Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / ’وزیراعظم مودی چوکیدار نہیں، رفالے معاملت کے شراکت دار ‘

’وزیراعظم مودی چوکیدار نہیں، رفالے معاملت کے شراکت دار ‘

بی جے پی و آر ایس ایس نفرت کے ایجنٹس ’جملہ‘ بی جے پی کا سیاسی ہتھیار، لوک سبھا میں راہول گاندھی کا خطاب
نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس صدر راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ملک کی حفاظت کرنے والے ’چوکیدار‘ نہیں ہیں بلکہ رفالے جٹ طیاروں کی معاملت میں رشوت کے شراکت دار (معاملتوں میں شریک حصہ دار) ہیں جبکہ عوام انکی شعبدہ بازی کے شکار و متاثرین ہیں۔ تلگودیشم کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر اپنے ایک گھنٹہ طویل خطاب میں این ڈی اے حکومت کے خلاف انتہائی جارحانہ تیور اپناتے ہوئے وزیراعظم مودی اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا لیکن خطاب کے اختتام پر لوک سبھا کے وسط میں موجود سبز قالین عبور کرکے وزیراعظم کی نشست تک پہنچے اور مودی سے بغلگیر ہوکر تمام ارکان کو اچنبھے میں ڈال دیا ۔ راہول کے خطاب کے دوران زعفرانی بنچوں کی طرف سے اس وقت پُرشور احتجاج کیا گیا جب انہوں نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آر ایس ایس، بی جے پی اور اس کے سرکردہ قائدین کو ’خوف و نفرت کے ایجنٹس‘ قرار دیا اور ایک کانگریسی، ایک ہندوستانی اور ایک ہندو کے معنی و مطلب سمجھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کانگریسی، ایک ہندوستانی اور ایک ہندو کی حیثیت سے وہ ان سے بھی صرف محبت ہی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے چین کے صدر سے کسی ایجنڈہ کے بغیر بات چیت کرکے ڈوکلم میں چینی فوج کے خلاف صف آراء ہندوستانی سپاہیوں کو دھوکہ دیا۔ راہول نے مودی پر رفالے دفاعی معاملت میں رشوت کا الزام عائد کیا جس پر اننت کمار نے الزام کا ثبوت طلب کیا جس پر گاندھی نے حکمراں بنچوں سے کہاکہ’’ڈرو مت، ڈرو مت، سچ سے ڈرو مت‘ اس مسئلہ پر ہنگامہ آرائی کے دوران اسپیکر سمترا مہاجن کو ایوان کی کارروائی 15 منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔ ایوان کی کارروائی کے دوبارہ آغاز پر راہول نے الزام عائد کیا کہ ’’وزیراعظم اور چند افراد کے مابین تعلقات کو ہر کوئی جانتا ہے۔ وزیراعظم کی مارکٹنگ پر لگائی جانے والی رقومات کے بارے میں ہر کوئی سمجھ سکتا ہے اور ہر کوئی جاننا چاہتا ہیکہ اس (تشہیر کیلئے) فنڈس کون دے رہا ہے۔ یہ ان افراد میں سے ہے جنہیں رفالے معاملت دی گئی ۔ معاملت کرنے والے اس آدمی کو 45000 کروڑ روپئے تک فائدہ پہنچا ہے‘‘۔ تحریک کی تائید کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ تلگودیشم اور اس جیسے کئی دوسرے بی جے پی کے اس سیاسی ہتھیار کا شکار ہوئے ہیں جس کو ’جملہ کا وار‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ 21 ویں صدی کے سیاسی ہتھیار کے شکار ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی ہتھیار ’جملے کا وار‘ ہے۔ آپ جیسے اس کے اور بھی کئی شکار ہیں ‘‘۔ کسان، نوجوان، دلت، قبائیلی اور خواتین بھی حکومت کے اس ہتھیار کے شکار و متاثرین بنے ہیں۔ راہول گاندھی نے بیروزگاری کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اس کو ’جملے کا دوسرا وار‘ دیا اور کہا کہ ہر سال 2 کروڑ ملازمتیں دینے کے وعدوں کے برخلاف صرف 4 لاکھ ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT