Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / وزیر اعظم پر تلنگانہ کی توہین کا الزام، معذرت خواہی کا مطالبہ

وزیر اعظم پر تلنگانہ کی توہین کا الزام، معذرت خواہی کا مطالبہ

تلگو عوام کی تاریخ ، تہذیب و تمدن سے مودی ناواقف ،ریونت ریڈی کا بیان

حیدرآباد۔/7فبروری، ( سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی ریونت ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تلنگانہ کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا اور بی جے پی کو تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک سے ملک کے وزیر اعظم واقف نہیں ہیں۔ انہوںنے پارلیمنٹ کا دروازہ بند کرکے تلنگانہ بل منظور کرنے کا ریمارکس کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کی توہین کی ہے۔ ملک کے کسی بھی ایوان میں جب بل کی منظوری کیلئے رائے دہی کی نوبت آجاتی ہے تو دروازہ بند کرکے ہی ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔ مودی تلگو عوام کی تاریخ ، تہذیب و تمدن سے واقف نہیں ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہی نیلم سنجیوا ریڈی کو صدر جمہوریہ، پی وی نرسمہا راؤ کو وزیر اعظم اور انجیا کو چیف منسٹر بنایا تھا۔ مرکز کی جانب سے وعدوں کی عدم تکمیل پر این ڈی اے کی حلیف تلگودیشم پارلیمنٹ میں احتجاج کررہی ہے جس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہونے والے وزیر اعظم کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ سے جو بھی وعدہ کئے گئے تھے مرکزی حکومت اس کو پورا کرنے اور ٹی آر ایس مرکز پر دباؤ ڈالنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ یہاں تک کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پانی، فنڈز، ملازمتوں کی تقسیم کے جو تنازعات ہیں ان کی یکسوئی کیلئے وزیر اعظم نے دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس کو بات چیت کیلئے ٹیبل پر بٹھانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ایسے نااہل وزیراعظم کو تلنگانہ ریاست کی تشکیل پر ریمارک کرنے کا کوئی اخلاقی حق بھی نہیں ہے۔ بی جے پی فوری تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کرے بصورت دیگر بی جے پی کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا جب بی جے پی کی واجپائی اور ا ڈوانی قیادت کیا کرتے تھے آج کی بی جے پی کو امبانی اور اڈانی نے یرغمال بنالیا ہے۔ بی جے پی میں اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور یشونت سنہا جیسے سینئر قائدین کی توہین کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ یہ مودی حکومت کا آخری مکمل بجٹ ہے۔ انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے وزیر اعظم جملہ بندی کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ این ڈی اے حکومت کے 4 سال مکمل ہونے کے باوجود تلنگانہ میں ریلوے کوچ فیکٹری، اسٹیل پلانٹ، ایمس قائم نہیں ہوا اور نہ ہی ہائی کورٹ کی تقسیم ہوئی ہے۔ راجستھان کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست سے وزیر اعظم خوفزدہ ہوگئے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر غیر ضروری کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ بی جے پی کو تلنگانہ میں پرچم لہرانے کا بھی حق نہیں ہے۔ مرکزی وزراء اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ وزیر اعظم کے غلاموں کی طرح کام کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT