Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم نریندر مودی، خوف اور نفرت پھیلانے کی سیاست پر عمل پیرا

وزیراعظم نریندر مودی، خوف اور نفرت پھیلانے کی سیاست پر عمل پیرا

ایک فیصد دولتمند خاندانوں کے فائدہ کیلئے 99 فیصد غریبوں کی قربانی، کانگریس یوم تاسیس تقریب سے راہول کا خطاب

نئی دہلی ۔ 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے نوٹ بندی کے مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی پر اپنی سخت تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج الزام عائد کیا کہ وزیراعظم مودی خوف، نفرت اور برہمی کی سیاست پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اس نظریہ کو شکست دیں۔ راہول گاندھی نے کانگریس کی 132 ویں یوم تاسیس تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی جی نے 8 نومبر کو کہا تھا کہ وہ رشوت اور کالے دھن کے خلاف یگنہ کررہے ہیں۔ ہر یگنہ کسی کے فائدہ کیلئے کیا جاتا ہے اور ہر یگنہ میں کسی کو قربان کیا جاتا ہے۔ نوٹ بندی کا یگنہ ملک کے ایک فیصد سوپر دولتمند 50 خاندانوں کے فائدہ کیلئے کیا گیا اور اس یگنہ میں غریبوں، کسانوں، متوسط طبقات، دکانداروں وغیرہ کو قربان کیا گیا۔ اس یگنہ سے انہیں شدید درد ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس نازک وقت ملک، غریب عوام مزدوروں، محنت کشوں، متوسط طبقات اور چھوٹے دوکانداروں کے ساتھ رہے گی اور ان کی مدد کرے گی۔ راہول نے کانگریس کارکنوں پر زور دیا کہ وہ نوٹ بندی کے سبب تکلیف میں مبتلاء و متاثرہ افراد تک پہنچیں نیز مودی  اور آر ایس ایس کے اس نظریہ کو شکست دی جائے، جس کے ذریعہ خوف و نفرت پھیل رہی ہے۔ راہول گاندھی نے مزید کہا کہ ’’کانگریسی ورکرس کو پریشان حال عوام تک پہنچنا ہوگا۔ مجھے یقین ہیکہ وہ ایسا کریں گے۔ نیز وہ (کانگریسی کارکن) نریندر مودی اور آر ایس ایس  کے اس نظریہ کے خلاف لڑتے ہوئے اس کو شکست دیں گے جس (نظریہ) سے برہمی۔ خوف اور نفرت پھیل رہی ہے‘‘۔

راہول نے مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ اس ملک کے عوام کی معاشی آزادی کو سلب کررہے ہیں اور دریافت کیاکہ آیا کس بنیاد پر رقم سے دستبرداری کی حد 24000 روپئے مقرر کی گئی۔ راہول نے آج یہاں اپنی والدہ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی نمائندگی کرتے ہوئے کانگریس کے ہیڈکوارٹرس پر پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر کانگریسی پرچم لہرایا۔ سونیا گاندھی جو کچھ عرصہ سے علیل ہیں، ناسازی صحت کے سبب اس تقریب میں شرکت نہیں کرسکیں۔ راہول نے بعدازاں ایک اجتماع سے خطاب کیا جس میں کانگریس کے سینئر قائدین ورکنگ کمیٹی کے تمام ارکان اور دوسروں نے شرکت کی جو راہول گاندھی کے کانگریس کی صدارت کی سمت آہستہ لیکن بتدریج پیشقدمی کا اشارہ بھی ہے۔ راہول نے اس موقع پر اپنی پارٹی کی جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ کانگریس، دوسروں کو قبول کرنے صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اجتماع سے کہا کہ ’’کانگریس کے معنی دوسروں سے تال میل و مفاہمت ہیں۔ کانگریس کے معنی ہیں کہ صرف میں ہی تنہا نہیں ہوں بلکہ میرے علاوہ دیگر نظریات کے حامل دوسرے بھی ہیں۔ کانگریس کا نظریہ ہیکہ صرف میرا ہی نظریہ مسلط نہیں کیا جائے گا بلکہ دیگر نظریات کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا۔ مجھے آپ کا نظریہ بھی معلوم کرنا ہوگا۔ کانگریس کے معنی آپ تک پہنچنا اور رسائی حاصل کرنا ہے۔ کانگریس کے معنی آپ کو سننا سمجھنا بھی ہیں۔ کانگریس کے معنی دوسروں کو سمجھنا بھی ہیں‘‘۔ راہول نے سب کو ساتھ لیکر چلنے والی کانگریس کے خلاف بی جے پی کو ایک انتشار پسند جماعت ظاہر کرنے کی کوشش کے طور پر کہا کہ ’’مودی حکومت ہمارے ملک کے تانے بانے کو تار تار کررہی ہے۔ عوام میں نفسیاتی خوف پیدا کررہی ہے۔ کانگریس نے وزیراعظم سے نوٹوں کی تنسیخ کے بارے میں وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ 5 جنوری سے نوٹوں پر امتناع ـکے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائے گا کیونکہ اس سے عوام کیلئے شدید مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم کے شخصی کرپشن کے خلاف بھی احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ کل سے کانگریس قائدین تمام ضلعی ہیڈکوارٹرس پر پریس کانفرنس منعقد کریں گے۔ بعدازاں ضلع کی سطح پر 2 اور 3 جنوری کو پریس کانفرنسیں منعقد کی ج

TOPPOPULARRECENT