Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / وزیراعظم مودی کے نام گھر کے چشم و چراغ کا خط

وزیراعظم مودی کے نام گھر کے چشم و چراغ کا خط

عرفان جابری
بھارت میں منگل 8 نومبر 2016ء کی رات  وزیراعظم نریندر مودی نے الیکٹرانک میڈیا سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے بڑی قدر والی کرنسی (500 روپئے اور 1000 روپئے) کی قانونی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کرنے کے ساتھ اس کے مقاصد ، مضمرات و تفصیلات پر مختصر روشنی ڈالی؛ کالا دھن، کرپشن جیسے سلگتے موضوعات پر قوم کو لگ بھگ ایک گھنٹہ مخاطب کیا اور سارے ملک کی عام زندگی کو دہلا دینے والے ’اقدامِ نوٹ بندی‘ کے اثرات و مشکلات سے نمٹنے کے لئے تمام ہم وطنوں سے پچاس (50) دِنوں تک صبر، تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
گزشتہ 27 سال سے ملک میں ’مخلوط سیاست‘ کا دور دَورہ ہے اور آثار یہی ظاہر کرتے ہیں کہ برسہا برس تک یہ سیاسی صورت حال تبدیل ہونے والی نہیں۔ اس پس منظر میں نوٹ بندی جیسا عام زندگی میں بھونچال لانے والا سیاسی فیصلہ نہ صرف نہایت ٹھوس منصوبہ بندی بلکہ ملک کے طول و عرض کے سیاسی گوشوں کو اعتماد میں لینے کا متقاضی ہوتا ہے۔ آج ایک ماہ سے زائد عرصہ بیت چکا ، ملک بھر میں شاید ہی کوئی شعبہ ٔ حیات ایسا ہوگا جس پر نوٹ بندی کا مضر اثر نہ پڑا ہو۔ کیا شہری کیا دیہاتی، کیا اَمیر کیا غریب، کیا بوڑھے کیا جوان، کیا مَرد کیا خواتین، کیا لڑکے کیا لڑکیاں  …  یہ سب مذہب، ذات پات، علاقہ کی تخصیص کے بغیر پریشان ہوگئے، فکرمند ہیں، اور اب تک کے حالات کو دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ جلد ہی سب کی زندگی ماقبل 8 نومبر جیسی بحال ہوجائے گی۔
معزز قارئین بخوبی واقف ہیں کہ روزنامہ ’سیاست‘ نے عوام کو درپیش مسائل کو اُجاگر کرنے ، اُن کے تعلق سے ارباب مجاز و اقتدار کو جھنجھوڑنے ، نیز اُن کو حل کرنے کی حتی المقدور کوشش کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔
نوٹ بندی جیسے عوام و خواص کے لئے ’دھماکو‘ اقدام کے بعد سے تادم تحریر ملک کے چپہ چپہ میں غیرسیاسی گوشوں کا ردعمل جو ہوا سو ہوا، مگر سارے ملک کو جوابدہ سیاسی گوشے کا ردعمل ’تعجب خیز‘ رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم مودی  8 نومبر کے بعد سے ملک و بیرون ملک بس یہی ادعا کررہے ہیں کہ اُن کی سرکردگی میں کیا گیا اقدام ہندوستان میں ’’اچھے دِن‘‘ لانے کی سمت پیش رفت ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ وزیراعظم کی ’معاشی منطق‘ خود برسراقتدار گوشوں کو اچھی طرح سمجھ نہیں آئی ، جس کا ثبوت اُن کا ’جو ش و خروش سے عاری‘ ردعمل ہے۔ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں نوٹ بندی کے عمومی اثرات بھی اشارہ دیتے ہیں کہ ارباب اقتدار نے بلاتخصیص عوام کو مطمئن کرنے کی کچھ منصوبہ بندی نہیں کی، اور نا ہی عام زندگی کو مضر اثرات سے سنبھلنے کا موقع ملا ہے۔
سونیا گاندھی زیرقیادت انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے بشمول تمام اپوزیشن کے ’غیراطمینان بخش‘ ردعمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑے گا کہ شاید مودی حکومت نے ’نوٹ بندی‘ سے قبل کچھ اور ’ہوم ورک‘ بھلے ہی خاطرخواہ حد تک نہیں کیا، لیکن تقریباً ملک بھر کی ’سیاسی نبض‘ کا خوب اندازہ کرلیا ہے! ورنہ کیا وجہہ ہوسکتی ہے کہ معمولی سیاسی، سماجی، مذہبی مسائل پر سڑکوں پر ہنگامہ کھڑا کردینے والی تمام بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو 8 نومبر کی رات کے ’اعلان‘ پر اپنے ردعمل کے اظہار میں کئی دن درکار ہوئے۔ اور پھر جب ’تاخیر سے غیراطمینان بخش‘ اظہار ہوا بھی تو وہ پارلیمنٹ کے ایوانوں کو پہنچ کر کیا گیا، جہاں لگاتار دو ہفتوں سے کیا حکومت، کیا اپوزیشن دونوں طرف سے عوام کو پریشانی سے چھٹکارہ دلانے کے لئے ٹھوس تجاویز پیش کرنے کی بجائے ’نوٹ بندی‘ پر مباحث کے قاعدہ پر وقت گزاری اور شوروغل دیکھنے میں آیا ہے۔
’نوٹ بندی‘ کے اثرات پر زائد از ایک ماہ میں ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کیا، جس میں مرکزی حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنانا، اپنی اپنی مشکلات و پریشانیوں کو ظاہر کرنا، اس اقدام کے پس پردہ مودی حکومت کے سیاسی محرکات پر روشنی ڈالنا وغیرہ شامل ہیں۔تاہم ایک اسکولی بچہ ابھمنیو (نام تبدیل نہیں) کا وزیراعظم کو موسومہ انگریزی میں تحریر کردہ خط کا لگ بھگ من و عن ترجمہ پیش کررہا ہوں، جو ’نوٹ بندی‘ کا ایک ماہ گزر جانے کے بعد انڈیا کی صورتِ حال کی بڑی حد تک عکاسی کرتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے :
’’جناب محترم
نمستے
جب آپ نے ’نوٹ بندی‘ کا اعلان کیا، تب میں ٹی وی (ٹیلی ویژن) پر کارٹون پروگرام کا مشاہدہ کررہا تھا اور اس لئے میرے والدین اس اعلان سے فوری طور پر واقف نہ ہوپائے۔ لیکن اُن کے بعض دوستوں نے انھیں فون کیا اور دیگر نے پیام رسانی کا کام کیا، اور پھر آپ کے فیصلے کے اولین شکار خود میں اور میری بہن ہوئے۔ والدین نے ہم سے ٹی وی سٹ کا ریموٹ لے لیا اور آج تک ہمیں وہ واپس نہیں مل پایا ہے۔
تمام بالغ افراد محض ’نیوز‘ (خبریں) کے مشاہدے کی فکر میں ہوتے ہیں اور ہمیں ہمارے پسندیدہ ٹی وی شو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے TV پر ہمارے حقوق کے تعلق سے بھی اعلان کردیں۔ ہم بہت شکرگزار رہیں گے!
میری دوسری گزارش میرے ’جیب خرچ‘ (پاکٹ مَنی) سے متعلق ہے۔ میرے والدین یکایک بخیل بن چکے ہیں۔ وہ مجھے ہر ماہ جیب خرچ کے لئے 500 روپئے دیا کرتے تھے۔ مجھے سارا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ میں میرے جیب خرچ کا 20% حصہ خیرات کردیتا ہوں، کتابوں پر 30% صَرف کرتا ہوں اور 10% بچت کرنا ہوتا ہے۔ بقیہ 40% مرضی کے مطابق خرچ کیا جاسکتا ہے یعنی اُس رقم سے میں اپنی پسند کی کھانے کی اشیاء وغیرہ خرید سکتا ہوں۔ اِس طرح میں سمجھتا رہا کہ بچت میں میری سوجھ بوجھ اچھی ہے۔ میں 350 تا 380 روپئے کی بچت پر اس  رقم کو میری والدہ کے پاس 500 روپئے کی کراری نوٹ سے بدل لیا کرتا تھا کیونکہ اُن کو مختلف ضروریات کے لئے چھوٹی قدر والی کرنسی نوٹوں کی ہمیشہ ہی حاجت رہتی ہے۔ اب مجھ پر آشکار ہوا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جو کچھ رقم میں نے جمع کی ، اُس کی کچھ قدر نہیں سوائے اس کے کہ میں اسے میرے والدین کو سونپ دوں تاکہ بینک میں بدلوائیں۔ مگر پھر بھی اس کی کچھ قدر نہ رہے گی کیونکہ مجھے یقین ہے وہ رقم والدین مجھے واپس نہیں دیں گے، جو چند ہزار روپئے ہیں اور وہ بلاشبہ سوچیں گے کہ یہ میرے لئے بڑی رقم ہے جو مجھے دینا مناسب نہیں۔ ہمارا سیر و تفریح کیلئے گھر سے دور جانا محدود ہوگیا ہے۔ پیزا وغیرہ اور گھر سے باہر کے کھانوں میں نمایاں کمی آگئی۔ میں ضدی  بچہ نہیں اور زیادہ تر گھر میں پکائی گئی غذا کھاتا ہوں، مگر کبھی کبھار مجھے گھر سے نکل کر پسندیدہ خوردنی اشیاء سے جی بھرنے کی خواہش بھی ہوتی ہے۔ آپ کو یہ تو بخوبی سمجھ ہوگی کیونکہ آپ اکثر باہر جایا کرتے ہیں، نہ صرف سرکاری رہائش گاہ کے باہر بلکہ بیرون ملک بھی!
برائے مہربانی! اِس تعلق سے کچھ کیجئے۔ میں میرے پاس محفوظ رقم کا حساب دینا نہیں چاہتا، کیونکہ میں بارہا جانچ کرچکا اور میرے پاس کی کوئی کرنسی نوٹ ’سیاہ‘ نہیں۔
خلاصہ کروں تو میرا مدعا یوں ہے:
1۔  مجھے میری پوری رقم واپس چاہئے۔ میرا مطلب وہ رقم جس کی قانونی قدر ہو، کاغذ کے ٹکڑے نہیں۔
2۔  میں پہلے کی طرح (ماقبل 8 نومبر) میرے پسندیدہ ٹی وی پروگراموں کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے رقمی اُمور پر مباحث اور دن رات رقم کے لئے قطاریں نہیں دیکھنا ۔
3۔  میں میرا جیب خرچ چاہتا ہوں۔ اسے والدین نے روک رکھا ہے کیونکہ 100 روپئے کی نوٹ اُن کے لئے اہم ہوگئی ہیں اور 2000 روپئے اُن کی دانست میں میرے لئے بہت بڑی رقم ہے۔
4۔  درج ذیل نکتہ کا تعلق رقم سے نہیں لیکن اس کی وجہ سے بھی مجھے ڈانٹ پڑی۔ لہٰذا، برائے مہربانی اس پر بھی ساتھ ہی توجہ کیجئے:
میں اسکول میں ہر دن قومی ترانہ پڑھتا ہوں۔ میں اسے پورے احترام سے کھڑے ہوکر پڑھتا ہوں اور مجھے میرے ملک پر کافی فخر محسوس ہوتا ہے اور محبت ہے۔ مگر گزشتہ ہفتے ہم گھر والے روزمرہ کی زندگی کے تناؤ سے چند گھنٹوں کے لئے ہی سہی چھٹکارہ پانے ہلکی پھلکی تفریح کے طور پر فلم دیکھنے سنیما گھر گئے، اور میں کچھ چبینا اور مشروب کے ساتھ اپنی نشست سنبھال ہی رہا تھا کہ تھیٹر والوں نے ’قومی ترانہ‘ چلا دیا اور میری ماں نے میرے کان مروڑے کہ میں نے قومی ترانہ پر ’غفلت‘ سے کام لیا۔
مگر سوال یہ ہے کہ مجھے کیوں کر معلوم ہوتا کہ سنیما ہال میں بھی ’اسکول اسمبلی‘ کا ماحول پیش آنے والا ہے؟ پلیز، اِس رجحان کو روکیں اور میںہمیشہ ہماری قوم کے احترام کا وعدہ کرتا ہوں۔
براہ کرم! ان معاملوں میں کچھ ٹھوس راحت رساں اقدامات کیجئے۔ میں پریشانی سے دوچار ہوں اور مجھے اندازہ ہے میرے تمام دوست بھی متاثر ہیں۔
آج ہم نابالغ ہیں
لیکن جلد ہی ہمیں ووٹ کا حق ملے گا
میں چاہتا ہوں ، آپ یہ نکتہ ذہن نشین رکھیں
بچے کبھی معاف نہیں کرتے، نا ہی فراموش کرتے ہیں۔
نیک تمناؤں کے ساتھ
ابھمنیو‘‘
[email protected]

TOPPOPULARRECENT