Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / وزیراعظم نریندر مودی کاپروگرام’من کی بات‘ یکطرفہ ترسیل

وزیراعظم نریندر مودی کاپروگرام’من کی بات‘ یکطرفہ ترسیل

ہندو یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج شرمناک ‘کانگریس کا الزام ‘ ترجمان اجوئے کمار کی پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔24 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ من کی بات ‘‘ ’’یکطرفہ ترسیل ‘‘ ہے ‘ جس میں انہوں نے اہم مسائل جیسے بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی ‘ بیروزگاری اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں اظہار خیال نہیں کیا ۔ کانگریس کی تنقید مودی کی 36ویں من کی بات کے چند ہی گھنٹوں بعد منظر عام پر آئی ۔ وزیراعظم اس پروگرام کو اپنے نظریات کی اشاعت اور عوام کی امنگوں کی عکاسی کے بجائے صرف اپنی رائے ظاہر کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں ۔ کانگریس کے ترجمان اجوئے کمار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین سال ہم مسلسل دیکھتے آرہے ہیں کہ من کی بات یکطرفہ ترسیل ہے ۔ وزیراعظم یکطرفہ ترسیل کرتے ہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم نے اہم مسائل جیسے بنارس ہندو یونیورسٹی کے احاطہ میں کل رات طلبہ کے خلاف کارروائی ‘ بیروزگاری اور ایندھن کی بلند قیمتوں کا کوئی تذکرہ نہیںکیا

اور نہ سرحدی علاقوں اور وادی کشمیر میں ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کا حوالہ دیا ۔ انہوں نے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کا بھی ذکر نہیں کیا ۔ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کو انتہائی شرمناک واقعہ قرار دیا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتیں ریاست میں نظم و ضبط کی صورتحال برقرار رکھنے سے قاصر ہیں ۔ اجوئے کمار نے حکومت کے ارادوں پر شک و شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ حکومت ’’ بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘‘ مہم کے سلسلہ میں مخلص ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لڑکیوں کیلئے گذشتہ بجٹ میں جو رقم مختص کی گئی تھی وہ بہت کم ہے ‘ تاہم انہوں نے وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کل کی ہوئی تقریر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کے گذشتہ 60سال میں کئے ہوئے کارناموں کو اُجاگر کیا ہے ۔انہوں نے سشما سے درخواست کی کہ وہ وزیراعظم کیلئے بھی ایک ’’ کوچنگ کلاس ‘‘ چلائیں جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہیں جانتے کہ ملک کی ترقی پر گذشتہ 60سال سے کتنی توجہ دی گئی ہے ۔ مودی کی کھادی مصنوعات خریدنے کی اپیل پر تاکہ غریبوں کی مدد ہوسکے انہوں نے کہا کہ ملک کے غریب دالوں ‘ ایندھن ‘ گیس کے سیلنڈر اور بیروزگاری میں اضافہ پر پریشانی ظاہر نہیں کرتے ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ان مسائل کی یکسوئی پر توجہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کی نظم و ضبط کی صورتحال میںاین ڈی اے دور حکومت میں زبردست انحطاط آیا ہے ۔ مودی نے آج کے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ انہوں نے من کی بات کو سیاست سے دور رکھا ہے اور عوام سے ربط پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ‘ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ عوام اتنے بیوقوف ہے کہ جذباتی رو میں بہہ جائیں گے ۔۰

من کی بات: عوام کے احساس و جذبات کا سفر
سوچھ بھارت مہم کامیابی کی جانب تیزی سے جاری : مودی
نئی دہلی 24 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ان کے پروگرام ‘من کی بات’ کے تین سال پورے ہو گئے ہیں اور یہ ہم وطنوں کے جذبات اور احساس کا سفر رہا ہے ۔مسٹر مودی نے ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ میں کہا کہ انہوں نے اس پروگرام میں ہمیشہ آچاریہ ونوبا بھاوے کی اس بات کو یاد رکھا ہے ، جو وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے – غیرسرکاري اثرکاري اور اس وجہ سے انہوں نے اپنے پروگرام کو سیاست کے رنگ سے دور رکھاہے اور اس میں عوام کو مرکز میں رکھتے ہوئے مستقل مزاجی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے ملک میں عام آدمی کے جذبات کو سمجھنے کا موقع ملا ہے اور اس کے لئے اس ملک کے لوگوں کا بہت شکر گزار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ من کی بات کے تین سال مکمل ہونے کے بعد ماہر سماجیات، یونیورسٹی، محقق اور میڈیا ماہرین کو اس کا تجزیہ کرکے دیکھناہے کہ اس میں کیا خصوصیت یا کمی ہے اور یہ مشاورت مستقبل میں ‘من کی بات’ کے لئے بھی زیادہ مفید اور نئی شعور اور توانائی لائے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے وہ بہت سی معلومات اور اطلاعات موصول ہوتی ہیں،تو کئی بار حکومت میں بہتری کے لئے ہوتی ہیں ۔کہیں ذاتی شکایت ہوتی ہے تو، اجتماعی مسئلہ پر توجہ دی جاتی ہے ۔ مودی نے ملک میں فروغ پاتے صفائی کلچر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ صفائی کا عہد اب کامیابی کی جانب تیزی سے بڑھ رہاہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT