Monday , December 18 2017
Home / مضامین / وزیراعظم پر راہول گاندھی کا سنگین الزام

وزیراعظم پر راہول گاندھی کا سنگین الزام

غضنفر علی خان
راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر یہ سنگین الزام عائد کیا ہے کہ نریندر مودی نے مبینہ طور پر کرپشن کیا ہے۔ ابھی تو یہ صرف الزام ہے اور الزام کی بنیاد پر کوئی رائے حتمی طور پر قائم نہیں کی جاسکتی۔ یوں تو ہماری عصری سیاست میں الزام اور جوابی الزامات لگانا جیسے عام بات ہوگئی ہے۔ سیاست دانوں پر آئے دن نت نئے الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن جب ملک کے کسی منتخبہ وزیراعظم پر الزام عائد کیا جائے تو اس کو سنی اَن سنی کرکے چپ نہیں بیٹھا جاسکتا۔ راہول گاندھی نے یہ الزام خود ان ہی کے مطابق اس لئے عائد کیا ہے کہ مسٹر نریندر مودی اور ان کی برسر اقتدار پارٹی پارلیمنٹ میں انھیں کچھ کہنے نہیں دیتی۔ انھیں جان بوجھ کر یا شور و غل کرکے خاموش کردیا جاتا ہے۔ یہ یقینا ہورہا ہے۔ وہ پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن کے پہلے دن ہی سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ وزیراعظم کو ایوان میں اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب شخصی طور پر دینا چاہئے۔ مسئلہ بڑی کرنسی کی منسوخی کا ہے۔ کانگریس پارٹی جس کے راہول لیڈر ہیں جملہ 16 اپوزیشن کے ساتھ ایک آواز میں یہی مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

اسی ہنگامہ کے دوران راہول گاندھی نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جن سے وہ ثابت کرسکتے ہیں کہ وزیراعظم شخصی طور پر بدعنوانی (کرپشن) کے مبینہ طور پر ذمہ دار ہیں اور یہ کہ ان کے (راہول گاندھی) کے پاس ایسے ٹھوس ثبوت ہیں کہ اگر وہ ایوان میں پیش کریں تو ایوان میں زلزلہ آجائے گا۔ حکمراں بی جے پی اور خود وزیراعظم نے اس پر کان تک نہیں دھرا۔ اگر راہول گاندھی کے اس الزام میں صداقت کا عنصر نہیں any element of truth تو پھر کیوں بی جے پی راہول گاندھی کو کچھ کہنے سے (خود کانگریس کے مطابق) روک رہی ہے۔ اگر ابتداء ہی میں راہول گاندھی کو بولنے کا موقع دیا جاتا تو وہ ایسے دھڑلے سے وزیراعظم پر بدعنوانیوں کا سنگین الزام عائد کرسکتے۔ جس زلزلے کی راہول گاندھی دھمکی دے رہے ہیں اس پر وہ اس طرح سے اظہار خیال نہ کرتے جس طرح سے 14 ڈسمبر کو وہ 16 اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ دہلی میں کرچکے ہیں۔ ایسا خطرناک الزام عائد کرنے سے پہلے وہ پوری احتیاط برتتے۔ ان کو اس الزام تراشی اور اس کے اظہار خیال کے لئے بی جے پی اور بذات خود وزیراعظم نے اپنی ٹال مٹول سے مجبور کردیا۔ جس پریس کانفرنس میں انھوں نے شخصی کرپشن کا وزیراعظم پر الزام عائد کیا اس میں وہ اکیلے نہیں تھے۔ شہ نشین پر ان کے ہمراہ اپوزیشن پارٹی کے تمام لیڈرس موجود تھے جن میں ترنمول کانگریس کے نمائندہ اور رکن لوک سبھا بھی شامل تھے

ملک کے عوام کے اذہان میں یہ سوال آج گونج رہا ہے کہ سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے قائدین راہول گاندھی کو پارلیمنٹ میں اپنی بات کہنے کا موقع کیوں نہیں دیا جارہا ہے۔ 14 ڈسمبر کو یہ بم دھماکہ ہوا کہ وزیراعظم پر بھی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ قانون کی نظر میں کوئی شخص بشمول ملک کے وزیراعظم نہ تو قانون سے بالاتر ہیں اور قانون کے تحت کسی الزام کی سزا اس وقت تک نہیں دی جاسکتی جب تک الزام ثابت نہ ہوجائے۔ راہول گاندھی کا موقف یہ ہے کہ الزام انھوں نے عائد کیا ہے اور قانون و عدلیہ کے بنیادی اصولوں کے مطابق بار ثبوت burden of proof ان ہی پر عائد ہوتا ہے۔ جہاں تک وزیراعظم نریندر مودی کا تعلق ہے وہ ملک کے ایسے منتخبہ سربراہ ہیں جو واضح اکثریت سے منتخب ہوئے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی پارٹی نے اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دی ہے۔ تقریباً 15 سال بعد ہمارے ملک میں کسی پارٹی نے تنہا پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت سے بھی زیادہ تعداد میں نشستیں جیتی ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی پارٹی کو ایسا مضبوط عددی موقف حاصل ہے کہ لاکھ کوشش کے باوجود بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل نہیں کیا جاسکتا۔ اتنی مستحکم اکثریت کے باوجود بی جے پی کیوں بحث سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ راہول گاندھی کا یہ الزام بھی ہے کہ نریندر مودی ان سے خوفزدہ ہیں۔ وہ مختلف شہروں میں جوشیلی تقاریر کررہے ہیں لیکن ایوان میں اپوزیشن کا سامنا کرنے تیار نہیں ہیں۔ یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے۔ یہ صحیح کہ نریندر مودی کم و بیش ہر دن کوئی نہ کوئی تقریر یا بیان دیتے ہیں اور کرنسی کے ہی مسئلہ پر اپنے فیصلہ کی مدافعت کرتے ہیں لیکن اس ایوان پارلیمنٹ میں وہ نہ تو جواب دہی کے لئے تیار ہیں نہ خود اپنی مدافعت کے حق کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عجیب و غریب صورتحال ہے۔ ملک کے عوام بینکوں اور اے ٹی ایمس کے سامنے لمبی قطاروں میں گھنٹوں اپنے گاڑھے پسینے کی جمع کردہ رقم لینے ترس رہے ہیں ایسے میں ان ہی سے بمشکل 25 فیصد عوام ہی کو رقم ملتی ہے جبکہ مابقی 75 فیصد عوام خالی ہاتھ اور خالی پیٹ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

دوسرے دن رقم ملنے کی امید پر عوام اس بینک یا اے ٹی ایم کے سامنے پھر رات اس طرح سڑکوں پر گزارتے ہیں تاکہ صبح کی اولین ساعتوں میں انھیں رقم مل سکے۔ اس سرما کے موسم میں عوام ناقابل بیان تکالیف اور صعوبتوں سے گزر رہے ہیں۔ وزیراعظم ہیں کہ پارلیمنٹ میں اپنی پوزیشن صاف کرنے سے مسلسل گریز کررہے ہیں۔ یہ عوام دوست اور جمہوریت پسند وزیراعظم کا طرز عمل کیسے کہلا سکتا ہے۔ یہ رویہ تو ثابت کرتا ہے کہ ’’عوام خواہ کسی تکالیف میں مبتلا ہوجائیں میں تو اپنا موقف واضح نہیں کروں گا۔ یہ معاملہ ان معنوں میں باقی اور معاملات سے الگ ہے کہ الزام ملک کے وزیراعظم پر لگایا گیا ہے کسی چھوٹے موٹے لیڈر پر نہیں عائد کیا گیا ہے۔ عوام کو بھی جمہوری حق حاصل ہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ وزیراعظم کے منہ سے یہ سن لیں کہ انھوں نے (نریندر مودی) کیا سوچ کر کرنسی کی منسوخی کا فیصلہ کیا تھا۔ اور یہ کہ عوام کی مشکلات آخر کب کم ہوں گی کیوں 8 نومبر کو کئے گئے فیصلے (کرنسی کی منسوخی) 35 دن ہوگئے لیکن جو صورتحال روز اول تھی اب بھی برقرار ہے۔ عوام کی یہ بے چینی و اضطراب ان کے آلام و مصائب اپوزیشن کی مسلسل یلغار کے باوجود حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم کا یہ اٹل موقف کہ وہ پارلیمنٹ میں کچھ نہیں کہیں گے (ایوان میں حاضر رہنے کے باوجود بھی) آج اپوزیشن کو موقع فراہم کررہا ہے۔ ملک کے حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت کے سامنے عددی اعتبار سے کمزور اپوزیشن آج ایسی مضبوط چٹان بن گئی ہے کہ وہ حالات پر حاوی ہوگئی ہے۔ بینکوں پر دھاوؤں کے دوران کروڑہا روپئے ضبط کئے جارہے ہیں جبکہ غریب عوام کو 2000 روپئے بھی حاصل نہیں ہورہے ہیں۔ یہ کروڑہا روپئے نئی کرنسی کی صورت میں ضبط کئے جارہے ہیں۔ دہلی، ممبئی، کلکتہ میں ہی کیا ہر شہر میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کارروائیاں کررہی ہے۔ نئی کرنسی ضبط کی جارہی ہے۔ لیکن اس سے راست طور پر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ دن بہ دن یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ مودی حکومت نے نوٹ بندی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا کوئی اندازہ نہیں کیا تھا۔ بینکوں کے عہدیداروں کی مدد اور تعاون کے بغیر آخر کیسے کروڑہا کی نئی کرنسی غیر قانونی طور پر باہر آئی ہے۔ یہ وہی کالا دھن بھی تو ہوسکتا ہے جو ٹیکس کی چوری کرنے والوں نے جمع کر رکھا تھا۔ تو پھر وہ کالا دھن کہاں چھپ گیا جبکہ یہ حکومت اتنے پاپڑ بیل رہی ہے۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مقصد کالا دھن کھوج نکالنے کا کام شروع ہونے سے پہلے ہی اس میں چوروں نے اپنی نئی نئی راہیں ڈھونڈ نکالی ہیں تو پھر نوٹ بندی کا کیا مطلب ہوا۔ جبکہ ساری تکالیف عوام برداشت کررہے ہیں۔ مقصد براری نہیں ہورہی ہے تو پھر اس عمل کو جاری رکھنے اور اپنے فیصلے کی دفاع Defence کرنے پارلیمان میں اپوزیشن کا خاص طور پر راہول گاندھی کے حملوں کا جواب دینے سے وزیراعظم کیوں بچ رہے ہیں۔ اگر فیصلہ میں کوئی خامی ہے تو اس کو اپوزیشن کے صلاح و مشورہ سے دور کیا جاسکتا۔ اپوزیشن نے کبھی یہ نہیں کہاکہ کالا دھن کھود کر نہیں نکالا جائے۔ اپوزیشن کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ کرپشن اور بلیک منی کو کیوں مودی حکومت باہر نکالنا چاہتی ہے۔ اعتراض تو اس بات پر ہے کہ مودی حکومت نے اس کام کے لئے غلط طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ بی جے پی کا یہ سمجھنا کہ کالے دھن کو کھود کر نکالنے کی اپوزیشن مخالف ہے سراسر غلط ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ وزیراعظم اپنا موقف اور ان پر راہول گاندھی کے عائد کردہ الزام کا اطمینان بخش جواب دیں ورنہ عوام کا وہ اعتماد جو 2014 ء میں بی جے پی نے حاصل کیا تھا ٹوٹ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT