Wednesday , May 23 2018
Home / سیاسیات / وزیراعظم مودی کا طوفان ’’اوکھی ‘‘سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

وزیراعظم مودی کا طوفان ’’اوکھی ‘‘سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

لکشادیویپ اور تملناڈو میں نقصانات کا جائزہ ۔9,300 کروڑ روپئے امداد کا مطالبہ : پلانی سوامی

کوچی۔19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی مرکزی زیرانتظام علاقہ جزیرہ لکشادیویپ کے شہر کوارتی میں ایک اعلیٰ اجلاس کی صدارت کی جہاں پر انہوں نے طوفان ’’اوکھی‘‘ سے ریاست میں ہونے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیراعظم آج صبح اس جزیرہ لکشا دیویپ پہنچے جہاں ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں، عوامی نمائندوں، بشمول رکن پارلیمنٹ محمد فیضل نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ پی ایم او سے کئے گئے ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے لکشادیویپ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں طوفان اوکھی سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم آج تملناڈو اور کیرلا کے ان ساحلی علاقوں کا بھی دورہ کریں گے جہاں پر طوفان اوکھی نے شدید تباہی مچائی ہے۔ بعدازاں وزیراعظم نے چیف منسٹر تملناڈو کے پلانی سوامی کے ساتھ بھی ایک اجلاس منعقد کیا اور طوفان اوکھی کے نقصانات کا جائزہ لیا جہاں پر تملناڈو کے چیف منسٹر نے 9,300 کروڑ روپئے بشمول 4,047 کروڑ روپئے کے راحتی امدادی پیاکیج کا مطالبہ کیا تاکہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا پابجائی کی جاسکے۔ دریں اثناء وزیراعظم مودی کے اوکھی گردابی طوفان سے متاثر تمل ناڈو کے کنیاکماری شہر میں آج مجوزہ دورے کے درمیان اپوزیشن پارٹی انا درمک منیتر کشگم (اے آئی اے ڈی ایم کے )نے مرکزی حکومت سے اس آفت سے متاثر لوگوں کے لئے 2000کروڑروپے کی امدادی رقم کا مطالبہ کیا ہے ۔اے آئی اے ڈی ایم کے کے کارگزار صدر ایم کے اسٹالن نے وزیراعلی کے پلانی سوامی سے بھی اپیل کی ہے کہ فوراً امداد کے لئے مرکزی حکومت پر دباؤبنایا جائے ۔مسٹر اسٹالن نے ٹوئٹ کیا،”گردابی طوفان اوکھی سے کنیاکماری ضلع میں ہوئی تباہی اور ماہی گیروں کی موت کو 21دن گزر چکے ہیں لیکن وزیراعلی کے دفتر سے ابھی تک راحت اور پھر سے انہیں بسانے کے لئے مرکزی حکومت سے امدادی رقم کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہا ہے ۔انہوں نے کہا،”آج وزیراعظم مودی یہاں کنیا کماری کے دورے پر آئیں گے ۔میں وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ مرکزی پالیسی سے راحت اور پھرسے بسانے کے لئے 2000کروڑ روپے منظور کئے جائیں ۔وزیراعلی کو مرکزی کی فوری مدد کے لئے زور دینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT