Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / وسطی و جنوبی ہند میں مانسون بحال، آئندہ چند دن تک مزیدبارش متوقع

وسطی و جنوبی ہند میں مانسون بحال، آئندہ چند دن تک مزیدبارش متوقع

زیرزمین سطح آب میں اضافہ اور خریف کی فصلوں کیلئے تازہ بارش سازگار، محکمہ موسمیات کا بیان
نئی دہلی 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بارش کی کمی سے بدترین متاثرہ وسطی ہند اور جنوبی جزیرہ نما کے علاقوں میں مانسون کی بارش بحال ہوگئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں مانسون کی بارش کی بحالی کے ساتھ ہی خریف کی فصلوں کو مدد ملے گی اور زیر زمین ذخائر آب میں اضافہ ہوگا۔ رواں موسم (یکم جون تا 2 ستمبر) مانسون میں معمول سے 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جزیرہ نما جنوبی ہند اور ملک کے وسطی علاقے بُری طرح متاثر رہے جہاں علی الترتیب معمول سے 16 فیصد اور 22 فیصد کم بارش ہوئی۔ جنوبی جزیرہ نما علاقے آندھراپردیش، تلنگانہ، ٹاملناڈو، کرناٹک اور کیرالا پر مشتمل ہیں۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا اور گجرات وسطی ہند کا حصہ ہیں۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ڈائرکٹر جنرل ایل ایس راٹھور نے آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’وسطی ہند اور جنوبی جزیرہ نما علاقہ میں آج سے مانسون بحال ہوگیا چونکہ خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے

اور پیشرفت کے ساتھ 15 ستمبر تک زمینی علاقوں تک پہونچ جائے گا جس سے بارش میں اضافہ کا امکان ہے۔ انھوں نے کہاکہ بارش کی بحالی خریف کی فصلوں میں بہتری اور ستمبر کے دوران بارش کے خسارہ کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ستمبر کے دوران معمول کے مانسون میں 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ راٹھور نے کہاکہ جون تا ستمبر کی مدت میں مجموعی مانسون خسارہ 12-14 فیصد تھا جو قبل ازیں کی گئی پیش قیاسی سے کم رہا۔ بالخصوص جزیرہ نما جنوب میں زیرزمین ذخائر آب کی سطح انتہائی کم ہے اور بارش کا احیاء سطح میں اضافہ کے لئے سازگار ہوگا۔ محکمہ موسمیات نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ ’’مجموعی طور پر سارے ملک میں رواں مانسون کے دوران 2 ستمبر تک اوسط بارش میں 12 فیصد کمی رہی۔ ہندوستان کے اکثر بڑے علاقوں میں بارش کی سرگرمی معمول سے کم رہی۔ تاہم مشرقی و شمالی مشرقی ہندوستانی علاقوں میں صورتحال بہتر رہی جہاں تقریباً معمول کے مطابق بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات نے یہ پیش قیاسی بھی کی ہے کہ رواں مانسون (جون ۔ ستمبر) سارے ملک میں مجموعی طور پر 88 فیصد بارش ہوگی۔ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں زراعت کا 15 فیصد حصہ ہے اور ملک کی نصف آبادی کا روزگار زراعت سے واسبتہ ہے۔ لیکن ہندوستانی زراعت کا دار و مدار مانسون پر ہوتا ہے کیوں کہ ملک کی صرف 40 فیصد کاشت کو آبپاشی سہولتیں حاصل ہیں۔ بارش میں کمی کے باوجود 4 ستمبر تک 998.67 لاکھ ہیکٹرس رقبہ پر مختلف فصلوں کی بوائی کی گئی جبکہ گزشتہ سال اس مدت کے دوران 979.40 لاکھ ہیکٹر اراضی پر بوائی ہوئی تھی۔ بالخصوص دالوں کی بوائی میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دھان کی بوائی کے ایکسر میں بھی ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوبی اور وسطی ہند میں مانسون کی ناکامی کے سبب خشک سالی کے اندیشے پیدا ہوگئے تھے جہاں فصلوں کو نقصان کے علاوہ پینے کے پانی کے بارے میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن محکمہ موسمیات کی جانب سے مانسون کی بحالی کی اطلاعات کے بعد کسانوں نے اطمینان کی سانس لی ہے اور امکان ہے کہ بارش سے ذخائرآب کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT