Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / وزیر اعظم نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ملاقات کا وقت نہیں دیا

وزیر اعظم نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ملاقات کا وقت نہیں دیا

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی نے الزا م لگایا کہ بہت ہی ہوشیاری سے مرکز ی حکومت نے صرف تین طلاق کے عمل کو ہی نہیں بلکہ طلاق کی تمام اقسام پرپابندی لگانے کی کوشش کی ہے۔
حیدرآباد۔ طلاق ثلاثہ بل کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے وزیراعظم نریندر مودی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ابھی تک ملاقات کا کوئی وقت نہیں دیا۔ یہ اطلاع مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ندوی ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہاں ایک پر یس کانفرنس دی اور کہاکہ متعلقہ بل کے نقائص سے مسٹر مودی کو واقف کروانے کے لئے ان سے بذریعہ مکتوب ملاقات کا وقت مانگا گیا لیکن آج تک اس خط کا جواب نہیں دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ بل سے متعلق مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لکھنو میں اپنی ایمرجنسی میٹنگ بلائی جس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ وزیراعظم سے نمائندگی کی جائے گی لیکن افسوسناک بات ہے کہ وزیر اعظم نے بورڈ کے ارکان سے ملاقات کو وقت نہیں دیا۔

مولانانعمانی نے لوک سبھا میں منظور طلاق ثلاثہ بل کو طلاق کے نظام کو ختم کردینے کا ایک منصوبہ قراردیتے ہوئے کہاکہ یہی وجہہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کی شدید مخالفت کرتا ہے اور اسے مسلمانوں کے ہی خلاف نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف گردانتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس بل کے ایسے تمام نکات جو شریعت سے ٹکراتے ہیں‘ حذف کردے تو بورڈ اس بک کو قبول کرنے کو تیار ہے۔مولانا نعمانی نے الزام لگایا کہ بہت ہی ہوشیاری سے مرکزی حکومت نے صرف تین طلاق کے عمل کو ہی نہیں بلکہ طلاق کے تمام اقسام پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے ۔

انہوں نے دعوی کیا کہ طلاق ثلاثہ سے متعلق جو قانو ن لایاگیا ہے ویسا قانون کسی بھی ملک میں نہیں ہے لہذا تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس او رآندھرا پردیش کی حکمراں جماعت تلگودیشم پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس بل کی مخالفت کرنا چاہئے۔وہ ضمیر کی آواز پر اس قانون کاجائزہ لیں اور اس بات کاعہد کریں کہ اس صورت میں اس بل کو قطعی کامیاب ہونے نہیں دیاجائے گا۔ انہوں نے اس استدلال کے ساتھ سپریم کورٹ کے ججوں نے طلاق متعینہ شکلوں کو مانا ہے دعوی کیا کہ حکومت نے طلاق کے دیگر سسٹم پر ہی مبینہ پابندی عائد کرنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بل میں طلاق بائن کے لفظ کا بھی استعمال کیاگیا ہے۔ اس قانون کے ذریعہ عورت کو مجبور کیاجائے گاکہ وہ اس شخص کیساتھ زندگی گذارے جس سے وہ چھٹکارہ پانا چاہتی ہے۔ اسی طرح یہ بل خواتین کے حقوق کے خلاف ہے کیونکہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ طلاق احسن اور طلاق حسن پر بھی پابندی لگائی جائے ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ اس قانون کے نقائص کو دور کرانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کی جائے گی۔ اگر حکومت اس سلسلہ میں پہل کرتی ہے تو اس کا خیر مقدم کیاجائے گا۔ اس موقع پر مولانا سجاد نعمانی نے یہاں آج سے سہ روزہ اجلاس عام کے سلسلہ میں تفصیلات سے بھی واقف کروایا۔ بورڈ کا یہ 26واں اجلاس ہے جس میں پورے ملک سے 500علماء دانشوار اور ارکان بورڈ کی شرکت متوقع ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ایک نشست ورکنگ کمیٹی کی ہوگی او ربقیہ تین نشستیں ہوں گی۔ دوروزہ اجلاس میں تجاویز اور قراردادیں پیش کی جائیں گی جن سے میڈیا کو واقف کروایاجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ بل میں جو نقائص ہیں ان کو کیسے دور کیاجائے اس پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس موقع پر صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیر سٹر اسدالدین اویسی ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری ال انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ‘مولانا عمرین محفوظ رحمانی سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ رحیم الدین انصاری رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ میڈیا کوارڈینٹر ایم اے ماجد‘ سینئر صحافی عزیز احمد موجود تھے۔ اس سلسلہ میں بورڈ کی جانب سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس نے پورے ملک کی ایسی مساجد کا سروے کیاہے ۔ جمہوری طریقہ کار پر قانونی کاروائی اس سلسلہ میں کی جارہی ہے جس کا جائزہ لیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ کے شعبہ خواتین کی رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔

اس کی بیداری مہم کے دائرہ کا وسیع کرتے ہوئے کئی خواتین کو اس میں شامل کرنے پر بھی بات چیت ہوگی۔ماڈل نکاح نامہ میں تبدیلی کی تجویزپر انہوں نے کہاکہ بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈہ میں شامل امور سے ہٹ کر کوئی مسئلہ اگر پیش کیاجاتا ہے تو اس پر صدر کی اجازت سے تبادلہ خیال کیاجائے گا۔ بابری مسجد مسئلہ پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دستور شریعت کی روشنی میں جو کام ہوسکے گاوہ کام کیاجائے گا۔

اس سوال پر کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے سے متعلق بیانات دئیے جارہے ہیں تو انہو ں کہاکہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے جوبیانات دئے جارہے ہیں وہ عدالت کی توہیں ہے۔کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیرالتوا ء ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنا مناسب نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT