Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / وزیرخارجہ ایران کی وزیرخارجہ چین سے ملاقات

وزیرخارجہ ایران کی وزیرخارجہ چین سے ملاقات

بیجنگ۔13مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے آج کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ نیوکلیئر معاہدہ کے ’’واضح طور پر مستقبل کا فیصلہ ‘‘ کریں گے ۔ اس معاہدہ کو امریکہ کی جانب سے دستبرداری کے بعد ناکارہ ہوجانے کا خطر ہ درپیش ہے اور وزیر خارجہ ایران کے دورہ کا مقصد اس معاہدہ کا تحفظ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ چین اور دیگر ممالک کے دوروں سے ہم اس جامع معاہدہ کے مستقبل کا واضح طور پر تعین کرسکیں گے ۔ جواد ظریف بیجنگ کے وزیر خارجہ وانگ ای سے بات چیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ بعد ازاں وہ ماسکو اور بروسیلس روانہ ہوگئے تاکہ 2015ء کے اس معاہدہ پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک کے ارباب اقتدار سے تبادلہ خیال کرسکیں ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاہدہ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے اور ایران پر تازہ تحدیدات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر اُن کے یوروپی حلیف اور چین و روس برہم ہیں ۔ چین ان 6 عالمی طاقتوں میں سے ایک ہے جنہوں نے تاریخی معاہدہ پر دستخط کئے ہیں ۔ یہ تمام ممالک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں ۔ ایران پر عائد تحدیدات اس معاہدہ کے نتیجہ میں برخواست کردی گئی تھی اور ایران نے تیقن دیا تھا کہ وہ نیوکلئیر ہتھیار حاصل نہیں کرے گا ۔ ان کے دورہ چین پر پہنچتے ہیں جواد ظریف نے کہا کہ ایران تمام دیگر متبادل طریقوں کیلئے تیار ہے ۔ خبررساں ادارہ ’’اسنا‘‘ کے بموجب اگر اس معاہدہ کو جاری رکھنا ہے تو یہ ایرانی عوام کے مفاد میں ہوگا کہ ایسے تیقن دیں ۔ ملاقات کے بعد جواد ظریف اور وزیر خارجہ چین وانگ نے جامع دفاعی شراکت داری کی تعریف کی اور کہا کہ ان کے ممالک کی ایران کے ساتھ شراکت داری خود ان کے اپنے مفاد میں ہوگی ۔ وزیر خارجہ چین نے کہا کہ مجھے امید اور یقین ہے کہ کئی ممالک کے ان دوروں سے ایران کے جائز قومی مفادات اور علاقائی امن و استحکام میں مدد ملے گی ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اس دورہ کا آغاز علاقائی کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر شروع کیا ہے ۔ چند دن قبل اسرائیل نے شام میں ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے کر کے انہیں تباہ کردیا تھا ۔ ان حملوں میں کم از کم 11ایرانی جنگجو ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس سے یہ اندیشے پیدا ہوگئے کہ دونوں کٹر دشمنوں کے درمیان وسیع پیمانے پر تصادم کا امکان ہے ۔ روانگی سے قبل جواد ظریف نے اپنے ٹوئیٹر پر ایک سرکاری بیان شائع کیا جس میں ٹرمپ کے انتہا پسند انتظامیہ کی مذمت کی گئی جس نے بین الاقوامی کی مخالف کے باوجود معاہدہ سے ترک تعلق کیا ۔

TOPPOPULARRECENT