Thursday , April 19 2018
Home / Top Stories / وزیر اعظم اسرائیل کو خوش کرنے حج سبسڈی کی برخواستگی کا فیصلہ

وزیر اعظم اسرائیل کو خوش کرنے حج سبسڈی کی برخواستگی کا فیصلہ

کیا تعلیم پر خرچ کرنے دیگر فنڈز نہیں ہیں ؟ ۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر کا مرکز سے سوال
حیدرآباد 16 جنوری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کی خوشنودی حاصل کرنے مودی حکومت کی جانب سے حج سبسیڈی برخاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے حج سبسیڈی سے دستبرداری کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہاکہ رواں سال 2018 ء میں ہندوستان کے 1.75 لاکھ عازمین حج کیلئے روانہ ہونگے ‘ قرعہ اندازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ این ڈی اے حکومت کی مسلم دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے حکومت کے فیصلے کا اعلان کرکے سب کو چونکا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا 1.75 لاکھ عازمین کی درخواستیں قبول ہوچکی ہیں اور حج سفر کیلئے چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ مخالف مسلم وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو ہندوستان کے دورے پر ہیں، انھیں خوش کرنے نریندر مودی نے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے حج سبسیڈی کی رقم مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے مختار عباس نقوی کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مسلم خواتین و لڑکیوں کی تعلیم و ترقی کیلئے کیا مرکز کے فنڈس کی کوئی قلت ہے جس کی وجہ سے حج سبسیڈی کو برخاست کردیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر کتنا سنجیدہ ہے اس کا بھی علم ہورہا ہے۔ انہوں نے جدہ ۔ مکہ اور مدینہ میں عازمین حج کے میڈیکل کیمپس کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ عازمین کو طبی سہولتیں فراہم کرنا مرکزی و ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ اگر حج سبسیڈی ایر انڈیا کیلئے بوجھ ہے تو حکومت اوپن ٹنڈرس طلب کرے جس سے ایرلائنس کمپنیوں میں نہ صرف مسابقت بڑھ جائیگی بلکہ 1.75 لاکھ عازمین کو سعودی عرب لیجانے اور واپس لانے کئی ایرلائنس کمپنیاں اپنی خدمات کی پیشکش کریں گی جس سے عازمین کو اچھی اور آرام دہ ایرلائنس کی خدمات حاصل ہوں گی اور فلائٹس کے کرائے بھی بڑی حد تک گھٹ جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT