Wednesday , December 19 2018

وزیراعظم مودی ۔ چندر شیکھر راؤ قربت تلنگانہ بی جے پی مخمصہ کا شکار

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
وزیراعظم نریندر مودی نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی ستائش کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کے ترقیاتی کاموں پر اظہار اطمینان کیا ہے ۔ وزیراعظم کی جانب سے تعریف و توصیف نے کے سی آر کے حوصلے بلند کردئیے ہیں ۔ لیکن تلنگانہ بی جے پی قائدین کو شدید دھکہ پہونچا ہے جو ریاست میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے ٹی آر ایس حکومت کے کاموں پر تنقیدیں کرتے آرہے ہیں ۔ حیدرآباد کی ترقی کے حوالے سے وزیراعظم مودی گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی بھی ستائش کی اور اس خوشی میں 26 کروڑ روپئے کی مرکزی ترغیبی رقم بھی جاری کی ۔ اگر بی جے پی قائدین کو حیدراباد کی ترقی نظر نہیں آرہی ہے تو پھر وزیراعظم مودی نے کے سی آر کی ستائش صرف ان کا دل رکھنے کے لیے کی ہوگی کیوں کہ ٹی آر ایس نے حال ہی میں مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ہونے والے ووٹنگ کے دوران لوک سبھا سے غیر حاضر ہو کر مودی کو خوش کردیا تھا بلکہ وفاداری کا برسر عام ریکارڈ شدہ مظاہرہ کیا ۔ اس حمایت کی سیاسی قیمت جو کچھ ملے گی اس کا راست فائدہ کے چندر شیکھر راؤ کو ہوگا ۔ مودی نے کہا تھا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے تحریک عدم اعتماد کے سلسلہ میں اپنی سیاسی بالغ نظری سے کام لیا تھا ۔ وزیراعظم مودی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے درمیان سیاسی دوستی کا خسارہ تلنگانہ بی جے پی قائدین کو ہوگا جو تلنگانہ میں لوک سبھا کی اہم نشستوں کو ٹی آر ایس سے چھین لینے کی تیاری کررہے ہیں ۔ مرکزی قیادت کی ٹی آر ایس سربراہ سے ہونے والی قربت نے ریاستی بی جے پی قائدین کے عزائم کو دھکہ پہونچایا ہے وہ اب اپنے ہونٹوں کو بند کرلینے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ البتہ خانگی محفلوں میں مودی کے اس رویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی کو ہونے والے نقصان کو ٹالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ بی جے پی کیڈر کے بھی اخلاق و حوصلے پست دکھائی دینے پر ریاستی بی جے پی قائدین انہیں ڈھارس باندھنے کی کوشش کرنے لگے ۔ ریاستی بی جے پی قائدین کو اس بات کی الجھن ہے کہ آخر مودی نے کے سی آر سے سیاسی دوستی بڑھاتے ہوئے بی جے پی کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش کیوں کی ۔ ریاستی اسمبلی میں اس وقت بی جے پی کے پانچ ارکان اسمبلی ، ایک ایم ایل سی اور ایک ایم پی ہے ۔ ایوان اسمبلی اور پارلیمنٹ میں تلنگانہ بی جے پی قائدین کی تعداد بڑھانے کی مہم میں مصروف قائدین نئی حکمت عملی پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ بی جے پی کی قومی قیادت فی الحال ٹی آر ایس کے ساتھ اپنے روابط کے پل کو مسمار کرنا نہیں چاہتی ۔ بظاہر بی جے پی صدر امیت شاہ نے ٹی آر ایس سے دوری برقرار رکھنے اور اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن عین انتخابات کے وقت ہوسکتا ہے کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس میں واضح یا خفیہ انتخابی اتحاد ہوجائے کیوں کہ کانگریس نے اگر ریاست میں تلگو دیشم سے اتحاد کرلیا تو ٹی آر ایس یکا و تنہا ہوجائے گی اور اسے بی جے پی کا ساتھ لازمی ہوگا ۔ یہ بھی اشارے مل رہے ہیں کہ بی جے پی اب نہیں تو انتخابات کے بعد ٹی آر ایس سے اتحاد کرے گی ۔ قومی پارٹی سے ریاستی پارٹی کی سیاسی مصالحت و اتحاد کے فارمولے میں کس کی جیت ہوگی کس کی ہار یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ تاہم فارمولہ اور معاہدہ وہی کامیاب ہوتا ہے جس میں سب کی جیت ہو لیکن ٹی آر ایس کی سیاسی دوستی صرف ٹی آر ایس کی جیت ہوگی ۔ ٹی آر ایس نے تلنگانہ کے لیے جدوجہد کر کے اس مقام کو حاصل کیا ہے ۔ اب اس پارٹی کی قیادت کو خود ہی اس مقام کی حفاظت بھی کرنی ہے ۔ اگر کے سی آر عوام کو مطمئن کر کے آگے بڑھیں گے تو ان کے عہدے کی میعاد بھی بڑھے گی تلنگانہ کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے اندر ہی کشیدہ ماحول ہو تو اس ماحول کی خرابی سے حکومت کی کارکردگی اور ترقی دونوں متاثر ہوں گی ۔ کے سی آر اگر یہ تصور کر بیٹھے ہیں کہ مودی سے قربت حاصل کرنے پر وہ اپنی چار سالہ حکمرانی کے گناہوں کو مودی حکومت کی لانڈری میں دھولیں گے اور صاف و شفاف بن جائیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہوگی ۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے پہلے ہی چیف منسٹر کو ملک کا سب سے بڑا بدعنوان چیف منسٹر قرار دیا ہے اور وہ تلنگانہ عوام کو چیف منسٹر کی خرابیوں اور دھاندلیوں سے واقف کروانے کی مہم شروع کرچکے ہیں۔ جب کوئی حکمراں یہ سمجھے کہ میں تو اندھا ہوں اور اندھوں کی نگری میں رہتا ہوں میرے ارد گرد بھی سب اندھے ہی رہتے ہیں لہذا جو چاہئے کرلیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے تو یہ خام خیالی ثابت ہوتی ہے ۔ عوام بھلے ہی خاموش ہوں گے مگر وہ اندھے نہیں ہیں ہر چیز کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔ عوام کو حکمراں کے وعدوں اور باتوں کا علم ہے وہ ہر چیز یاد رکھتے ہیں ۔ صرف لیڈروں کو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سیاسی بینائی اس روز بہتر ہوگی ۔ جب انصاف اور شفاف حکومت کو ترجیح دیں ۔ ایک حکومت پکوڑے بنا رہی ہے تو اس کے تابع چل کر دوسری حکومت اچار بیچنے کی تیاری کررہی ہے ۔ ظاہر بات ہے جب کسی کے پاس صرف آلو ، پیاز اور بیسن ہوگا تو اس سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوگا تو اس سے صرف پکوڑے ہی بنیں گے ۔ تلنگانہ کی حکومت گذشتہ چار سال سے عوام کے صبر کا اچار بناتے جارہی ہے تو وہ ان انتخابات میں اچار ہی بیچے گی کیوں کہ حکمرانوں کی نیتوں کا حال تو رائے دہی کے دن ہی معلوم ہوگا ۔ حکمرانی کی بہتر کارکردگی کے معاملہ میں مرکز اور ریاست کے درمیان کوئی موازنہ ہی نہیں ۔ مرکزی قیادت کے پاس مکمل اختیار ہے وہ بے بانگ دہل وعدے کرتا ہے مگر عمل وہی کرتا ہے جو اسے کرنا ہے ۔ ریاستی حکمراں پارٹی کے لیڈر کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ چیف منسٹر بننے سے پہلے انہوں نے جو وعدے کئے تھے ابتدائی مہینوں کے دوران ان وعدوں کی تکمیل کی طرف پیشرفت ضرور دیکھی گئی اور ویسے بھی تلنگانہ میں لوگوں کو صحت ، تعلیم ، پینے کا صاف پانی اور انتہائی غربت جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے تو اس کی فکر حکمراں کو نہیں ، اگر حکمراں نے کہا تھا کہ ہم مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دیں گے اور وہ اپنے بیان سے مکر گئے تو بھی اس کے ووٹروں کو فرق نہیں پڑتا ۔ اگر ریاستی حکمراں نے کہا تھا کہ تلنگانہ کے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرے گا اور اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ تلنگانہ کو انفراسٹرکچر پہلے بھی نہیں ملا تھا عوام کے بنیادی مسائل ہی حل نہیں ہوئے سو لوگوں سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ پولیس نظم و نسق ٹھیک کیا جائے گا ، ہر بچے کو تعلیم دی جائے گی ، نوکریاں دی جائیں گی ، سنگاپور یا عالمی درجہ کے شہر کے خطوط پر حیدرآباد کو ترقی دی جائے گی ۔ اچھے دواخانے ہوں گے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوگا ۔ کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا ۔ ہر کسی کے پاس اپنی چھت ہوگی تو گذشتہ چار سال سے ڈبل بیڈ روم کے مکانات ہنوز تعمیر ہی ہورہے ہیں تو آئندہ انتخابات کے بعد بھی یہ مکانات تعمیر ہوتے ہی رہیں گے ۔ اقلیتی اداروں کو فنڈس کا اعلان کر کے جاری نہ کرنے سے بھی اقلیتوں کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے کیوں کہ اقلیتی قائدین کو تو فنڈس کی شکل میں کئی راستے نکالے جارہے ہیں اور یہ اقلیتی قائدین پورے خشوع و خضوع کے ساتھ مسلمانوں کے نام پر دی جانے والی رقومات کو ہڑپ لے رہے ہیں ۔ معصوم عوام نے ہر بات اپنے پلے سے باندھ لی ہے ۔ مگر اس کے ساتھ ایک عادت بھی برسوں سے پلے سے باندھ لی ہے وہ یہ کہ اپنے لیڈروں کو آزمانے کے بعد بھی آزماتے آرہے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT