Friday , December 15 2017
Home / اداریہ / وزیر اعظم کے پھر نئے وعدے

وزیر اعظم کے پھر نئے وعدے

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے
وزیر اعظم کے پھر نئے وعدے
وزیر اعظم نریندر مودی اپنی معیاد کے تقریبا ساڑھے تین سال پورے کرچکے ہیں۔ اس مدت کے دوران انہوں نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل عوام سے کئے گئے وعدوں میں شائد ہی کوئی وعدہ پورا کیا ہو ۔ انہوں نے گذشتہ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھائی تھی اور سبز باغ دکھاتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیا تھا ۔ انہوں نے عوام کو سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے ملک سے بیروزگاری ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ کالا دھن واپس لانے اور عوام کے کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ساڑھے تین سال اقتدار پر رہنے کے باوجود انہوں نے عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے کہا تھا کہ انہوں نے کانگریس کو 60 سال دئے ہیں لیکن انہیں صرف 60 مہینے دئے جائیں اور اس مدت کے دوران ملک کے حالات کو بدل دینگے ۔ ساڑھے تین سال کی مدت گذر چکی ہے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا ہے ۔ اس ملک میں اب تو بقول راج ٹھاکرے سوائے نوٹوں کے رنگ کے اور کچھ نہیں بدل پایا ہے ۔ نہ مہنگائی پر قابو پایا جاسکا ہے اور نہ عوام کو روزگار فراہم کیا گیا ہے ۔ ان وعدوں کو بی جے پی کے قائدین نے انتخابی جملے قرار دیتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی تھی ۔ اب جبکہ آئندہ انتخابات کیلئے وقت قریب آتا جا رہا ہے اوراپوزیشن کی جانب سے ان وعدوں پر سوال کیا جاسکتا ہے اور عوام کے ذہنوں میں بھی یہ بات آسکتی ہے اس وجہ سے بی جے پی صدرا میت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے لب و لہجہ میں تبدیلی آگئی ہے ۔ یہ لوگ اب پرانے وعدوں کو عوام کے ذہنوں سے نکالنا چاہتے ہیں اس لئے وہ ابھی سے عوام سے نت نئے عدے کرنے میں لگ گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو اچھے دن کے جملہ کو فراموش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور 2019 تک کا نشانہ عوام کے ذہنوں سے ہٹانے کیلئے اب تقریبا ہر منصوبہ کو 2022 تک کیلئے توسیع دیدی گئی ہے ۔ یہ در اصل عوام کے ذہنوں اور ان کی رائے پر خود کو مسلط کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ عوام کو گمراہ کرنے اور بیوقوف بنانے کا ایک نیا انداز ہے جو مودی اور امیت شاہ کی جوڑی نے اپنایا ہے ۔
جہاں تک مہنگائی کا سوال ہے اس کو بی جے پی اور نریندر مودی نے 100 دن میں کم کرنے کا عوام سے وعدہ کیا تھا ۔ آج سارا ہندوستان اس بات کا گواہ ہے کہ اس حکومت کے ساڑھے تین سال میں مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ عالمی مارکٹ میں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے باوجود اندرون ملک ٹیکس اور اکسائز ڈیوٹی میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مسلسل بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ یومیہ قیمتوں میںا ضافہ کرکے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ گذشتہ دو مہینوں میں پٹرول کی قیمتوں پر 6 روپئے تک کا غیر محسوس انداز میں اضافہ کردیا گیا ۔ دیگر اشیا ئے ضروریہ کی قیمتیں اس اقتدار میں کم ہونے کی بجائے کئی گناہ بڑھ گئی ہیں۔ کئی چیزیں تو ایسی ہیں جن کی قیمتوںمیں صد فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ دودھ اور ادویات کی قیمتوں پر قابو پانے میں بھی حکومت پوری طرح ناکام ہے ۔ بیرونی ملکوں سے کوئی کالا دھن واپس نہیں آسکا ہے بلکہ خود ہندوستانیوں کے پاس محنت کی جو کمائی جمع کی ہوئی تھی اس کو بھی نوٹ بندی کے نام پر حکومت نے ہڑپ لیا اور اسے بینکوں کی نذر کردیا گیا ۔ روزگار فراہمی پر تو حکومت کی کوئی توجہ ہی نہیں ہے ۔ اس کی توجہ صرف گائے کے تحفظ ‘ بیف پر پابندی ‘ تین طلاق ‘ یکساں سیول کوڈ جیسے مسائل پر ہے جن کا ملک کی ترقی اور پیشرفت سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی وجہ سے ملک کی ترقی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے تو ملک کی معیشت پر اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے ۔
حکومت اس طرح کے بنیادی مسائل پر توجہ کرنے اور گذشتہ انتخابات سے قبل کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی بجائے اب نئے وعدے کرتے ہوئے عوام کو نئے انداز سے دوبارہ گمراہ کرنے کی کوشش میں جٹ گئی ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ عوام 2019 کے نشانہ کو فراموش کر جائیں ۔ اسی لئے حکومت نے 2022 کو پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ اب ہر منصوبہ اور ہر اسکیم کو 2022 سے مربوط کیا جا رہا ہے ۔ اس کا مقصد و منشا یہی ہے کہ عوام اب سابقہ وعدوں پر سوال ہی نہ کرسکیں اور ان کو ایک بار پھر سبز باغ دکھاتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل کرلئے جائیں ۔ یقینی طور پر ملک کے وزیر اعظم عوام سے مستقبل سے متعلق اپنے منصوبوں کے وعدے کرنے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں یہ بھی احساس ہونا چاہئے کہ ملک کے عوام بھی چونکہ انہیں ووٹ دیتے ہیں اس لئے وہ بھی وزیر اعظم سے سابقہ وعدوں پر سوال کرنے کے مجاز ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT