اس (سکھانے کیلئے) میں اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔ راہول نے کہاکہ اپوزیشن چاہے اُن سے نفرت کریں یا ’پپو‘ کہیں لیکن وزیراعظم اور بی جے پی سے وہ غصہ یا نفرت نہیں کریں گے۔ غالباً یہ پہلا موقع ہے کوئی اپوزیشن لیڈر ایوان میں وزیراعظم سے بغلگیر ہوا ہو۔ اور وہ بھی بالخصوص تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ اکالی دل کی رہنما ہرسمراٹ کور اس واقعہ پر اپنی نشست سے اُٹھ گئیں اور وزیراعظم سے راہول گاندھی کے بغلگیر ہونے پر اعتراض کیا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی سادگی و بردباری کے ساتھ راہول گاندھی کو یاد دلایا کہ یہ ملک کا مقننہ ہے اور اس قسم کے جذبہ کے اظہار کا مقام نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT