Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / وسط ایشیائی ممالک اور ہندوستان

وسط ایشیائی ممالک اور ہندوستان

ہندوستان کا وسط ایشیائی ممالک سے رابطہ نیا نہیں ہے۔ ان ملکوں میں ازبیکستان، قازقستان، روس اور دیگر شامل ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ وسط ایشیائی ممالک دیرینہ تعلقات کو مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہونے کی توقع ہے۔ ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم کی حیثیت سے مودی کے بیرونی دوروں کی طویل فہرست میں وسط ایشیائی ملک

ہندوستان کا وسط ایشیائی ممالک سے رابطہ نیا نہیں ہے۔ ان ملکوں میں ازبیکستان، قازقستان، روس اور دیگر شامل ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ وسط ایشیائی ممالک دیرینہ تعلقات کو مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہونے کی توقع ہے۔ ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم کی حیثیت سے مودی کے بیرونی دوروں کی طویل فہرست میں وسط ایشیائی ملکوں کا دورہ بھی شامل ہوگیا ہے، اس سے قبل چین، ساؤتھ کوریا اور منگولیا کے دورہ کے دو ماہ بعد وسط ایشیائی ملکوں کا دورہ، ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے تو بہتر منصوبہ ہوگا۔ وزیراعظم مودی اپنے دورہ کے دوران سلسلہ وار ازبیکستان، قازقستان، ترکمنستان، کرغزستان اور تاجکستان سے ہوکر روس پہونچ رہے ہیں جہاں وہ برکس چوٹی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ مودی کے اس دورے میں اصل توجہ ترکمنستان کے قدرتی گیاس وسائل سے استفادہ اور قازقستان کے تیل و یورینیم کے وسائل پر معاہدہ کرنے ہندوستان کے منصوبوں کو روبہ عمل لانا ہے۔ ہندوستان نے قازقستان کے تیل پروڈکٹس پر سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال قازقستان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات خاص کر تجارت اور سرمایہ کاری میں حالیہ برسوں میں بہتر نہیں تھے۔ ہندوستان کو اس ملک کے معدنی، کانکنی اور آئیل و گیاس پراجیکٹس میں دلچسپی ہے تو وزیراعظم کو اس ملک کے ساتھ معاہدوں کو قطعیت دینے میں اس دورہ کے موقع سے استفادہ کرنی چاہئے۔

قازقستان کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے دونوں ملکوں میں تجارتی سرگرمیاں ایک اعلیٰ سطح کو پہونچ جائیں گی۔ وزیراعظم مودی نے صدر نور سلطان نذربایوف سے ملاقات کی ہے۔ دونوں ملکوں نے تعاون کے 64 پراجیکٹس کی نشاندہی کرکے اس پر آئندہ چند برسوں میں کام کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے قبل ازبیکستان کا دورہ کرتے ہوئے صدر اسلام کریموف سے بھی ملاقات کی اور تین معاہدوں پر دستخط کئے۔ ازبیکستان میں جوہری توانائی، دفاع اور تجارتی شعبہ میں ہندوستان کے لئے ایک اہم معاون ملک ہے۔ ازبیکستان کا دارالحکومت تاشقند ہندوستانیوں کے لئے غیرمانوس نام نہیں ہے۔ تاشقند سے ہندوستانیوں کی دیرینہ وابستگی اور یادیں اہمیت رکھتی ہیں۔ تاشقند میں ہندوستانی نظریاتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے اس جذبہ کو برقرار رکھنے کی سمت قدم اٹھایا ہے۔ شخصی ترقی کے ضمن زبان و لسانی رول کی اہمیت ہوتی ہے۔ تاشقند اس لئے بھی یادگار مقام ہے کیونکہ سابق میں وزیراعظم ہند لال بہادر شاستری کا 1966ء میں سرکاری دورہ کے دوران قلب پر حملے کے باعث انتقال ہوا تھا۔ 1964ء میں ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی موت کے بعد لال بہادر شاستری نے ہی وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور 61 سال کی عمر میں وہ تاشقند میں انتقال کرگئے تھے۔

اس لئے ازبیکستان کا صدر مقام تاشقند ہندوستانیوں کے لئے ایک مانوس ملک ہے۔ یہاں شاستری کی یادگار پر پہونچ کر وزیراعظم مودی نے خراج بھی پیش کیا۔ وسط ایشیائی ملکوں میں ہندوستان کی قدر و منزلت قابل تحسین ہے۔ اس لئے وزیراعظم مودی کو اس قدر و منزلت کا احترام کرتے ہوئے ان ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب کام کرنا ہوگا۔ مودی کو نہ صرف پرانے پراجیکٹس پر توجہ دینی ہے بلکہ دیگر انفراسٹرکچر پراجیکٹس پر بھی زور دے کر ہندوستان کا وسط ایشیائی ملکوں سے رابطے کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ علاقے ہندوستان سے زیادہ دور نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان ملکوں تک سڑک، ریلوے اور بندرگاہی رابطہ نہ ہونا افسوسناک ہے جبکہ ان رابطوں کے ذریعہ ہی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ روس میں منعقد ہونے والی برکس ملکوں کی چوٹی کانفرنس میں بھی مودی کو کئی اہم قائدین جیسے صدر چین سے ملاقات کرنی ہے۔ وسط ایشیائی ملکوں میں چین کی اہمیت اور اس کے ساتھ معاشی تعلقات کو قریبی نظر سے دیکھنے کی پالیسی کو بھی وزیراعظم مودی کے لئے برکس کانفرنس میں اجاگر کرنی ہوگی۔ فی الحال یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ وزیراعظم مودی اور ان کی ٹیم وسط ایشیائی ملکوں اور برکس چوٹی کانفرنس میں ہندوستان کی پالیسیوں اور منصوبوں کو پیش کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ دورہ کے آخری حصہ میں معلوم ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT