Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش

وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش

کیا مودی جی مسلم اقلیت کی اہمیت کو کم کرسکتے ہیں

رند سرشار
یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ قوموں کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ مشہور فلسفی اور مفکر کارل مارکس نے لکھا تھا کہ یہ تبدیلی یا توایک قوم کو عروج کی طرف لے جاتی ہے یا پھر زوال کی طرف! اس کے محرکات کی تلاش ناممکن ہے، پھر بھی بعض مفکرین اپنے اپنے خیال کے مطابق کچھ مفروضے قائم کئے ہیں۔
ہندوستان میں جو نسل آزادی کے بعد پیدا ہوئی ہے ، آج ان کی تعداد اسی فیصد ہے ۔ ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اپنے وقت کے ایک طاقتور سماج سے ملک کو چھٹکارا دلانے کیلئے کروڑوں عوام  نے جن میں ہندو اور مسلمان سبھی شامل ہیں، جو قربانیاں دیں ہیں۔ اس کا مقصد کیا تھا اور اس جد وجہد کی رہنمائی کون لوگ کر رہے تھے؟ یہ ساری باتیں تاریخ میں درج ہیں لیکن اس نسل کو ان سے واقف ہونے کی فرصت نہیں یا پھران کی ایک بڑی تعداد اتنی متعصب ہوچکی ہے کہ ان تاریخی حقائق کو نظر انداز کرنا ہے، بہتر سمجھتی ہے ۔ ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے جدوجہد آزادی کے زمانے میں انگریزی کی جیل میں رہ کراپنی بیٹی اندرا گاندھی کے نام جو خطوط لکھے ہیں وہ ایک کتاب کی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہ خطوط دراصل پوری انسانی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جواہرلال نہرو ایک سیاست داں سے زیادہ اور مورخ ہیں جن کی نظر ہمارے سماج میں حرکت کرنے والے عوامل کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتی ہے اور پھر ان کی فکر کی رسائی کاغذ پر منتقل ہوتی جاتی ہے ۔ جواہر لال چونکہ برسوں یوروپ میں رہ چکے ہیں، اس لئے یوروپین معاشرہ کا ان پر بڑا گہرا اثر رہا ہے۔
ایسے وسیع النظر سیاست داں کی رہنمائی ہمیں کئی دہوں تک حاصل رہی۔ آزادی کے بعد جب نہرو ملک کے پہلے وزیراعظم بنے تو انہوں نے ملک کی معاشی حالت کو بڑا استحکام بخشا ۔ بڑے بڑے ڈایم بنائے ، صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی، پنچ سالہ منصوبے تیار کئے۔ دنیا میں ہونے والی سرد جنگ سے ملک کو محفوظ  رکھنے انہوںنے ’’غیر جانبدار ‘‘ پالیسی اپنائی جو دنیا کی ایک اہم ترین تحریک بن کر ابھری اس سے خاص طور پر ایشیاء کے نو آزادی ممالک کو بڑا فائدہ ہوا ۔ اسی دور اندیشی  کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان ایک طاقتور ملک بن کر دنیا میں اپنا مقام بناچکا ہے ۔ مگر اب ان تمام کارناموں کا سہرا ملک میں ایسی سیاسی طاقتیں اپنے سر باندھ رہی ہیں جو دراصل ہماری ہمہ رنگی تہذیب کو درہم برہم کرنے کے درپے ہیں۔ گاندھی جی کی شخصیت تو ایک مہاتما کے روپ میں ابھری تھی مگر تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ ان کے قاتل آج ان کے وارث بن بیٹھے ہیں۔ وہ زمانہ ہوا جب پنڈت نہرو، سردار پٹیل اور ابوالکلام آزاد پر سارے ملک کی نظر اٹھتی تھی اور کانگریس کا مدمقابل کوئی نہ تھا ۔ اب یہ زمانہ ہے کہ نریندر مودی اور ان کے دست راست امیت شاہ سارے ہندوستان میں دنداتے پھر رہے ہیں۔ سارے سرکاری عہدوں اور تنظیموں پر آر ایس ایس کا قبضہ ہوچکا ہے ۔ کانگریس کے زوال کے بعد ہندوستان کی سیاسی زندگی میں جو خلاء پیدا ہوگا ، اس کو پر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس جماعت کا املک کے سیاسی منظر نامہ سے ہٹ جانا ایک بڑا المیہ ہوگا۔ ایک جمہوری ملک میں ایک مضبوط حزب مخالف بے حد ضروری ہوتا ہے ورنہ جمہوریت ڈگمگا جاتی ہے ۔ نریندر مودی ملک کو ’’کانگریس مکت بھارت ‘‘ بنانے کا وعدہ کرچکے ہیں اور الفاظ کی بازیگری اور دکھاوے کی اسکیمات کا نام لیکر کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔ درسی کتابوں میں اسباق کو بدل دیا گیا ہے اور دیومالائی قصوں اور کہانیوں کی ان میں شامل کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ ملک کی ترقی اور فرقہ پرستی کے درمیان تصادم کو ختم کرنے کا نام لیکر اس کی ساری ذمہ داری مسلمانوں کے سر تھوپنا چاہتے ہیں ۔ اس آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے سارے عوام ہندو ہیں۔ اس طرح انہوں نے اس طرح مسلم اقلیت کی نفی کردی ہے ۔ مگر کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلمان جتنی بڑی تعداد میں ہندوستان میں رہتے ہیں، اتنی تعداد میں کوئی اقلیت دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے ۔ اتنی بڑی تعداد کسی ملک میں نہ پہلے تھی اور نہ شاید آگے رہے گی۔
ایسی مضبوط مسلم اقلیت کے وجود کی نفی کرنے سے سماج میں جو تلخی پیدا ہوگی۔ مودی نے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ دے کر اس کو کم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اب ایک نیا سیاسی نظریہ رائج کیا جانے والا ہے جس میں حزب مخالف کی کوئی جگہ نہیں ہوگی، اس سیاسی کھیل کے نتائج کیا ہوں گے ۔ کیا اس سیاسی نظریہ کو کامیابی ملے گی یا ملک ایک نراج کی بڑھے گا یا پھر اس کے خلاف کوئی سیاسی تحریک ملک میں اٹھے گی ۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں ایک ا سٹوڈنٹ لیڈر روہت ویمولے کی خودکشی کے بعد طلباء میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار کا ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ پر ابھرنا اس مخالف تحریک کی علامت بن چکا ہے۔ یہ تحریک سارے ہندوستان میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے ۔ اب یہ بات طئے ہوچکی ہے کہ ہندوستان میں ایک معاشرہ کی تشکیل پانے والا ہے ۔اس میں کامیابی ہوگی یا نا کامی یہ ماہرین سماجیات ہی بتلاسکتے ہیں، مگر یہ بات ط  ئے ہے کہ مسلمانوں کی اہمیت کو گھٹانے کی ساری کوشش ناکام ہوجائیں گی۔ وہ مسلم ا قلیت جو دنیا کی تاریخ میں کسی ملک میں نہیں تھی۔

TOPPOPULARRECENT