Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / وطن کو مذہبی خانوں میں اب تم بانٹتے کیوں ہو

وطن کو مذہبی خانوں میں اب تم بانٹتے کیوں ہو

رشیدالدین
مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد سماج کو مذہبی بنیادوں پر بانٹنے والی سرگرمیاں جاری تھیں کہ مرکزی حکومت نے مذہب کی اساس پر مردم شماری 2011 ء کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے جلتے پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ اسے مرکز کی ناعاقبت اندیشی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ اقدام منصوبہ بند اور جان بوجھ کر کیا گیا۔ ہر 10 سال میں ملک کی آبادی کا جائزہ لینے کیلئے مردم شماری کی جاتی ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی مخالفت اس لئے بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ حکومت کو ملک کے ترقیاتی منصوبہ کو قطعیت دینے کیلئے آبادی کی حقیقی صورتحال کا جاننا ضروری ہے۔ یوں تو ہر مردم شماری میں مذہب اور ذات پات پرمبنی تفصیلات اکٹھا کی جاتی ہیں لیکن اسے منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔ چونکہ مذہبی اساس پر آبادی کی تفصیلات ایک حساس مسئلہ ہے ، لہذا حکومتیں اسے برسر عام کرنے میں احتیاط کرتی ہیں لیکن نریندر مودی حکومت نے ان تفصیلات کو جاری کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر قوم کی بدخدمتی کی ہے۔ لال قلعہ سے خطاب میں سوا سو کروڑ ہندوستانیوں کو ٹیم انڈیا سے تعبیر کرنے والے نریندر مودی نے سماج کو متحد رکھنے کے بجائے اسے توڑنے کا کام کیا ہے ۔ مذہبی اساس پر اعداد و شمار کی اجرائی سے برتری اور کمتر ہونے کے احساس کے سبب عوام کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوگا۔ آبادی میں اضافہ کیلئے غیر صحتمندانہ مسابقت اور کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کی آبادی کم کرنے کی منصوبہ سازی میں مصروف ہوجائے گا۔ آخر نریندر مودی حکومت کو ان تفصیلات کو جاری کرنے کا خیال کیوں آیا جو گزشتہ چار سال قبل تیار کی گئی تھیں اور اس وقت کی حکومت نے عوامی انکشاف سے گریز کیا۔ مودی حکومت نے ان حساس تفصیلات کی اجرائی کیلئے جو ٹائمنگ رکھی ہے

وہ از خود اہم سوال ہے۔ ظاہر ہے کہ موقع محل کا تعین بھی محض اتفاقی کہا نہیں جاسکتا۔ ملک میں یہ پہلا موقع ہے ، جب کسی حکومت نے سرکاری سطح پر حساس نوعیت کے اعداد و شمار کو جاری کیا۔ وزیراعظم کے دفتر کی ہدایت پر یہ تفصیلات جاری کی گئیں۔ اس طرح کی تفصیلات سے سیاسی جماعتوں کو  بھلے ہی فائدہ ہو اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو مدد ملے لیکن سماج پر اس کے منفی اثرات کا مرتب ہونا یقینی ہے۔ بہار میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل مذہبی بنیاد پر آبادی کی تفصیلات اور اس میں بطور خاص ہندوؤں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی شرح میں اضافہ کو ہوا دیتے ہوئے بی جے پی نے مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے ۔ آبادی میں اضافہ کی شرح کے مسئلہ پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کی آبادی کو تقریباً 80 فیصد ظاہر کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں میں احساس کمتری اور حوصلے پست کرنے کی سازش کی گئی۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ 20 فیصد مذہبی اقلیتیں 80 فیصد ہندوؤں کے رحم و کرم ہیں۔ دستور میں مساویانہ حقوق کے باوجود ان کا موقف دوسرے درجہ کے شہری کی طرح ہے۔ اس طرح پرامن سماج میں خاموشی سے نفرت کا زہر گھولنے کی سازش کی گئی۔ اس سے مختلف مذاہب کے درمیان بدگمانی میں اضافہ ہوگا۔ سیاسی مبصرین نے بھی حکومت کے اس اقدام کو دانستہ اور فرقہ پرستانہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت ملک کی دستوری روایات سے انحراف کرچکی ہے۔ عوام کو مذہبی خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے مرکز نے دراصل موہن بھاگوت کے ایجنڈہ پر عمل کیا ہے جو ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ سنگھ پریوار کے ان قائدین کو جو ہندوستان کو ہندو مملکت قرار دیتے رہے ہیں، ان اعداد و شمار سے تقویت حاصل ہوگئی۔

اس طرح کا خواب دیکھنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ اگر ملک کی 121 کروڑ کی آبادی میں موجودہ 79.8 فیصد کے بجائے ہندو آبادی 90 فیصد بھی ہوجائے تب بھی ہندو راشٹر کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ ملک کے دستور نے ہندوستان کو سیکولر ملک قرار دیا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت بھی اس موقف کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ مرکز میں گزشتہ 15 ماہ کی حکمرانی کے دوران وعدوں کی تکمیل میں ناکامی اور عوامی مسائل کی یکسوئی کے معاملہ میں منفی ریکارڈ کے سبب عوامی ناراضگی سے بچنے کیلئے یہ کارڈ پھینکا گیا تاکہ عوام کی توجہ حقیقی  مسائل سے ہٹاکر انہیں مذہبی اور آبادی کے مسائل میں الجھا دیا جائے۔ یوںبھی اس طرح کے اعداد و شمار  اور مردم شماری پر آنکھ بند کر کے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے صد فیصد درست ہونے کا دعویٰ حکومت بھی نہیں کرسکتی۔ ظاہر ہے کہ ایک سال میں حاصل کردہ اعداد و شمار کا 10 سال تک اسی طرح برقرار رہنا ممکن نہیں۔  ہر سال صورتحال تبدیل ہوجاتی ہے لہذا یہ  سروے ایک اندازے کے سوا کچھ نہیں۔ ملک کے دیگر شعبہ جات کی طرح محکمہ سینسیس میں بھی سنگھ پریوار کے افراد کے داخلہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ محض نفسیاتی طور پر مرعوب کرنے کی کوشش ہے۔ درج فہرست اقوام و قبائل میں بیشتر طبقات خود کا شمار ہندوؤں میں نہیں کرتے لیکن مرد شماری میں انہیں بھی ہندو آبادی میں شامل کردیا گیا۔ کئی اعلیٰ طبقات کے لوگ پچھڑے طبقات کو ہندو تسلیم کرنے تیار نہیں۔ آج بھی دلتوں کا اعلیٰ طبقات کی مندروں میں داخلہ نہیں ہے۔ کوئی دلت کسی  مندر کا پجاری نہیں بن سکتا۔ ان کا داخلہ اعلیٰ طبقات کے گھروں میں ممکن نہیں۔ جن پچھڑے طبقات کیلئے آج بھی ہوٹلں میں علحدہ برتن اور گلاس ہوں تو ان کو کس طرح اپنے ساتھ شامل کیا جارہا ہے ۔ آبادی دکھانے کیلئے تو وہ ہندو ہیں لیکن مندروں کے دروازے ان کے لئے بند ہیں۔ مبصرین کا مانناہے کہ اگر غیر سیاسی اور  غیر جانبدارانہ انداز میں مردم شماری کی جائے تو مسلمانوں کی آبادی 27 کروڑ سے زائد ہوگی۔ مذہبی اساس پر  سماج کو تقسیم کرنے والے حوصلے پست کرنے کی لاکھ کوشش کرلیں لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور دوسری بڑی ا کثریت ہیں۔

مردم شماری 2011 ء اور مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح سے سنگھ پریوار کو ایک مسئلہ ہاتھ لگ گیا ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں میں جبری نس بندی ، ایک سے زائد  شادی پر پابندی جیسے قوانین کے نفاذ کا مطالبہ شروع ہوچکا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے کیلئے ہیں۔ جہاں تک پیدائش پر پابندی کا سوال ہے ، شریعت اسلامی میں اس کی ہرگز اجازت نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں روز قیامت اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔ مسلمانوں میں آبادی کی شرح میں پہلی مرتبہ معمولی اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ  مردم شماری میں یہ شرح اکثریتی طبقہ سے کم تھی ۔ اس کے باوجود اس مسئلہ پر سنگھ پریوار واویلا مچا رہا ہے۔ کہاں ہیں وہ سنت اور سادھو جنہوں نے ہندوؤں کو چار بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا تھا ، جب ان کے مشورہ پر عمل ہورہا ہے تو پھر انہیں آبادی میں کمی کا اندیشہ کیوں؟ مسلمانوں نے ایک ہزار برس تک اس ملک پر حکمرانی اور جہاں بانی کی لیکن انہوں نے ہندوستان کو اسلامی مملکت میں تبدیل نہیں کیا جبکہ اگر وہ چاہتے تو کوئی روکنے والا نہیں تھا لیکن آج صرف  69 برس میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ عدم برداشت کا رویہ باعث حیرت ہے۔ ایک طرف مردم شماری کے ذریعہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی تو دوسری طرف فوج نے کشمیر میں ایک ماہ کے عرصہ میں دوسرے دہشت گرد کو زندہ پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اگر واقعی یہ دہشت گرد ہے تو پھر سیکوریٹی فورسس کا کارنامہ کہا جائے گا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ 2002 ء گجرات فسادات کے قاتلوں کو بھی اسی طرح پکڑا جاتا جو ملک میں کھلے عام گھوم رہے ہیں اور بعض اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ معصوم افراد کی جان لینا چاہے وہ سرحد پار سے آکر کریں یا اندرون ملک ، یہ دونوں دہشت گردی کی تعریف میں آتے ہیں۔ روس کے مقام اوفا میں مودی ۔ نواز شریف ملاقات ، مشیران قومی سلامتی کی ملاقات کا ڈرامہ اور پھر لمحہ آخر میں منسوخی،  ملک میں داخلی سطح پر سنگین مسائل کے وقت پاکستانی دہشت گردوں کا زندہ پکڑا جانا،

یہ تمام حالات کہیں دونوں قائدین کی میچ فکسنگ کا حصہ تو نہیں ؟ کرپشن اور اسکام کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ کے دوران ایک دہشت گرد کو پکڑا گیا تھا  اور جبکہ نریندر مودی کی ریاست گجرات آگ کی لپیٹ میں ہے، دوسرا دہشت گرد  گرفتار ہوتا ہے ۔ ان دونوں واقعات کو میڈیا میں اس قدر اچھالا گیا کہ اصل مسائل پس پشت رہ گئے۔ اصل  مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے کیا  نواز شریف دہشت گردوں کی شکل میں مودی کی مدد تو نہیں کر رہے ہیں؟ سرحد پر بار بار دراندازی کس طرح ممکن ہے جبکہ اودھم پور اور گرداس پور حملوں کے بعد سرحد پر چوکسی بڑھادی گئی۔ جب در اندازی کا زندہ ثبوت ہندوستان کے پاس موجود ہے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تفصیلات بھی ہیں، تو پھر ہندوستان کو کارروائی سے کون روک رہا ہے؟ اپنے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے حکمرانوں کی میچ فکسنگ کب تک جاری رہے گی ؟ گجرات میں تحفظات کے مسئلہ پرجو کچھ بھی ہورہا ہے ،وہ دراصل 2002 ء میں نریندر مودی کی جانب سے لگائے گئے پودے کا پھل ہے۔ 2002 ء میں مخالف مسلم فسادات بھی اسی طرح منصوبہ بند تھے اور اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی نے فوج کو طلب کرنے میں تاخیر کی تھی۔ اب جبکہ پٹیل طبقہ نے گجرات کو آگ میں جھونک دیا اور نریندر مودی کی نیند حرام کردی لہذا کئی علاقوں کو فوج کے حوالے کرنا پڑا۔ محض ایک 22 سالہ نوجوان نے نریندر مودی کی ریاست میں حکومت کے خلاف زبردست مہم شروع کی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ظالم کو کسی نہ کسی وقت سبق دینے کے لئے قدرت کسی عام آدمی کو میدان میں اتارتی ہے۔ بقول کسی شاعر   ؎
وطن کو مذہبی خانوں میں اب تم بانٹتے کیوں ہو
وطن کی آبرو تہذیب پر بھی حرف آئے گا

TOPPOPULARRECENT