Tuesday , December 18 2018

وزیراعظم مودی کی صدر چین جن پنگ سے ملاقات

فورٹالیزا۔ 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات کی اور سمجھا جاتا ہے کہ سرحدی تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں ممالک امکان ہے کہ خوشگوار طریقہ سے تمام پیچیدہ مسائل کا حل دریافت کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ایک مثال قائم کرے گا۔ پوری دُنیا تنازعات میں اضافہ سے پریشان ہیں اور

فورٹالیزا۔ 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات کی اور سمجھا جاتا ہے کہ سرحدی تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں ممالک امکان ہے کہ خوشگوار طریقہ سے تمام پیچیدہ مسائل کا حل دریافت کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ایک مثال قائم کرے گا۔ پوری دُنیا تنازعات میں اضافہ سے پریشان ہیں اور تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتی ہے۔ دونوں قائدین برکس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے تقریباً بیک وقت فورٹ اَلیزو پہنچے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد دونوں کے درمیان سمجھا جاتا ہے کہ ’’اچھے تبادلہ خیال اور اچھی ملاقات‘‘ میں مصروف ہوگئے۔ یہ اجلاس دونوں قائدین کی اولین ملاقات تھی جو 40 منٹ کیلئے مقرر تھی تاہم 80 منٹ جاری رہی۔ کسی حدود کے بغیر آزادانہ طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر چین ژی جن پنگ نے وسیع تر مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ نریندر مودی نے ملاقات کے بعد اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ برسراقتدار چینی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی مذاکرات میں شریک تھے۔ دونوں فریقین نے سرحدی تنازعہ کی یکسوئی پر زور دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے باہمی اعتماد کے استحکام اور تسلسل پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پر پرامن اور خیرسگالی کا ماحول ہونا چاہئے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے بموجب نریندر مودی نے ژی جن پنگ سے کہا کہ ہندوستان اور چین خوشگوار انداز میں سرحدی تنازعہ کی یکسوئی کرسکتے ہیں جو باقی دنیا کے لئے ایک مثال ثابت ہوگی۔ دونوں ممالک اس مسئلہ پر 17 مرحلے کے مذاکرات کرچکے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ صدر چین نے اُن کی تجویز قبول کرلی۔ فورٹ اَلیزا سے موصولہ ایک اور خبر کے بموجب برکس ممالک بشمول ہندوستان نے تحفظاتی اقدامات نہ کرنے کا اور باہمی تعاون ، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی پالیسی اختیار کرنے کا عہد کیا۔ برکس کے وزرائے تجارت نے دوبارہ توثیق کی کہ انہوں نے ذہنی تحفظات پر مبنی اقدامات کرنے سے گریز کا عہد کیا ہے۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت نرملا سیتا رامن نے جو وزیراعظم نریندر مودی کے ہمراہ برکس چوٹی کانفرنس میں شرکت کررہی ہیں ، برکس وزرائے تجارت کے اجلاس میں شریک تھیں۔ وزراء میں عالمی معیشت کی بحالی کی سست رفتار پر اظہار تشویش کیا اور پُرزور انداز میں کہا کہ معاشی ترقی اور پالیسی پر ترقی یافتہ ممالک میں ردعمل کے بارے میں غیریقینی صورتحال کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی حکمرانی کے ڈھانچے کو اختیار کرنا ضروری ہے، باہمی تعاون کی بہتر پالیسی پر عمل آوری ہونی چاہئے تاکہ عالمی معیشت خوشحال ہوسکے اور فروغ پاسکے۔ عالمی معاشی چیلنجوں کے ماحول میں برکس کے رکن ممالک عالمی معیشت کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ ان کے معاشی روابط کو مزید مستحکم کریں گے۔ برکس وزرائے تجارت نے بات چیت جاری رکھنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری معاہدات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کی معیشت بحال کی جاسکے۔ برکس وزرائے تجارت میں اُن اُصولوں کو نوٹ کیا جو برکس کے تناطر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری معاہدات کی ضرورت پر زور دیتی ہے اور رضاکارانہ طور پر انہوں نے سرمایہ کاری معاہدوں کے سلسلے میں زیادہ متوازن روّیہ اختیار کرنے سے اتفاق کیا۔

TOPPOPULARRECENT