Friday , November 24 2017
Home / مضامین / وعدہ خلافیاں اور فرقہ وارانہ مودی حکومت کا ایجنڈہ

وعدہ خلافیاں اور فرقہ وارانہ مودی حکومت کا ایجنڈہ

رام پنیانی
مودی حکومت کی گزشتہ دو سال کی کارکردگی کو انتخابی مہم کے دوران کئے ہوئے وعدوں اور دستورِ ہند کی تکثیریت اور تنوع کے پس منظر میں دیکھی جانی چاہئے ۔ کالے دھن کی واپسی اور اچھے دن آنے کی افواہ ہر شہری کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپئے جمع کروانے کے تیقن اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے تیقن ہر شخص کے  ذہن میں اب بھی تازہ ہیں لیکن ان میں سے کسی بھی وعدہ کی تکمیل نہیں ہوسکی۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ابتداء ہی سے اب تک بڑھتی جارہی ہے۔ ان تمام اشیاء میں دال ایک تعیش کی چیز بن گئی ہے۔ 15 لاکھ روپئے کسی بھی شہری کے کھاتے میں جمع نہیں کئے گئے۔ روزگار کے مواقع کی فراہمی ایک سراغ بن کر رہ گیا۔ اسی طرح خارجہ پالیسی کی مہم جوئی برقرار ہے۔ غیر ملکی دورے بار بار کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کبھی نرمی اور کبھی گرمی کے اصول کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے ۔ ہندوستان کا سب سے قریبی دوست نیپال اپنے قریبی حریف کے موقف سے دن بہ دن دور ہوتا جارہا ہے ۔
اعظم ترین بہترین حکمرانی کے دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن تمام اختیارات ایک ہی شخص کے ہاتھوں میں مرکوز ہوگئے ہیں جو واضح طور پر کابینی نظام کا مذاق اڑاتے ہوئے من مانی کر رہا ہے ۔ وزیراعظم تمام وزراء کو اپنے مساوی قرار دیتے ہیں لیکن عملی اعتبار سے انہوں نے اس نظریہ کو برعکس کردیا ہے۔ سب سے بڑا نقصان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اور اداروں کی بااختیاری کو پہنچا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جبکہ بی جے پی کو لوک سبھا میں سادہ اکثریت حاصل ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہندوتوا کا ایجنڈہ بتدریج نافذ کیا جارہا ہے۔ محسن شیخ پونے کے ایک ماہر ٹکنالوجی کو ہندو راشٹریہ سینا کے کارکنوں نے قتل کردیا۔ یہ رجحان بتدریج بڑھتا جارہا ہے۔ ان افراد کے خلاف جو اس ایجنڈہ سے متفق نہیں ہیں، برسر اقتدار افراد کی نفرت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اقتدار پر آنے سے پہلے مرکز کے تہذیبی وزیر گری راج سنگھ نے کہا تھا کہ جو افراد مودی کو ووٹ نہیں دیں گے انہیں پاکستان چلا جانا چاہئے۔ ایک اور شخص جو وزارتی عہدہ کا اہل سمجھا جاتا ہے، سادھوی نرنجن جیوتی نے تمام نظریاتی حدود توڑ دیئے ہیں اور کہا ہے کہ جو لوگ ان کی پارٹی کو ووٹ نہ دیں، وہ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور قابل نفرت ہیں۔ پورے اختیارات رکھنے والے وزیراعظم خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ نفرت پر مبنی سیاست اختیار کی جارہی ہے۔ اپنے معذرت خواہی کے بیان سے وزیراعظم گریز کر رہے ہیں۔ ہر واقعہ پر ان کا کوئی تبصرہ منظر عام پر نہیں آتا۔ ان کی خاموشی دانستہ طور پر ہے یا محنت کش طبقہ کو تقسیم کرنے کے مقصد سے یہ سمجھ میں نہیں آتا ، ان کی مادر تنظیم آر ایس ایس جو نفرت انگیز بیانات کے ذریعہ بعض افراد کو خوش کرنا چاہتی ہے اور بعض افراد کے خلاف نفرت پیدا کرنا چاہتی ہے، بے لگام ہے اور اصل دھارا سمجھی جارہی ہے۔

ہندتوا کی سیاست شناخت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ گائے کا گوشت کھانے کے بارے میں جو افواہیں مرکزی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہیں اور جنہوں نے اتنا جنون پیدا کردیا ہے کہ دادری میں ایک افواہ کی بنیاد پر محمد اخلاق کا قتل کردیا گیا اور کئی دیگر پرتشدد کارروائیاں بھی کی گئیں۔ ان میں ہندوستان کے وسیع علاقوں میں قتل کی وارداتیں شامل ہیں۔ یہ تمام ڈابھول پر ، پنسارے اور کلبرگی کے قتل کے واقعات کا تسلسل ہے۔ دادری کا واقعہ بڑھتے ہوئے تاسف کی ایک علامت بن چکا ہے جس کی وجہ سے کئی نامور مصنف ، سائنسداں اور فلم ساز اپنے اعزازات واپس کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کا بڑھتی ہوئی ناراضگی اور بڑھتے ہوئے تعصب کا نوٹ لینے کے بجائے سنگھ پریوار کے قائدین جو حکومت میں شامل ہیں اور حکومت سے باہر بھی ہیں، مسلسل سیاسی طور پر احتجاج میں مصروف ہیں۔

حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں دخل اندازی کافی واضح ہوچکی ہے۔ یہ بھی واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ جو لوگ سنگھ  پریوار کے نظریات سے متفق ہیں، ان کی اہلیت کا لحاظ کئے بغیر اعلیٰ عہدوں پر فائز کئے جارہے ہیں۔ گجیندر چوہان کو ایف ٹی آئی آئی کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔اس فیصلہ کے خلاف طلبہ کے احتجاج کو نظرانداز کیا گیا ۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے امبیڈکر طلبہ اسوسی ایشن کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی بی جے پی رکن پارلیمنٹ بنڈارو دتاتریہ سے لیکر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کی قوم دشمنی اور ذات پات پر مبنی سرگرمیوں کے خلاف شکایت کی گئی جو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں جاری تھیں لیکن وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے دباؤ پر ویمولا اور دیگر ہم خیال طلبہ کو ہاسٹل سے خارج کردیا گیا۔ ان کے اسکالرشپس روک دیئے گئے ۔ جس کے نتیجہ ویمولا نے خودکشی کرلی۔

ملک گیر سطح پر حکومت کی تعلیمی اداروںکے بارے میں پالیسی کے خلاف برہمی پھیل گئی ۔ دریں اثناء جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور کنہیا کمار و اُن کے دوستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حالانکہ انہوں نے مخالف ہند نعرہ بازی نہیں کی تھی لیکن ان پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے۔ جن لوگوں نے نعرہ بازی کی تھی ، انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں اس حقیقت کو بھی نظرانداز کردیا گیا کہ نعرہ بازی جرم نہیں ہے ۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے محققین کو فرضی مقدمات میں پھنسادیا گیا ۔ان پر غداری کے قانون کے تحت الزامات عائد کئے گئے ، اس کی وجہ سے قوم پرستی کے بارے میں مباحث کا آ غاز ہوا اور اس کے نتیجہ میں نمایاں محققین جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں قوم پرستی کے موضوع پر مباحث میں شریک ہوگئے ۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک اور جذباتی مسئلہ یہ کہتے ہوئے چھیڑدیا کہ نوجوانوں کو پرزور انداز میں بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانا چاہئے۔ اس کے جواب میں ایم آئی ایم کے اسدالدین اویسی نے بیان دیا کہ وہ ان کے گلے پر چھری رکھ دینے پر بھی ایسا نہیں کریں گے ۔ علاوہ ازیں آر ایس ایس نے بابا رام دیو کے ذریعہ مذہبی جنون پیدا کرنا شروع کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور نے اگر انہیں دھوکہ نہ ہوتا تو وہ لاکھوں افراد کا سر قلم کردیتے۔ ان کا پیغام انتہائی خوفناک اور خطرناک تھا ۔

سب سے بڑی بات یہ کہ مودی کو برسر اقتدار آئے دو سال گزرچکے ہیں ۔ آر ایس ایس کے سر سنچالک پورے ملک کو ہندو راشٹرا بنانے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور ہندوستانی قوم پرستی کی دہائی دیتے ہیں۔ ہندوستان کی قوم پرستی ایک فراخ دل معاملہ ہے جس میں تنوع کی گنجائش موجود ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست ایسے معاملات کو بھی اہمیت دینا چاہتی ہے جو درحقیقت اہمیت نہیں رکھتی اور واضح طور پر اسی انداز میں بیف ، معقولیت پسندی اور بھارت ماتا کی جئے ‘‘ جیسے مسائل پیدا کئے جارہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے ہنوز 3 سال باقی ہیں۔ اس کا ایک پھوٹ ڈالنے والا ایجنڈہاور تقسیم کرنے والی پالیسیاں ہیں ، جو عام آدمی کے فلاح و بہبود کے خلاف ہیں۔ عوام اس پالیسی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ لیکن ہندوستان کو سب کو ساتھ لیکر چلنے والی ترقی کی ضرورت ہے۔ عوام کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فی الحال ختم ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT