Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / وزیرمملکت کے موقف پر 5 سادھو حکومت مخالف مہم سے دستبردار

وزیرمملکت کے موقف پر 5 سادھو حکومت مخالف مہم سے دستبردار

بی جے پی حکومت پر اپوزیشن کی تنقید ، سرکاری فوائد سے سادھوؤں کا استفادہ سے انکار
اندور ؍ بھوپال ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیرمملکت کا موقف حاصل ہونے کے ایک دن بعد دو سادھو اپنے مجوزہ حکومت مخالف احتجاج سے دستبردار ہوگئے جو نرمدا تحفظ پروگرام میں مبینہ اسکام کے خلاف کیا جانے والا تھا، تیسرے سادھو نے کہا کہ وہ وزیرمملکت کے موقف سے استفادہ نہیں کرے گا۔ تنازعہ کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ ان کی حکومت چاہتی تھی کہ فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے تمام شعبہ ہائے حیات کے افراد کو حکومت میں شامل کیا جائے۔ بہیومہاراج نے جو پانچ سادھوؤں میں سے ایک ہیں، جنہیں وزیرمملکت کا موقف دیا گیا ہے، کہا کہ وہ وزیرمملکت کے موقف سے حاصل ہونے والے فائدوں سے استفادہ نہیں کریں گے۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے پہلے جو جاریہ سال کے اواخر میں مقرر ہیں، بی جے پی حکومت مدھیہ پردیش میں کل پانچ ہندو مذہبی رہنماؤں نرمدانند مہاراج، ہری ہرا نند مہاراج، کمپیوٹر بابا، بہیومہاراج اور پنڈت یوگیندر مہنت کو وزیرمملکت کا موقف عطا کیا تھا۔ 31 مارچ کو ان پانچوں کو ایک کمیٹی میں تعینات کیا گیا جو دریائے نرمدا کے تحفظ کیلئے قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے انہیں وزیرمملکت کا موقف دیا گیا تھا۔ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن نے کل اس کا اعلان کیا۔ کمپیوٹر بابا قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ وہ نرمدا گھٹالہ رتھ یاترا نکالیں گے اور ان کے ساتھ یوگیندر مہندر بھی ہوں گے۔ مدھیہ پردیش کے ہر ضلع میں یکم ؍ اپریل تا 15 مئی یہ یاترا نکالی جائے گی تاکہ مبینہ اسکام کو بے نقاب کیا جائے جو دریائے نرمدا کے ساحل پر شجرکاری کے سلسلہ میں کیا گیا ہے اور غیرقانونی ریت کانکنی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والے تھے۔ مہم کے تشہیری مواد وسیع پیمانے پر سماجی ذرائع ابلاغ پر شائع کئے گئے تھے۔ کمپیوٹر بابا نے آج کہاکہ انہوں نے یہ مہم منسوخ کردی ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے سادھوؤں کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ مان لیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اب ہمیں یاترا کیوں نکالنی چاہئے۔ حکومت کی سہولتوں سے استفادہ کرنے کیلئے جن کا مقصد وزیرمملکت کو سہولت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم عہدہ نہ حاصل کریں اور دیگر سرکاری سہولتوں سے استفادہ نہ کریں تو ہم نرمدا کے تحفظ کا کام کیسے کرسکیں گے۔ کمیٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے ہمیں ضلع کلکٹر سے بات چیت کرنا ہوگا اور دیگر ضروری انتظامات دریا کے تحفظ کیلئے کرنے ہوں گے۔ حکومت کا موقف ان کاموں کیلئے ضروری ہے۔ یوگیندر مہنت جو مجوزہ مہم کے کنوینر تھے، کہا کہ اگر ہم کو عہدہ اور دیگر سرکاری سہولتیں نہ ملیں تو ہم دریا کا تحفظ کیسے کرسکیں گے اور ضروری انتظامات کی نگرانی کیسے کریں گے۔ سرکاری موقف ان تمام کاموں کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی مجوزہ یاترا منسوخ کردی ہے کیونکہ حکومت نے ان کے مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے دریائے کے تحفظ کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔ 31 مارچ کو ان پانچوں سادھوؤں کو جن جاگرتا ابھیان سمیتی (عوام کے شعور کی بیداری کی مہم کمیٹی) کا رکن مقرر کردیا گیا ہے جو نرمدا کے تحفظ کیلئے تشکیل دی گئی ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے کل تقرر کے فیصلہ کو بی جے پی کی ان سادھوؤں کے استحصال کی کوشش قرار دیا ہے کیونکہ انہیں سماج میں ایک مقام حاصل ہے۔ بی جے پی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹی سادھوؤں سے متعلق کوئی بھی چیز پسند نہیں کرتی۔ اخباری نمائندوں کی جانب سے اس سوال پر کہ ان کی حکومت نے وزیرمملکت کا موقف مذہبی رہنماؤں کو کیوں دیا۔ چیف منسٹر چوہان نے جو ٹیکم گڑھ میں ہیں، آج کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے کام کریں، اس لئے ہم نے سماج کے تمام طبقات کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہیو مہاراج ان پانچ سادھوؤں میں سے ایک ہے جنہیں کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیرمملکت کے عہدہ سے متعلق تمام فوائد سے ترک تعلق کریں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ایسے انداز میں اپنے فرائض انجام دیں کہ خصوصی کمیٹی نرمدا کے تحفظ کیلئے تشکیل دی گئی ہے، وہ پورا ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ تاہم وہ کوئی سرکاری فوائد حاصل نہیں کریں گے جو وزیرمملکت کا موقف حاصل کرنے کے بعد انہیں دی جاتی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT