Monday , November 20 2017
Home / دنیا / وسطی شام میں 25جہادیوں کی کمانڈرس کے ہاتھوں ہلاکت

وسطی شام میں 25جہادیوں کی کمانڈرس کے ہاتھوں ہلاکت

دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ وسیع ریگستانی علاقہ پر شام کی سرکاری فوج کا قبضہ بحال ‘ روس اور حلیفوں کی تائید
بیروت۔13اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) روسی لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹرس کی تائید سے ایک کمانڈو کارروائی کے دوران دولت اسلامیہ جہادی گروپ سے تعلق رکھنے والے 25جہادی وسطی شام میں ہلاک کردیئے گئے ۔ نگرانکار ادارہ نے آج کہا کہ شام کی سرکاری فوج نے اپنے حریف ملک روس کی تائید سے ایک ماہ طویل جارحانہ کارروائی وسیع ریگستانی علاقہ پر جو ملک کے وسط میں پھیلا ہوا ہے قبضہ کرنے کیلئے شروع کر رکھی ہے ۔ یہ عراق کے وسط سے اردن اور عراق کی سرحدوں تک پھیلا ہوا ریگستان ہے ۔ کل دولت اسلامیہ کے 25 ارکان ہلاک کئے گئے تھے جب کہ دیگر افراد شامی سرکاری فوج کے کمانڈوز کی کارروائی میں زخمی ہوئے ۔ اس کارروائی میں شام کے حلیف ملک روس سے لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے مدد کی ۔ یہ کارروائی صوبہ حمص کے شمال مشرق میں کی گئی ۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق تنظیم نے جو برطانیہ میںقائم ہے کہاکہ سرکاری فوج کے 6ارکان ہلاک ہوگئے ۔ ایک فوجی ذریعہ کے بموجب یہ کارروائی دولت اسلامیہ کے مستحکم گڑھ کے اندر 20کلومیٹر کے فاصلہ تک کی گئی تھی ۔ اس دھاوے کے ذریعہ سرکاری فوج اس علاقہ کے تین دیہاتوں پر اپنا قبضہ بحال کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔

سرکاری خبر رساں ادارہ ثناء کے بموجب فوج نے اس صوبہ میں جہادیوں کے زیرقبضہ وسیع علاقہ پر اپنا قبضہ بحال کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔ رصدگاہ کے بموجب دولت اسلامیہ اب حمص کے مشرق میں درجنوں دیہاتوں پر اپنا قبضہ رکھتا ہے ۔ شام کے ریگستان کے ایک وسیع علاقہ ’’ بدیعہ ‘‘ تقریباً 90ہزار مربع کلومیٹر ( 35ہزار میل ) کے قریب اس سرزمین پر پھیلا ہوا ریگستان ہے ۔ 2015ء سے بدیعہ پر دولت اسلامیہ کا قبضہ تھا لیکن شام کی سرکاری فوج ماہ مئی سے اس علاقہ میں پیشرفت کررہی تھی ۔ سرکاری فوج نے السکھمہ سے جوجہادیوں کا صوبہ حمص میں آخری مستحکم گڑھ تھا دولت اسلامیہ کے ارکان کو نکال باہر کیا تھا ۔صدر شام بشارالاسد کی وفادار سرکاری افواج جہادیوں سے جنوبی مضافاتی علاقہ صوبہ رقہ میں بھی برسرجنگ ہے ۔ امریکہ کی تائید سے کرد ۔ عرب اتحاد صوبائی دارالحکومت رقہ شہر کا قبضہ دولت اسلامیہ سے چھین لینے کیلئے جنگ کررہا ہے ۔ جہادیوں کا قبضہ وسیع ریگستانی صوبہ کے علاقہ دیرالزور سے صوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ 3لاکھ 30ہزار سے زیادہ افراد مارچ 2011ء میں شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک اور حکومت شام مخالف احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہوچکے ہیں

۔
شامی حکومت زیر قبضہ علاقہ دگنا : روس
ماسکو ۔ 13اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر دفاع روس سرجی شولگوف نے آج کہا کہ حکومت شام نے اس سرزمین پر رقبہ دگنا کردیا ہے جو صرف دو ماہ قبل دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ تھا ۔ شولگوف نے سرکاری ٹی وی چینل ’’ روسیہ ۔24‘‘ کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ شام سرکاری فوج دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ علاقوںپر اپنا قبضہ تیزی سے بحال کرتی جارہی ہے اور حال ہی میں دریائے فراط کے کنارے دیرالزور پر جو باغیوں کے زیرقبضہ تھا اس کا قبضہ بحال ہوچکا ہے ۔روس حکومت شام کا قریبی حلیف ملک ہے ۔ دریں اثناء جنیوا سے موصولہ اطلاع کے بموجب شام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ صدرشام بشارالاسدکی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کا زبردست ثبوت موجود ہے ۔

TOPPOPULARRECENT