Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / وزیراعظم کی لکھنو ریالی

وزیراعظم کی لکھنو ریالی

رکھ سکے محفوظ جو صحن چمن کی آبرو
غنچۂ و گل کو ہے اک ایسے نگہبان کی تلاش
وزیراعظم کی لکھنو ریالی
وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ لکھنو اور دسہرہ تہوار کے موقع پر عوام سے کئے گئے خصوصی خطاب کے اول اور آخر میں ’’جئے شری رام‘‘ کے نعرہ لگانے پر سیاسی گوشوں سے تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلباء کے ایک گروپ نے مودی کا پتلہ نذر آتش کیا تو یہ یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعہ میں گھر گئی ہے۔ دسہرہ تہوار کو بھی سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں نے خاص کر اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی تیاریاں کررہی پارٹیوں نے اپنی پالیسیوں کے مطابق سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔ بی جے پی چونکہ اپنے ہندوتوا نظریہ کی وجہ سے سیاسی طاقت بن کر اُبھری ہے تو لکھنو میں دسہرہ سمیلن کے لئے وزیراعظم کی آمد اور یہاں ایک سیکولر ملک کے وزیراعظم کا جئے سری رام کا نعرہ لگانا موضوع بحث بن چکا ہے۔ اترپردیش میں اس وقت سیاسی صورتحال نہایت ہی رسہ کشی کا شکار ہے۔ حکمراں پارٹی سماج وادی پارٹی کو اندرونی طور پر ناراضگیوں کا سامنا ہے تو بہوجن سماج پارٹی کو اپنی سابقہ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے رائے دہندوں کے غم و غصہ کا شکار ہونا پڑا ہے۔ کانگریس کا وجود نہیں کے برابر ہے۔ بی جے پی ہی اس ریاست کے فرقہ پرستانہ سوچ کے حامل گروپس کو حوصلہ بخش کر اپنی ساکھ مضبوط بناتے آرہی ہے۔ مگر اترپردیش کے عوام نے بی جے پی کو آزماکر دیکھا ہے۔ اس کی حکمرانی کے دوران اترپردیش کا معاشرہ کئی مسائل سے دوچار رہا ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے مودی کو اس ریاست میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز جئے شری رام کے نعرے سے کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو اس ملک کو ہندو راشٹرا بنانے کی پالیسی رکھنے والی پارٹی کے مستقبل کے عزائم واضح ہوجاتے ہیں۔ اترپردیش میں گزشتہ 25 سال کے دوران مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو نے حکومت کی ہے لیکن ان برسوں میں کسی بھی پارٹی نے عوام کے لئے مؤثر حکمرانی کا ریکارڈ قائم نہیں کیا۔ مایاوتی نے دلتوں کے ووٹوں کے ذریعہ حکومت کی مگر اس حکمرانی کے عوض عوام کو صرف ہاتھیوں، لیڈروں، مجسموں پر کروڑہا روپئے خرچ کرنے کی صورت میں تباہ کن معیشت حاصل ہوئی۔ عوام اس طرح کے سیاستدانوں سے بُری طرح مایوس ہوچکے ہیں۔ رشوت خوری اور مخالف عوام سیاستدانوں نے عوام کی دولت کو اندھا دھند طریقہ سے لوٹا ہے۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکام حکومتوں کو انتخابات کے دن عوامی ناراضگی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ یوپی میں بی جے پی نے بھی رام کا نام لے کر رائے دہندوں کے مذہبی جذبات کا فائدہ اُٹھانے کی ہمیشہ سے کوشش کی ہے۔ دہا 1990 ء کا دور اور آج کے حالات میں فرق پایا جاتا ہے۔ بی جے پی کے سینئر قائدین نے سنگھ پریوار کی آڑ میں اپنا سیاسی موقف مضبوط بنالیا تھا مگر عوام کو صرف رام کے نعرے سے راحت نہیں پہونچائی جاسکتی۔ ملک کے لاکھوں عوام رشوت کی لعنت کی وجہ سے غربت اور پسماندگی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ انھیں بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حکومت نے روزگار فراہم کرنے کے کئی وعدے کئے تھے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے نریندر مودی نے سالانہ ایک کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اب تک عوام کے حق میں صرف جئے شری رام کے نعرے ہی مل رہے ہیں۔ عوام کے بڑے گوشے کا خیال ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو چپراسی کی تک نوکری فراہم نہیں کی گئی۔ پوسٹ گریجویٹ امیدوار معمولی سرکاری ملازمت کے لئے بھی درخواستیں دے رہے ہیں بلکہ انٹرویوز کے لئے طویل قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی قابلیت کے بل پر نوکری نہیں ملتی بلکہ سفارش اور رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنے والے کم پڑھے لکھے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گنوار سیاستدانوں کے اَن پڑھ بچوں کو بڑے بڑے عہدے ملتے ہیں اور ان سیاستدانوں کی مثال شمالی ہند کی دونوں ریاستوں اترپردیش اور بہار کی سیاسی پارٹیوں اور ان کے سربراہوں و فرزندوں کی قابلیت سے دی جاسکتی ہے۔ دلتوں اور مسلمانوں  کے ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے کا مزہ رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ایک بار پھر اترپردیش میں انہی دلتوں اور مسلمانوں کے ووٹوں کی فکر لاحق ہوتی ہے مگر افسوس ہے کہ عوام کی بہبود اور ترقی کے لئے ان کے بلند بانگ انتخابی منشور کے باوجود اقتدار حاصل ہونے کے بعد تمام وعدے اور منشور کوڑے دان کی نذر ہوجاتے ہیں۔ لہذا عوام کی سمجھدار اکثریت کو ہی سوجھ بوجھ سے کام لے کر لیڈروں کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہئے۔ جئے شری رام کا نعرہ لگاکر ہندوستان کو کس سمت میں لے جانے کی کوشش ہورہی ہے اس سے بھی سیکولر عوام کو چوکنا رہنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT