Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / وزیراعظم نریندر مودی پر شتروگھن سنہا کی ایک بار پھر تنقید

وزیراعظم نریندر مودی پر شتروگھن سنہا کی ایک بار پھر تنقید

بی جے پی کے ناراض سینئر قائد سنگھ پریہ گوتم کا نریندر مودی اور امیت شاہ سے ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ
ناگپور/دھار ۔15نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے ناراض بی جے پی رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے کہا کہ پارٹی نے ریاست میں جو نشستیں جیتی  ہیں ان کا سہرا نریندر مودی کے سر باندھا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے دوست لالو پرساد پر تنقید کررہے ہیں ۔ شترو گھن سنہا نے یہ بھی کہاکہ بہار کے رائے دہندے اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ نریندر مودی نے جس معاشی پیکیج کا اعلان کیا تھا وہ صرف ’’ انتخابی ناٹک‘‘ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی نشستیں بی جے پی نے بہار میں جیتی ہے اس کا سہرا نریندر مودی کے سر باندھا جانا چاہیئے اور اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ اداکار سے سیاست داں بننے والے شترو گھن سنہا نے جو انتخابی مہم کے دوران انہیں نظرانداز کردینے پر ناراض ہیں کہا کہ مودی کی ’’ جارحانہ انتخابی مہم ‘‘ کی وجہ سے بی جے پی 53نشستیں حاصل کرسکی ۔

غالباً مودی کو بہار کے بنیادی حقائق کے بارے میں لاعلم رکھا گیا تھا ۔ باہری آدمی انتخابی مہم کے انچارج تھے جب کہ بہاری بابو کو جنہیں پٹنہ کے عوام نے پارلیمنٹ میں روانہ کیا تھا اور وہ بھی لاکھوں ووٹوں کی سبقت سے دانستہ طور پر انتخابی مہم سے باہر رکھے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نتیش کمار کے خلاف مخالف حکومت جذبات نہیں تھے اور جس دن نتیش کمار ۔ لالو پرساد ۔ کانگریس عظیم اتحاد قائم ہوا تھا اسی دن انہوں نے آدھے انتخابات جیت لئے تھے ۔ لالو پرساد یادو پر ’’جنگل راج ‘‘ کے تبصرے کی بناء پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار کی عوام کو یہ تبصرہ پسند نہیں آیا ۔ اس مخصوص تبصرہ سے مخالف بی جے پی بہار کے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ لالو پرساد اس لئے کامیابی اور 80 فیصد  نشستیں حاصل کرسکے کیونکہ جنگل راج کا تبصرہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ 243 نشست کی بہار اسمبلی میں عظیم سیکولر اتحاد کو 178 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جن میں جے ڈی یو کی 71 اور کانگریس کی 27 نشستیں شامل ہیں ۔ دھار سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی کے ایک اور سینئر قائد جو بہار میں پارٹی کی ناکامی سے ناراض ہیں ‘ سنگھ پریہ گوتم نے کہا کہ وزیراعطم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ کو ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارٹی کی ازسرنو تنظیم کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ آر ایس ایس سرسنچالک موہن بھگوت کو ’’ سیاست ترک‘‘ کردینی چاہیئے اور اپنی تنظیم کے استحکام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے ۔ امیت شاہ کو ہٹاکر راجناتھ سنگھ کو صدر بی جے پی اور امیت شاہ کو چیف منسٹر گجرات بنانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور شاہ کی جوڑی کو بہار میں انتخابی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہیئے ۔ قبل ازیں بی جے پی کے سینئر قائدین ایل کے اڈوانی ‘ مرلی منوہر جوشی ‘ شانتا کمار اور یشونت سنہا بھی سخت لب و لہجہ والا ایک بیان جاری کرچکے ہیں جس میں بہار انتخابی ناکامی کیلئے نریندر مودی اور امیت شاہ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ سنگھ پریہ گوتم نے کہا کہ موجودہ چیف منسٹر گجرات آنندی بین پٹیل ریاست گجرات میں طبقاتی کشمکش پر قابو  پانے سے قاصر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT