Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / وزیر خارجہ سنگاپور سے سشما سوراج کی ملاقات

وزیر خارجہ سنگاپور سے سشما سوراج کی ملاقات

ڈاکٹر ووین سے آسیان کے دفاعی اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال
سنگاپور ۔ 7جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر خارجہ سشما سواراج نے آج وزیر خارجہ سنگاپور ڈاکٹر ووین بالا کرشنن سے ملاقات کر کے باہمی اور کثیر جہتی معاشی اور دفاعی شراکت داری کے مسائل پر بات چیت کی ۔ دونوں قائدین نے آسیان اور ہندوستان کے درمیان زبردست تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت کی ۔ دونوں قائدین نے باہمی اور کثیر جہتی مسائل پر بات چیت کی ۔ وزیر خارجہ کے ہمراہ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار بھی تھے ‘ انہوں نے اپنی ایک ٹوئیٹر تحریر میں کہا کہ سشما سواراج نے آسیان ۔ ہند پرواسی بھارتیہ دیوس کے موقع پر خطاب کیا ۔ اس کے دوران انہوں نے ایک بار پھر تیقن دیا کہ ہندوستان آسیان کی فلاح و بہبود کا پابند ہے ۔ انہوں نے آسیان ممالک کے وفود سے بھی ملاقات کی ‘ جو پرواسی بھارتیہ دیوس میں شرکت کیلئے آئے تھے ۔ بالا کرشنن نے کہا کہ جامع معاشی شراکت داری آسیان اور اس کے 6کلیدی شراکت داروں کے ساتھ ہندوستان کے تعاون کا تاریخی موقع موجود ہے ۔ دنیا کا وسیع ترین تجارتی بلاک قائم کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرے تو دنیا کی جملہ آبادی کے نصف سے زیادہ حصہ اور جی ڈی پی کی ایک تہائی کا احاطہ کرے گا ۔ معاشی یکجہتی واحد طریقہ نہیں ہے ۔ تاہم یہ ہندوستانی عوام اور آسیان عوام کے درمیان باہمی خوشحالی کیلئے ایک اہم اصول ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی امکانات ہیں ‘ ان سے ہنوز استفادہ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ تجارت ‘ سیاحت اور دیگر شعبوں میں ہندوستان اور آسیان ممالک کی شراکت داری کے عظیم مواقع موجود ہیں ۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ کم قیمت پروازیں شروع کی جائیں تاکہ تجارتی افراد اور سیاحوں کے سفر کی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔ ہندوستان اور آسیان نے اسمارٹ شہروں کو باہم مربوط کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے بہترڈیجیٹل ربط کی بھی ضرورت پر زور دیا ۔ قبل ازیں سشما سواراج نے کہا تھا کہ ہندوستان آسیان کے ساتھ شراکت داری کی بات چیت کرنا چاہتا ہے جس میں دفاعی شراکت داری بھی شامل ہیں ۔ ہندوستانی برادری کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جائے گا تاکہ آسیان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آسیان ممالک کو اپنا ساتواں سب سے بڑا شراکت دار سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان سب کے ساتھ باہمی تعاون کے تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2016-17ء کی بہ نسبت باہمی تعاون میں 8فیصد اضافہ ہواہ ے ۔

TOPPOPULARRECENT