Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / وزیراعظم چند تجارتی گھرانوں کے چوکیدار، مودی کو مجلس کی مدد کیوں : راہول

وزیراعظم چند تجارتی گھرانوں کے چوکیدار، مودی کو مجلس کی مدد کیوں : راہول

کے سی آر کیمپ آفس کیلئے300 کروڑ خرچ، پرانا شہر نظرانداز، حلیف مجلس سے عوام کو فائدہ نہیں
کانگریس اقتدار پر پرانے شہر میں میٹرو ریل، ہاکرس پالیسی پر عمل، ٹھیلہ رانوں کیلئے جگہ کی فراہمی
ہندوستان، تلنگانہ اور حیدرآباد میں عوام کیلئے خوف و دہشت کا ماحول، امن کی علمبردار حکومت ضروری
تاریخی چارمینار کے دامن میں صدر کانگریس راہول گاندھی کا خطاب ۔ کے روشیا کو سدبھاؤنا ایوارڈ

حیدرآباد۔ 20اکٹوبر (سیاست نیوز) ملک میں دو نظریات کام کر رہے ہیں اورمودی اور ان کے حامی نفرت پھیلا رہے ہیں اور کانگریس کا نظریہ ملک میں محبت ‘ امن اور یکجہتی کا فروغ ہے ۔ مسٹر راہول گاندھی صدر کل ہند کانگریس کمیٹی نے ہفتہ کی شام تاریخی چارمینار کے دامن میں سدبھاؤنا یاترا سے اپنے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے شہریان حیدرآباد کو دعوت فکر دیتے ہوئے کہا استفسار کیا کہ کیوں مجلس مہاراشٹرا‘ بہار اور ملک کی دیگر ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کر رہی ہے؟ انہو ںنے مجلس پر وزیر اعظم نریندر مودی کی مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے جاننا چاہا کہ آخر کیوں وہ ان کی مدد کر رہے ہیں؟راہول نے کہا کہ ہندستان میں فرقہ پرست نظریات ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے ملک کی یکجہتی کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں ۔صدر کانگریس نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مجلس دونوں کا نظریہ نفرت کی سیاست اور عوام کو تقسیم کرنے والی سیاست کا ہے جبکہ کانگریس ملک میں اتحاد و اتفاق اور امن و محبت کی سیاست کے فروغ کیلئے کام کرتی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک بھر کی تمام ریاستوں میں عوام خوف وہراس کے عالم میں زندگی گذار رہے ہیں۔ راہول نے کہا کہ ہندستان ‘ تلنگانہ اور حیدرآباد کے عوام کو خوف و دہشت کے عالم سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں پرسکون اور امن کی علمبردار حکومت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہو ںنے پرانے شہر میں میٹرو ریل کو رکوانے کے معاملہ کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کی صورت میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ریل کا آغاز کیا جائے گاا ور ہاکرس پالیسی جو کہ یو پی اے دور حکومت میں روشناس کروائی گئی تھی اس پر عمل آوری کے ذریعہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو جگہ کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔ سدبھاؤنا یاتراسے راہول گاندھی کے خطاب کے موقع پر شہ نشین پرسابق گورنر تمل ناڈو ڈاکٹر کے روشیا‘ مسٹر ندیم جاوید قومی صدر اقلیتی کانگریس‘ کیپٹن اتم کمار ریڈی ‘مسٹر وی ہنمنت راؤ‘مسٹر ایم ششی دھر ریڈی ‘ مسٹر آر سی کنٹیا‘ مسٹرانجن کمار یادو‘ مسٹر وشنو وردھن ریڈی‘جناب محمد غوث‘ جناب سید یوسف ہاشمی ‘ مسٹر جی نرنجن ‘ مسٹر انیل کمار یادو کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔ راہول نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ حیدرآباد کے چھوٹے تاجرین کے مسائل سے بھی انہیں واقف کروایا گیا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں میں دہلی میں مودی اور کے سی آر اتحاد اور تلنگانہ میں کے سی آر اور مجلس کے اتحاد کو ملک و ریاست کے لئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر مودی کی تعریف کر رہے ہیں اور مجلس کے سی آر کی تعریف کر رہی ہے لیکن کانگریس نہیں چاہتی کہ اب ملک میں تقسیم کے نظریہ کو مزید فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور مجلس پر نفرت کی سیاست کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء قائم ہوکیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ انہو ںنے چیف منسٹر کے کیمپ ہاؤز کی تعمیر پر خرچ کئے گئے 300 کروڑ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چیف منسٹر کے مکان کی تعمیر پر 300 کروڑ خرچ کرسکتی ہے لیکن پرانے شہر کی ترقی اور عوام کی سہولت کیلئے میٹرو ریل کی تعمیر کے اقدامات نہیں کرسکتی ۔ انہو ںنے نریندر مودی کو 15-20 متمول تجارتی خاندانوں کا چوکیدار قرار دیتے ہو ئے کہا کہ وہ دراصل انیل امبانی کے چوکیدار بنے ہوئے ہیںجبکہ انہوں نے وزیر اعظم بننے سے قبل عوام سے ملک کا چوکیدار بنانے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ کالے دھن کو واپس لایا جائے گا لیکن کالے دھن کی واپسی کے بجائے جن لوگوں کے پاس کالا دھن تھا ان کے کالے دھن کو سفید کردیا۔ انہوں نے HALسے رافیل کے کنٹراکٹ کی ریلائنس کو منتقلی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس معاہدہ کے ذریعہ 30 ہزار کروڑ کا امبانی کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے نریندر مودی پر عوامی دولت کو لوٹنے اور متمول تجارتی گھرانوں کے حوالے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بیرون ملک کا صدروزیر اعظم ہند کو چور کہہ رہا ہے۔ راہول نے نوٹ بندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ماہرین معاشیات یہ کہہ رہے ہیں کہ نوٹ بندی کا فیصلہ پاگل پن تھا لیکن چیف منسٹر تلنگانہ نے اس فیصلہ کی بھی تائید کی ۔انہو ںنے کہا کہ موجودہ حکومت ہند اور تلنگانہ کے ذمہ دار گھمنڈ میں ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان سے پہلے ملک میں کچھ تھا ہی نہیں اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی سب کچھ ہو رہا ہے ۔ لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے وزیر اعظم متکبرانہ لہجہ میں گفتگو کر رہے ہیں جبکہ کانگریس کا یہ شعار نہیں ہے بلکہ کانگریس متانت کے ساتھ گفتگوکی حامی ہے۔انہو ںنے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے عوام نے نئی ریاست کی تشکیل کے ساتھ کئی خواب دیکھے تھے اور مستقبل میں بہت کچھ تبدیل ہونے کی توقعات ظاہر کی تھیں لیکن تلنگانہ کی تشکیل کے بعد صرف ایک خاندان نے فائدہ اٹھایا ہے اور عوام کو ان کے مسائل کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ ملک میں موجودہ حالات نظریاتی اختلافات کے درمیان جنگ کے مترادف ہے۔ انہوںنے مودی کی جانب سے پارلیمنٹ میں ساورکر کی تصویر آویزاں کئے جانے کا تذکرہ کرتے ہو ئے کہا کہ ساورکرنے انگریز وں کو خط لکھ کر معافی چاہی تھی اور مودی اس نظریہ کی سراہنا کر رہے ہیں جبکہ گاندھی‘ نہرو ‘ آزاد اور پٹیل کے علاوہ دیگر کانگریسی قائدین انگریز وں کے خلاف جنگ میں مصروف تھے ۔ انہو ںنے کہا کہ ان حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں کونسا نظریہ حکمراں طبقہ بنا ہوا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹر کے روشیا کو سدبھاؤنا ایوارڈ کے حصول پر مبارکباد پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT