Friday , September 21 2018
Home / سیاسیات / وزیر اعظم کی سرزنش سے گیری راج سنگھ جذبات سے مغلوب

وزیر اعظم کی سرزنش سے گیری راج سنگھ جذبات سے مغلوب

نئی دہلی۔/21اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) میڈیا میں یہ بھانڈا پھوڑنے پر کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران سرزنش کرنے پر وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے تھے۔ مرکزی وزیر گیری راج سنگھ نے آج کہا کہ ایسی کوئی ملاقات ہوئی اور نہ ہی ان کے روبرو جذبات سے مغلوب ہوئے۔ میڈیا کے نمائندوں نے جب ان سے دریافت کیا کہ نریندر مودی سے ملاقات کے دوران وہ جذب

نئی دہلی۔/21اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) میڈیا میں یہ بھانڈا پھوڑنے پر کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران سرزنش کرنے پر وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے تھے۔ مرکزی وزیر گیری راج سنگھ نے آج کہا کہ ایسی کوئی ملاقات ہوئی اور نہ ہی ان کے روبرو جذبات سے مغلوب ہوئے۔ میڈیا کے نمائندوں نے جب ان سے دریافت کیا کہ نریندر مودی سے ملاقات کے دوران وہ جذباتی ہوگئے تھے جس پر انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ قبل ازیں ٹیلی ویژن چینلوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ گذشتہ ماہ صدر کانگریس سونیا گاندھی کے خلاف نسل پرستانہ ریمارکس پر وزیر اعظم نے گیری راج سنگھ سے باز پرس کی تھی، جس پر دل گرفتہ ہوگئے ۔ انہوں نے اُلٹا یہ سوال کیا کہ وزیر اعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، کس نے کہا کہ میں نے ان سے ملاقات کی ہے۔ لوک سبھا میں کل اس مسئلہ پر کانگریس ارکان کے احتجاج کے سبب گیری راج سنگھ نے سونیا گاندھی کے خلاف اپنے ریمارکس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کانگریس ارکان کے احتجاج پر انہیں جواب دینے کی ہدایت دی تھی جنہوں نے مرکزی وزیر کے ریمارکس کو نسوانیت کی توہین قرار دیا اور ان سے استعفی کا مطالبہ کیا تھا،

جس پر گیری راج سنگھ نے کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ اگر میرے تبصروں سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو اس پر مجھے افسوس ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر چھوٹی اور اوسط مصنوعات اس وقت تنقید کے نشانہ پر آگئے جب انہوں نے سونیا گاندھی کے خلاف نسل پرستانہ تبصرہ کیا تھا جس میں کہا تھا کہ اگر سونیا گاندھی کی رنگت گوری نہیں ہوتی تو آیا کانگریس ان کی قیادت کو قبول کرتی تھی ؟ ۔ اور راجیو گاندھی کی کسی نائیجریا کی خاتون جو کہ سیاہ فام ہوتی شادی کرتے توکیا کانگریس ان کی قیادت کو قبول کرتی تھی۔ تاہم گزشتہ ماہ تنازعہ پیدا ہونے کے بعد بھی انہوں نے کہا کہ صحافیوں سے شخصی ملاقات کے دوران یہ تبصرہ کیا تھا جسے منظر عام پر نہیںلایا جانا چاہیئے تھا۔ وزیراعظم کے بیرونی دورہ سے واپسی کے بعد وزیر اعظم کی مداخلت پر انہوں نے اس تبصرہ پر افسوس کا اظہار کرلیا۔ وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے اس مسئلہ کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہا کہ اب یہ باب بند ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT