وزیراعظم کے سکریٹری ، چیف جسٹس کی رہائش گاہ پہونچ گئے

 

گیٹس بند ، کچھ دیر انتظار بعد واپسی ، ٹیلی ویژن پر انکشاف
حکومت سے کانگریس کی جواب طلبی

نئی دہلی ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے پرنسپال سکریٹری نریندرا مصرا کو ٹیلی ویژن کلپس میں آج چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مصرا کی رہائش گاہ پہونچتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ اس سے ایک دن قبل سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف عملاً بغاوت کرتے ہوئے مقدمات کو منتخب انداز میں مختص کئے جانے کا مسئلہ اٹھایا ۔ ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا کہ نریندرا مصرا کو یہاں جسٹس دیپک مصرا کی سرکاری رہائش گاہ پر پہونچتے ہوئے دکھایا گیا ۔ تاہم گیٹس نہیں کھولے گئے اور کچھ دیر انتظار کے بعد وزیراعظم کے پرنسپال سکریٹری کو واپس جاتے ہوئے دیکھا گیا ۔ گزشتہ روز چار سینئر ججوں نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے پریس کانفرنس منعقد کی ، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ان ججوں نے چیف جسٹس پر اہم مقدمات تفویض کرنے کے معاملے میں جانبداری سے کام لینے کا الزام عائد کیا اور بتایا کہ انھوں نے چیف جسٹس سے شخصی طور پر ملاقات کرتے ہوئے انھیں اپنی فکرمندی سے واقف کرایا لیکن ان کی کوشش کا چیف جسٹس پر مثبت اثر نہ ہوا ۔ ان مقدمات میں سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے جسٹس بی ایچ لویا کی پراسرار موت کا مقدمہ بھی شامل ہے ۔ ٹیلی ویژن پر فوٹیج دکھائے جانے کے فوری بعد اپوزیشن کانگریس نے حکومت پر تنقید کرنے کا ایک موقع تلاش کرلیا اور کہا کہ وزیراعظم مودی کو یہ جواب دینا ہوگا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس ایک ’ خصوصی قاصد ‘ کیوں بھیجا گیا تھا ۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ ’’ وزیراعظم کے پرنسپال سکریٹری نریندرا مصرا 5 ،کرشنا مینن مارگ پر واقع چیف جسٹس آف انڈیا کی رہائش گئے تھے ۔ اس خصوصی قاصد کو چیف جسٹس کی رہائش گاہ بھیجنے کی وجہ پر وزیراعظم کو جواب دینا چاہئے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT