Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / وزیراعظم گجرات اور سابق وزیراعظم ہند منموہن سنگھ میں فرق!

وزیراعظم گجرات اور سابق وزیراعظم ہند منموہن سنگھ میں فرق!

حیدرآباد ۔ 8 ڈسمبر (سیاست نیوز) سیاسی جماعت کے قائد اگر کسی انتخابی مہم میں شرکت کرتے ہیں تو وہ اپنی شخصی آمدنی یا پارٹی کے اخراجات پر خرچ کرتے ہیں لیکن جب وزیر اعظم یا مرکزی و زراء انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہیں تو کس کی دولت کا استعمال ہوتا ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کی گجرات انتخابات میں چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے مصارف سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں کیونکہ وزیر اعظم مسلسل گجرات میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور وزیر اعظم ملک یا بیرون ملک کسی بھی مقام پر مصروف رہیں ان پر ہونے والے اخراجات ملک کے ٹیکس دہندگان کی جانب سے ادا کئے جانے والے مالیہ پر ہی پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری مباحثہ میں نوجوانوں کی اکثریت وزیر اعظم کی انتخابی مہم سے اختلاف کر رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم کو اپنے عہدۂ وزارت عظمی کے علاوہ ملک کے ٹیکس دہندگان کے ان پر ہونے والے اخراجات کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ یہ دولت یا عہدہ ان کی پارٹی یا ان کا شخصی نہیں ہے ۔ مخالفت کرنے والے استدلال پیش کر رہے ہیں کہ جب وزیر اعظم کسی شہر کا دورہ کرتے ہیں تو سیکیوریٹی اور دیگر امور پر جو اخراجات ہوتے ہیں وہ وزیر اعظم کی سیاسی جماعت پر عائد نہیں کئے جاتے بلکہ سرکاری خزانہ سے جاتے ہیں۔ اپنے اس موقف کے دفاع میں جو دلیلیں دی جا رہی ہیں ان میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی جانب سے وزارت عظمی کے عہدہ پر رہتے ہوئے چلائی جانے والی انتخابی مہم کے حوالہ دیئے جا رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ منموہن سنگھ نے وزیر اعظم رہتے ہوئے انتخابی مہم میں بہت کم حصہ لیا اور وہ بھی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں تو انہوں نے دو یا تین دن سے زیادہ کبھی وقت نہیں دیا کیونکہ انہیں اپنے عہدہ کا پاس و لحاظ تھا علاوہ ازیں انہوں نے سرکاری خزانہ پر انتخابی مہم کے اخراجات کا بوجھ عائد نہیں کیا بلکہ انتخابی مہم سے خود کو اکثر دور ہی رکھا کرتے تھے خواہ وہ پنجاب کے انتخابات ہوں یا ریاست آسام کے انتخابات جہاں سے وہ رکن راجیہ سبھا ہیں۔ نریندر مودی کے گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران انتخابی مہم کا دفاع کرنے والے یہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ گجرات نریندر مودی کی آبائی ریاست ہے اسی لئے گجرات میں وزیر اعظم کی حیثیت سے نہیں بلکہ فرزند گجرات کی حیثیت سے وہ اپنی پارٹی کیلئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں اسی لئے ان پر اعتراض کرنا درست نہیں ہے جبکہ وہ بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی سیکیوریٹی پر کافی خرچ ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT