Friday , April 20 2018
Home / اداریہ / وزیراعظم کی خارجہ پالیسی

وزیراعظم کی خارجہ پالیسی

سب لوگ مجھے چھوڑ کے جب جانے لگے تھے
اُس وقت مجھے آپ نے پہچان لیا ہے
وزیراعظم کی خارجہ پالیسی
ہندوستان میں موجودہ ماحول ناقابل اصلاح خرابیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ اس میں سیاسی تنازعات کی نوکیلی کرچیوں کا فرش بچھا ہوا ہے ۔ عام انتخابات کا وقت قریب آنے سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی خارجہ پالیسیوں کو مضبوط و مستحکم بنانے کی اہم کوششیں کی ہیں ۔ ان کے حالیہ دورہ مشرق وسطی کو عالمی سطح پر قریب سے دیکھا گیا خاص کر فلسطین کا دورہ وزیراعظم مودی کا خارجہ پالیسی میں ایک مخصوص ہوم ورک کا مظہر سمجھا گیا ہے ۔ وزیراعظم نے نئی خارجہ پالیسی کے حصہ کے طور پر فلسطین کا دو روزہ دورہ کیا ۔ ہندوستانی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ تھا خاص کر مشرق وسطی میں نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت ہند نے خلیج میں ہندوستان کے ہمسایہ ملکوں تک رسائی حاصل کرنے میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے جہاں ہندوستان کے قیمتی مفادات پائے جاتے ہیں ۔ مودی نے غیر معمولی طور پر اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں برابری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک بہترین توازن کے ساتھ صدر فلسطین محمود عباس سے ملاقات کی ۔ اس سے قبل مودی نے جون 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور اس دورہ کے دوران وہ فلسطین نہیں گئے ۔ اب فلسطین کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کی جانب توجہ نہیں دی جب کہ مودی نے یہ دورہ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن کے دورہ ہند کے فوری بعد کیا ہے ۔ مشرق وسطی کے حساس مسائل میں فلسطین کے کاز کو ہندوستان ہمیشہ اہمیت دیتا رہا ہے اور مودی نے بھی ہندوستان کے موقف میں کسی قسم کی کمی آنے کی گنجائش کا موقع نہیں دیا ۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل اور فلسطین کے دو علحدہ مقام کا اشارہ دیتے ہوئے نریندر مودی نے فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے دیرینہ روایتی تعلقات کو ختم نہ کرنے کا ثبوت دے کر اپنی متوازن خارجہ پالیسی کو واضح کردیا ۔ حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے ۔ باہمی تعلقات میں قابل نوٹ طریقہ پر اضافہ ہوا ہے اور دفاعی و سلامتی معاملوں پر توجہ دی جاتی رہی ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ سائنس ، ٹکنالوجی زرعی اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جیسے شعبوں میں معاہدوں کے باوجود فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے معاشی تعاون اور ترقیاتی کاموں میں ہاتھ بٹانے کے علاوہ دو قومی حل نکالنے کے لیے اپنی سیاسی تائید کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا جانا ہندوستان کی دیرینہ دوستی کا مظہر ہے ۔ ہندوستان نے مشرق وسطی میں اپنے رول کو عالمی سطح پر بھی واضح کیا ہے ۔ خاص کر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے جاری کردہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرار داد کی بھی ہندوستان نے حمایت کی تھی اور اس کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔ وزیراعظم مودی کے اس سہ قومی مشرق وسطی دورہ میں اردن کے شاہ عبداللہ ثانی سے ملاقات میں ہندوستان ۔ اردن دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے ۔ متحدہ عرب امارات اور عمان کا دورہ بھی تاریخی اہمیت کا حامل بن گیا ۔ ہندوستان میں انفراسٹرکچر کو فروغ دینے میں خلیجی ملک یو اے ای کی دلچسپی قابل قدر ہے ۔ ولی عہد شہزادہ ابوظہبی محمد بن زائد النہیان نے مودی کے ساتھ وسیع تر باہمی مذاکرات کے ذریعہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اطمینان رول ادا کیا ہے ۔ خلیجی ممالک میں ہندوستانی باشندوں کی کثیر تعداد روزگار سے منسلک ہے اور تمام تر احترام ان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے بہتر تعلقات سے ہوتا ہے ۔ مودی حکومت کو ان ملکوں میں اپنی پالیسی میں فعالیت لانے کا اہم موقع ہے ۔ جس کو وزیراعظم ہند بخوبی طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی ہے ۔ خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت معقولیت کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں بیرون ہند مقیم ہندوستانیوں کے مستقبل کو مزید روشن بنانے میں مدد ملے گی ۔ لہذا اس کے لیے خصوصی توجہ بھی درکار ہے ۔ اس پس منظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مودی حکومت کے دیگر ملکوں خاص کر خلیجی ملکوں کے ساتھ روابط میں مزید استحکام آئے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT