Monday , December 18 2017
Home / مضامین / وزیراعظم گاؤ رکھشکوں کے موافق یا مخالف

وزیراعظم گاؤ رکھشکوں کے موافق یا مخالف

غضنفر علی خان

مانسون پارلیمانی سیشن کے آغاز سے ایک دن قبل حسب روایت وزیراعظم مودی نے تمام سیاسی پار ٹیوں کے لیڈروں سے ملاقات کی، ایک دیرینہ روایت ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنی تقریر میں گاؤ رکھشکوں کے نام پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے تعلق سے کہا کہ ، کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ دراصل ریاستی حکومتوں کا اختیاری مسئلہ ہے ، یعنی انہوں نے مرکزی حکومت کو گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلو تہی کی اور صاف دامن بچاتے ہوئے کہا کہ قتل کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں، ان واقعات کا سلسلہ دادری میں محمد ا خلاق کے دل دہلانے اولے قتل کے واقعہ سے ہوا۔ پھر تو کیا تھا کہ جیسے گائے کی حفاظت کرنے والوں کو گویا ایک طرح سے لائسنس مل گیا چنانچہ پچھلے چند ماہ کے دوران گاؤ رکھشکوں نے دو قتل کئے۔ یہ سارے مقتول مسلمان ہی تھے ۔ کسی غیر مسلم کے قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی ۔ مسٹر مودی کا یہ کہنا کہ گاؤ رکھشکوں کی زیادتیوں اور قانون شکنی پر قابو پانا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ، ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرکزی حکومت کو ان واقعات کے لئے قطعی ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے ۔ یہ صحیح ہے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاستوں کا مسئلہ ہے لیکن یہ تمام واقعات ایسی ریاستوں میں ہوئے جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں۔ اس طرح سے بی جے پی گائے کے نام پر ہلاک کئے جانے والوں کی موت کی ذمہ دار ہے ۔ اس وقت ملک بھر میں صرف 11 ریاستیں ایسی ہیں جہاں بی جے پی حی حکمراں نہیں جو مابقی تمام ریاستوں میں یہی پارٹی حکومت کر رہی ہے ۔ ہندوستان بھر میں نظم و قانون کی برقراری اور قانون کی حکمرانی کی ذمہ داری صرف بی جے پی پر عائد ہوتی ہے ۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ لاء اینڈ آرڈر ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ بدترین ’’عذر لنگ‘‘ ہے۔

کسی با اقتدار وزیراعظم کو ہرگز ایسے کلمات کہنے کا اختیار نہیں کہ وہ کسی اہم کام کو اپنی یا اپنی پارٹی کی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ بین السطور میں وزیراعظم اپنی تقریر میں یہ کہنا چاہتے تھے کہ اگر ریاستی حکومتیں گاؤ رکھشکوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوگی ۔ اس سے زیادہ خطرناک بات انہوں نے یہ کہی کہ ’’گاؤ ہندو دھرم میں ایک مقدس چیز ہے ‘‘۔ مذہبی تقدس اپنی جگہ ایک سچائی ہے لیکن ملک کا سیاسی نظام اور حکومت کا کسی مخصوص مذہب کو دوسروں کے عقائد پر مسلط کرنا ایک علحدہ بات ہے ۔ مسٹر مودی نے گاؤ ماتا کے تقدس کو اجاگر کر کے ملک کے ان عوام کو صاف اشارہ دیا کہ وہ گائے کو اسی طرح مقدس سمجھیں جبکہ دوسرے عقائد اور مذاہب میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے ۔ ملک کے مسلمان ہی نہیں عیسائی اور ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والوں کی قابل لحاظ تعداد گائے کو مقدس نہیں سمجھیں گے۔ کچھ کہنے سے قبل بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے ۔ ان کی کہی ہوئی بات دراصل ان کے من کی بات ہے ۔ ایسا کہہ کر وزیراعظم قتل و غارتگری کے ان واقعات کو حق بجانب قرار دے رہے ہیں۔ ان کی کہی ہوئی بات گاؤ رکھشکوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی مماثل ہے، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اتنے حساس اور نازک مسئلہ پر ان کا اس بیباک انداز میں اظہار خیال کر کے وہ کیا پیام سیکولر ہندوستان کو دینا چاہتے ہیں۔ گاؤ رکھشکوں کی درپردہ تائید سے ان کا کیا مقصد ہے ؟ گاؤ رکھشکوں کی حمایت ہندوتوا کی حامی تمام جماعتیں کرتی ہیں۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ مودی جی اس ساری ہندوتوا برادری کی تائید کرتے ہیں؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ وہ ان قاتلوں کو سزا دینے سے گریز کر رہے ہیں؟ گاؤ رکھشکوں کو اپنی من مانی کرنے کیلئے واضح اور سخت پیام دینے کے بجائے کیوں وزیراعظم نے ایسی مصلحت پسندی سے کام لیا ؟ ان کی ساری تقریر میں گاؤ رکھشکوں کیلئے نرم گوشہ پایا جاتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس ملک دشمن طاقتوں کو نہ صرف سخت وارننگ دی جاتی بلکہ اب تک جو بھی دردناک واقعات ہوئے ان کے ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی۔ ان پر قتل کا مقدمہ چلایا جاتا ۔ اس اہم کام کے لئے علحدہ شعبہ قائم کیا جاتا ۔ ان کے دل میں خوف پیدا کیا جاتا تاکہ وہ آئندہ کبھی ایسی لرزہ خیز واردات انجام نہ دیتے۔ محمد اخلاق ، علیم الدین اور 17 سالہ نو جوان حافظ جنید کو ریل کے ڈبہ میں سنگدل افراد چاقو گھونپ کر اسے ختم نہ کرتے۔ وزیراعظم نے بڑی چالاکی سے ایک اور گمبھیر پیام دے کر سارے ملک پر واضح کردیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے مکتب خیال کے پروردہ ہیں ان کی سوچ ان کا انداز فکر اسی آر ایس ایس کی ذ ہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ وہ ہندوستان کے سیکولر مزاج کے دل سے قائل نہیں ہیں، ان کی حکومت نے صرف جمہوریت اور سیکولرازم کا نقاب لگا رکھا ہے جبکہ پیچھے آر ایس ایس اور ہندوتوا کا چہرہ چھپا ہوا ہے ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، سیکولر طاقتیں گروہوں ، پارٹیوں اور زمروں میں بٹی ہوئی ہیں۔ سیکولرازم کا بول بالا کرنے والے ابھی تک اپنا منہ چھپائے ہوئے ہیں جبکہ ہندوتوا کے حامی سارے ملک میں کھلے عام اپنی فکر و خیال کو عملاً نافذ کرنے کیلئے نہ صرف تیار ہیں بلکہ اس کے نفاذ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ ملک کا سیکولرازم اس کی رواداری بڑی تیزی سے قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے ۔ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ خدا خیر کرے ، ہماری رواداری ، ہمارے سیکولرازم کے خرمن میں حفاظت کرے۔

TOPPOPULARRECENT