Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / وزیراعظم کے تبصرہ کی عدلیہ کی جانب سے مذمت

وزیراعظم کے تبصرہ کی عدلیہ کی جانب سے مذمت

نئی دہلی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے اس تبصرہ پر کہ اپوزیشن کو ’’فائیو اسٹار سرگرمیوں‘‘ کے سلسلہ میں چوکس رہنا چاہئے۔ اپوزیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے قوفی نہیں تھی بلکہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف انتہائی تباہ کن تبصرہ تھا۔ وزیراعظم نے مبینہ فائیو اسٹار سرگرمیوں کی تائید میں سنگین الزام عائد کیا ہ

نئی دہلی ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے اس تبصرہ پر کہ اپوزیشن کو ’’فائیو اسٹار سرگرمیوں‘‘ کے سلسلہ میں چوکس رہنا چاہئے۔ اپوزیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے قوفی نہیں تھی بلکہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف انتہائی تباہ کن تبصرہ تھا۔ وزیراعظم نے مبینہ فائیو اسٹار سرگرمیوں کی تائید میں سنگین الزام عائد کیا ہے کیونکہ عدلیہ کی کوئی فائیو اسٹار سرگرمیاں نہیں ہیں۔ کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ کہا کہ ان کے خیال میں یہ تحقیر عدالت ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ وزیراعظم کے تبصرے غیرضروری ہیں اور تحقیقات کے عدالت کے متعراف ہے۔ عام آدمی پارٹی کے باغیوں قائد نے یہ کہا کہ یہ تبصرہ ایسی شخصیت نے کیا ہے جس کی حکومت حصول اراضی قانون میں ترمیمات کررہی ہے۔ جو کاشتکاروں کے مفادات کے خلاف ہے۔ سی پی آئی ایم کی برنداکرت نے کہا کہ مودی فائیو اسٹار سرگرمیوں کا تبصرہ کررہے ہیں کیونکہ وہ خود 10 لاکھ روپئے مالیتی سوٹ پہنتے ہیں اور صدر امریکہ بارک اوباما سے ملاقات کے وقت بند گلے کا کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ جس پر ان کا نام تحریر تھا۔ برنداکرت نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ ایک جمہوری عمل کا حصہ ہے اور انہیں تحقیر عدالت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریاستوں کے چیف جسٹسوں اور چیف منسٹروں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کل کہا تھا کہ عدلیہ کو فیصلے قانون اور دستور کے مطابق کرنے چاہئیں۔ نظریات پر مبنی فیصلے نہیں سنانے چاہئیں کیونکہ نظریات عام طور پر فائر اسٹار سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ آدمی پارٹی نے کہا کہ مودی کے تبصرہ صحیح فکر رکھنے والوں کی آوازوں کو کچلنے کے مترادف ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہیکہ سرکاری عہدیداروں کو این جی اوز اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ایچ ایل دتو اور سپریم کورٹ کے کئی ججس وزیراعظم کی تقریر کے وقت اجلاس میں موجود تھے۔ بعدازاں چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ آج کے ججس بے خوف ہیں جیسے کہ وہ پہلے بھی تھے۔عام آدمی پارٹی کے تنقیدی بیان میں کہا گیا ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی کا اتوار کے دن اعلیٰ سطحی ججس سے خطاب عدلیہ کے نظام کو ڈنک مارنے کے مماثل تھا اور شہری حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کے خلاف تھا لیکن ان کی یہ تقریر نہ تو ملک و قوم کیلئے نئی تھی اور نہ حیرت انگیز۔ اس تقریر میں وزیراعظم کے خیالات بی جے پی حکومت کے وسیع تر ایجنڈہ کے مطابق تھے۔ مرکزی حکومت راست فکر رکھنے والے افراد کی آوازوں کو کچل دینا چاہتی ہے۔ بنیاد پر رجحانات کے خلاف مودی دوراقتدار میں جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، وزیراعظم نریندرمودی انہیں کچل دینا چاہتے ہیں کیونکہ مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت آر ایس ایس کے ہندو توا ایجنڈہ پر عمل کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT