Tuesday , September 25 2018
Home / مضامین / وزیراعظم کی تقریر حقائق کی کسوٹی پر

وزیراعظم کی تقریر حقائق کی کسوٹی پر

غضنفر علی خان
وزیراعظم نریندر مودی نے صدر جمہوریہ کی تقریر پر مباحث کے جواب میں جو طویل تقریر کی وہ ویسی ہی تھی جو کسی الیکشن ریالی میں کی جاتی ہے ۔ وہی ریت پر محل تعمیر کرنے کی کوشش ، وہی اپنی حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی ، وہی ہتھیلی میں جنت دکھانے کی کوشش ، وہی کانگریس کو یکسر غلط ثابت کرنے کی سعی لاحاصل ، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وزیراعظم کو ملک سے زیادہ اپنی پارٹی اور اپنی حکومت کی مدافعت وہ بھی بیجا انداز میں تائید کو اہم تقریر کا موضع بنادیا تھا ۔ وزیراعظم مودی کی ساری تقریر کے دوران اپوزیشن پارٹیاں نعرہ بازی کرتی رہیں جو اس موقع پر کی گئی تقریر میں نہیں ہوتی۔ مودی کو یہ حق دیا جانا چاہئے لیکن بات اپنی پارٹی بی جے پی یا این ڈی اے کی نہیں، تقریر میں سارا زور تمام تر لفاظی اور ان کے جسمانی حرکات و سکنات ظاہر کر رہے تھے کہ وہ ان کی حکومت پر اپوزیشن کی تنقیدوں سے بے حد پریشان ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کیفیت ان کی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ میں دیکھی گئی بلکہ چہرہ کے ہر لمحہ بدلتے ہوئے رنگ اور تیور سے بھی وزیراعظم کی پریشانی ظاہر ہورہی تھی اور یہ بھی دیکھا جارہا تھا کہ وہ ساری اپوزیشن کو نہیں بلکہ صرف کانگریس پارٹی ہی کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ کانگریس کے مستقبل اور اس کے حال سے زیادہ کانگریس کے ماضی کی داستان بیان کر رہے تھے اور اس کوشش کے دوران وزیراعظم نے کئی حقائق کو جن کا تعلق ماضی قریب Near Past سے ہے، بار بار دہرایا۔ یہاں تک کہہ دیا کہ آج سارا ملک کانگریس کی غلط حکمرانی کا خمیازہ بھگت رہا ہے ۔ کوئی وزیراعظم سے پوچھے کہ ملک کی تحریک آزادی کس نے چلائی ، انگریزوں کی لاٹھیاں ، گولیاں کس نے کھائی ۔ وہ کون لوگ تھے جو پھانسی کے پھندے پر چڑھ کر بھی انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے ۔ وہ کون بزرگ اور قابل احترام شخصیت تھی جس نے ہندوستان کی عوام کو بلا لحاظ مذہب و ملت عقیدہ اور مذہب کی جسد واحد بنادیا تھا ۔ وہ آر ایس ایس ، بجرنگ دل ، بی جے پی کا لیڈر نہیں تھا ، اس نے کانگریس کی فکر کو عیاں کرلیا تھا ۔ وہ بابائے قوم گاندھی جی ہی تھے ان کے حسن انتخاب کو داد دی جانی چاہئے کہ گاندھی جی نے پنڈت نہرو ، سردار ولبھ بھائی پٹیل ، مولانا ابوالکلام آزاد اور اس قبیل کے اور لیڈروں کو ایک ہی پلیٹ فارم اور ایک ہی مقصد ’’ملک کی آزادی کیلئے جمع کیا تھا ۔ اس پلیٹ فارم سے اسی گروپ نے ان ہی لیڈروں نے بالآخر ملک کو آزاد کروایا ۔ اس وقت اور کوئی جماعت نہ تھی۔ بی جے پی کا تو وجود تک نہیں تھا ۔ البتہ آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے عناصرضرور موجود تھے لیکن ان میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ وہ کانگریس کے نظریہ کو ماننے والوں کے سامنے زبان کھولتے۔ کوئی تحریک چلانے کی بات تو دور کی بات ہے ، تحریک آزادی کے دوران یہ عناصر انگریز حکمرانوں کے تلوے چاٹا کرتے تھے ۔ ان سے خفیہ ملاقاتیں کر کے معاہدے کرتے تھے ، اپنی عافیت کے لئے ملک و قوم کی عزت و آبرو کا سودا کیا کرتے تھے ۔ مودی جی کا پارلیمنٹ کی تقریر کے دوران یہ کہنا کہ آزادی کانگریس کا دیا ہوا کوئی تحفہ نہیں ہے تو پھر ذرا یہ بھی واضح کردیجئے کہ کن کی قربانیوں کے بعد آزادی نصیب ہوئی اور اتنی وسعت نظری رکھنے والے سارے ہندوستان کو متحد کرنے والے گاندھی جی کو پستول کی گولیوں کا نشانہ کس شخص نے بنایا تھا ۔ کیا آپ اس سچائی کا انکار کرسکتے ہیں کہ ملک کے محسن اور آزادی کے پرستار گاندھی جی کو آر ایس ایس ہی کے ایک کارکن ناتھو رام گوڈسے نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا اور یہ وہی آر ایس ایس ہے جس کی آغوش میں مودی جی اور ان کے بزرگ رہنماؤں نے تربیت حاصل کی تھی۔ جس کانگریس پر آج پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران ملک کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کرنے سے پہلے مودی جی آپ نے تحریک آزادی اور گاندھی کے قتل کے واقعہ کو پڑھا ہوتا اور اگر آپ میں ذہانت و فکر کا کچھ اثر ہوتا تو آپ اپنی تقریر میں یہ بھی کہتے کہ گاندھی جی کے قتل کے بعد سابق کانگریس وزیراعظم پنڈت نہرو آل انڈیا ریڈیو پر ہوئی اپنی تقریر میں یہ اعلان نہ کرتے کہ گاندھی کو قتل کرنیوالا مسلمان نہیں بلکہ ناتھورام گوڈسے ہے۔ اگر اس قتل عبث کے بعد نہرو نے یہ واضح نہ کیا ہوتا کہ گاندھی جی کا قاتل گوڈسے ہے تو ملک میں ہر طرف فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتے۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ کانگریس ملک کو ہندو مسلم بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے ۔ انتہائی خلاف واقعہ بات ہے ، حقائق سے بے خبری اور کانگریس سے غیر ضروری عداوت کا ثبوت ہے جس کے اظہار کا کوئی موقع بی جے پی ، سنگھ پریوار ، آر ایس ایس ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور اپنی تقریر کو بھی اس عداوت کے اظہار کا ذریعہ بناکر وزیراعظم نے یہ بھی ثابت کردیا کہ آپ نے ایوان پارلیمنٹ میں بھی سچائی کا ساتھ اور اس کو بیان کرنے سے گریز کیا ۔ آپ نے کہا کہ آپ کی حکومت کانگریس حکومتوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔ کیا ہندوستان کو سیکولر ملک بنانا، دستور اور قانون کی پابندی کرنا ، ملک کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے پالیسی اور منصوبہ بندی کرنا ، ناوابستگی کی تحریک کو مضوط کرنا ، ملک سے ہر قسم کے مذہبی تعصب کو ختم کرنا ، سدستور میں سب کیلئے مساوی مواقع فراہم کرنا بی جے پی حکومت کے خیال میں غلط فیصلے تھے۔ کانگریس یہ مانا کہ دودھ کی دھلی ہوئی نہیں ہے، فرقہ پرستی ، تنگ نظری کا پرچار آپ کی حکومت کر رہی جس بیباکی سے مسلم اقلیت کے جائز اور دستوری حقوق سے مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی آپ کی حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے ۔ ویسی تو کوئی بات کانگریس کے دور کی کسی حکومت نے نہیں کی۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کانگریس کے دور میں بھی ہوئے خون خرابہ اس وقت بھی ہوا تھا ۔ آپ کی حکومت اور کانگریس پارٹی کی حکومتوں میں یہ فرقہ ہے کہ کانگریس نے باقاعدہ طور پر اپنی پالیسی کے طور پر فرقہ پرستی کی پشت پناہی نہیں کی تھی ۔ ناانصافی کانگریس کے دور میں بھی ہوتی رہیں لیکن کسی حکومت نے اس کا جواز پیش نہیں کیا ۔ آپ کے دور میں تو ہر ظلم اور ہر زیادتی کا جواز پیش کیا جارہا ہے۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ بے شک پارٹی کے بعض منتخب شدہ ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کھلے عام ہندوؤں ، مسلمانوں سے صاف طور پر یہ کہتے ہیں جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں، انہیں پا کستان چلا جانا چاہئے ۔ ایسی بے رحمی سے کبھی مسلم اقلیت یا کوئی اور اقلیت کی تضحیک ، توہین ، دل آزاری کانگریس یا کسی غیر کانگریسی حکومت نے نہیں کی تھی ۔ پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران آپ نے یہ تک کہہ دیا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کھرگے اس انداز میں تقریر کر رہے تھے کہ گویا یہ ان کی پارٹی کی الوداعی تقریر ہے ۔ آپ نے بلا لحاظ پارلیمنٹ میں یہ بھی کہا کہ ’’ کرناٹک کے چیف منسٹر کو اب اپنا بوریا بستر لینا چاہئے ، یہ بات نہ صرف بے موقع تھی بلکہ لوک سبھا میں صدر کے خطبہ پر ہوئے مباحث کے پس منظر میں بھی بے محل تھی ۔ ایسا ہماری پارلیمانی تاریخ میں شاہد ہی ہوا ہے کہ وزیراعظم ایک طرف تقریر کر رہے ہوں اور ایوان کے ایک گوشے سے مسلسل اپوزیشن کے ارکان آوازیں لگا رہے ہوں کہ آپ جھوٹ بولنا بند کریئے ۔

TOPPOPULARRECENT