Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / وزیراعظم کی منموہن سنگھ سے معذرت خواہی ضروری

وزیراعظم کی منموہن سنگھ سے معذرت خواہی ضروری

رینوکا چودھری کا ریمارک، کانگریس کا پارلیمنٹ میں احتجاج، دونوں ایوان میں کام کاج متاثر

نئی دہلی ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی کے اپنے پیشرو منموہن سنگھ کے خلاف ریمارکس پر پارلیمنٹ میں مسلسل احتجاج کے درمیان کانگریس لیڈر رینوکا چودھری نے آج کہا کہ اس معاملہ میں کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاوقتیکہ وزیراعظم اپنے تبصروں پر معذرت خواہی نہیں کرتے۔ رینوکا نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ملک کے وزیراعظم نے سابق وزیراعظم پر ملک کے خلاف اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا اور وہ بھی دشمن قوم کے ساتھ مل کر سازش رچانے کی بات کہی ہے۔ ’’کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ مسئلہ معذرت خواہی کا متقاضی ہے؟‘‘۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں آج شوروغل اور معمول کی کارروائی میں خلل اندازی کے پیش نظر میڈیا والوں نے کانگریس لیڈر سے سوال کیا تھا کہ آیا کسی درمیانی راستہ کا امکان ہے۔ اس مسئلہ پر راجیہ سبھا کی کارروائی پوری طرح متاثر ہوئی جہاں صدرنشین وینکیا نائیڈو نے کہا کہ معذرت خواہی کا سوال نہیں اٹھتا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے وزیراعظم سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے دن بھر پرشور احتجاج کیا اور ایوان بالا میں معمول کا کوئی کام کاج نہیں ہو پایا۔

لنچ سے قبل ایوان بالا کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی ہوئی اور پھر 2 بجے کے بعد کرسی صدارت میں اسے دن بھر کیلئے معطل کردیا۔ وزیراعظم کے ریمارکس کا لوک سبھا کی کارروائی پر بھی اثر پڑا ہے جہاں کانگریس ارکان نے دوپہر میں کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ ایوان بالا میں کانگریس والوں نے دن کی کارروائی شروع ہوتے ہی نعرے بازی کی اور شوروغل برپا کیا۔ جب احتجاجی ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے تو چیرمین نائیڈو نے ابتداء میں دوپہر تک اور پھر وقفہ سوالات کے دوران ایوان کی کارروائی کو 2 بجے تک ملتوی کیا۔ قبل ازیں چیرمین نائیڈو نے کہا کہ اس مسئلہ پر معذرت خواہی کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ایوان کے اندرون کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معافی مانگنے والا نہیں۔ اس ایوان میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ایوان میں کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ وقفہ سوالات کو معطل کرنے کی کوئی روایت نہیں۔ ایوان کو مذاق کا موضوع نہ بنائے کیونکہ پہلے ہی غلط پیام ابھر رہا ہے۔ اس پر اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم معذرت خواہی کا مطالبہ نہیں کررہے

لیکن وزیراعظم کو ایوان میں آکر کہنا چاہئے کہ انہوں نے اس طرح کے بیانات انتخابات جیتنے کیلئے دیئے ہیں۔ آزاد نے کہاکہ وزیراعظم کو وضاحت کرنا چاہئے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم، سابق نائب صدر اور سابق فوجی سربراہ کے خلاف اس طرح کے سنگین الزامات محض چناؤ جیتنے کیلئے دیئے اور یہ انتخابی چال رہی۔ راجیہ سبھا کے برخلاف لوک سبھا میں مودی اس وقت موجود تھے کیونکہ دفتروزیراعظم سے متعلق سوالات ہر چہارشنبہ کو پیش کئے جاتے ہیں۔ دوپہر میں جب ایوان کی کارروائی پہلے التوا کے بعد شروع ہوئی، کانگریس ارکان کے وسط میں پہنچ کر نعرے لگانے لگے اور اسپیکر سمترامہاجن سے اپیل کی کہ ان کے لیڈر ملک ارجن کھرگے کو بیان دینے کی اجازت دی جائے۔ اسپیکر ان اپیلوں سے متاثر نہیں ہوئی اور انہوں نے ایوان میں معمول کی کارروائی کو آگے بڑھانا چاہا لیکن کانگریس والوں کا احتجاج جاری رہا اور جب بی جے پی ایم پی پونم مہاجن نے ایوان میں اظہارخیال شروع کیا تو کانگریس ارکان کی نعرے بازی میں شدت پیدا ہوگئی اور ایوان میں شوروغل کا ماحول دیکھنے میںآیا۔

گجرات کامیابی پر وزیراعظم جذبات سے مغلوب
بی جے پی پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کے دوران آنکھیں تین مرتبہ نم
نئی دہلی ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی گجرات اسمبلی انتخابات میں کامیابی سے سرشار ہوکر آج جذبات سے مغلوب دکھائی دیئے۔ انہوں نے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گجرات انتخابات کی کامیابی کا تذکرہ کیا۔ تقریر کے دوران ان کی آنکھیں تین مرتبہ نم ہوگئیں۔ گجرات میں بی جے پی مسلسل 6 مرتبہ کامیاب ہوئی ہے لیکن اس مرتبہ بی جے پی کو راہول گاندھی سے سخت مقابلہ درپیش تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے پارٹی ارکان سے ملاقات کی۔ امیت شاہ کی تقریر کے بعد جب نریندر مودی نے مائیک سنبھالا تو پہلی مرتبہ ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ انہوں نے کہاکہ 1995ء سے گجرات میں ان کی پارٹی مسلسل 6 مرتبہ کامیاب ہوئی ہے۔ مودی کی آواز اس وقت ایک بار گلوگیر ہوگئی جب انہوں نے 1980-90 کے دوران گجرات قائدین کی خدمات کا حوالہ دیا۔ تیسری مرتبہ ان کی آنکھوں میں پانی اس وقت دیکھا گیا جب انہوں نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو یاد کیا اور ان کی جانب سے دو دہوں قبل دی گئی شاباشی کا تذکرہ کیا۔ مودی نے کہا کہ آج واجپائی جی کی صحت ٹھیک نہیں ہے اگر وہ صحتمند ہوتے تو گجرات کی کامیابی پر خوش ہوتے۔

TOPPOPULARRECENT