Monday , April 23 2018
Home / سیاسیات / وزیراعظم مودی کا اِس ہفتے دورۂ متحدہ عرب امارات، باہمی روابط کو تقویت

وزیراعظم مودی کا اِس ہفتے دورۂ متحدہ عرب امارات، باہمی روابط کو تقویت

ابوظہبی میں پہلی مندر مودی کے دورے کی اہم بات۔ متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندی تک لیجانے کی مساعی

دوبئی 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی اس ہفتے کے اواخر یو اے ای (متحدہ عرب امارات) کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جس کے تعلق سے حکام اور تجارتی سربراہوں کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے لئے اہم ترین موقع ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال قوم کے ساتھ اپنے روابط کو تقویت دی جائے اور اِس دورے سے سفارتی، معاشی اور سلامتی وسائل میں تعاون کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مودی 10 اور 11 فروری کو یو اے ای میں ہوں گے اور دوبئی میں منعقد شدنی چھٹی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کریں گے۔ یہ مودی کا یو اے ای کو دوسرا دورہ رہے گا۔ انھوں نے اِس ملک کا اگسٹ 2015 ء میں دورہ کیا تھا۔ ہندوستان کے سفیر برائے امارات نودیپ سنگھ سوری نے کہاکہ وزیراعظم مودی کا یو اے ای کو دوسرا دورہ خصوصی اہمیت کا عکاس ہے جو ہند ۔ یو اے ای رشتے میں پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ دورہ ایسا ردھم فروغ دے گا جو ہندوستان کی جانب سے 2017 ء میں یوم جمہوریہ پر ابوظہبی کے ولیعہد شیخ محمد بن زاید کی میزبانی کے بعد سے فروغ پایا ہے۔ باہمی مصروفیات کے علاوہ وزیراعظم مودی دوبئی اوپرا ہاؤس میں ہندوستانی برادری کے ارکان سے خطاب بھی کریں گے۔ سوری نے کہاکہ اِس سال کے دوران ہم نے ہندوستان میں یو اے ای کی طرف سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھی ہے، دفاعی اور سلامتی تعاون میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا اور توانائی کے شعبے میں خریدار اور فروخت کنندے کے رشتے سے آگے بڑھ کر اسٹراٹیجک پارٹنرشپ تک فروغ بھی ہوا ہے۔ جہاں تک ہندوستانی کمیونٹی کا معاملہ ہے ابوظہبی میں پہلی مندر بھی بڑی خبر رہے گی۔ ہندوستانی سفیر کے احساسات سے اتفاق کرتے ہوئے یو اے ای کے سفیر برائے ہند احمد البنا نے کہاکہ اِس دورے سے ہمیں وہ سمت معلوم ہوتی ہے جو ہندوستان اور یو اے ای نے طے کر رکھی ہے اور ہماری متعلقہ قیادتوں کے کردار کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ امارات کی قیادت نے ایک چیلنج بھری اور دلچسپ راہ طے کی ہے جہاں آگے بڑھتے ہوئے ہمارا باہمی رشتہ کئی شعبوں میں پھلتا پھولتا رہے گا اور ہمارے قائدین دونوں اقوام کے لئے مستقبل کے منصوبوں کے تعلق سے نئی تاریخ رقم کریں گے۔ جہاں سفیر سوری نے اِس تیزی سے فروغ پاتے رشتے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے پہلو کو اُجاگر کیا وہیں سفیر البنا نے ’کنکٹیویٹی‘ کے پہلو پر زور دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان اور یو اے ای کے درمیان ہفتے میں 1,076 فلائٹس چلتی ہیں جو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔ زائداز 50 فیصد ہندوستانی جو بیرون ہند مختلف منزلوں کا سفر کرتے ہیں جیسے یوروپ یا امریکہ، وہ دوبئی اور ابوظہبی کو اپنے ٹرانزٹ سنٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بعض بڑے خلیجی تجارتی ادارے جہاں ہندوستانیوں کی قیادت ہے وہ اِس دورے کو ایک زرین موقع سمجھ رہے ہیں۔ جسے بروئے کار لاتے ہوئے وہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں قابل لحاظ اضافہ کرسکتے ہیں۔ کئی کمپنیوں کو اِن مواقع کا فائدہ اُٹھانے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی کیوں کہ ہندوستان اور امارات دونوں ہی چاہتے ہیں کہ تجارتی سطح پر باہمی تعلقات کو نئی بلندی پر لے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT