Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / وفاقی محاذ، وقت کا تقاضہ

وفاقی محاذ، وقت کا تقاضہ

مرکز میں بی جے پی کے خلاف سیکولر محاذ بنانے کا موقع تلاش کرنے والوں کے لئے کولکتہ میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی کی دوسری میعاد کیلئے منعقدہ حلف برداری تقریب ایک اہم مقام ثابت ہوئی۔ ہندوستان کو ذات پات اور فرقہ پرستانہ خطوط پر تقسیم ہونے سے بچانے اور ملک کو نریندر مودی حکومت کے چنگل سے آزاد کرانے کی جدوجہد کو مضبوط کرنے کیلئے مخالف بی جے پی اور آر ایس ایس سیکولر محاذ بنانے کی تیاریوں کا اشارہ دیا گیا ہے۔ نیشنل کانفرنس سربراہ اور سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر فاروق عبداللہ نے ترنمول کانگریس ممتابنرجی کو اس محاذکی سربراہ بنانے کی حمایت کی۔ ہمخیال سیکولر پارٹیوں کو ایک جگہ لانے اور بہار کے خطوط پر متحدہ سیکولر محاذ بناتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو برخاست کرنے کی مہم شروع کی جائے گی۔ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے حلف برداری تقریب میں ہی اس بات کا اشارہ دیا کہ ایک سیکولر محاذ یا وفاقی محاذ بنایا جائے گا جو علاقائی پارٹیوں کا مضبوط گروپ ہوگا۔ سیکولر ہندوستان کیلئے کام کرنے والے قائدین میں ممتابنرجی بھی سرفہرست ہیں۔ ایک متحد ہندوستان بنانے میں اگر وفاقی محاذ کامیاب ہوتا ہے تو پھر فرقہ پرستوں کا صفایا ہوجائے گا۔ سال 2019ء کے عام انتخابات میں نریندر مودی کے خلاف ایک مضبوط سیکولر محاذ کھڑا ہوتا ہے تو پھر فرقہ پرستوں کے دوبارہ حکومت میں آنے کا امکان موہوم ہوجائے گا۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے فوری  بعد ممتابنرجی نے اپنے قومی عزائم کا اشارہ دیا تھا۔ مرکز تک پہنچنے اور وزارت عظمیٰ پر ایک خاتون کو اقتدار دینے کیلئے سیکولر محاذ کس حد تک کامیاب ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر اس وقت سیکولر محاذ یا وفاقی فرنٹ کی شدت کو محسوس کیا جارہا ہے تو اس میں کانگریس بھی اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ سوال یہ ہیکہ آیا وفاقی محاذ کا نظریہ کامیاب ہوگا؟ کیونکہ سابق میں بھی ایسی کوششیں کی جاچکی ہیں۔ بی جے پی نے بھی ممتابنرجی کی شہرت اور مقبولیت کی پرواہ کئے بغیر یہ کہہ دیا ہیکہ وفاقی محاذ بنانے کی قیاس آرائیوں سے وہ خائف نہیں ہے کیونکہ ماضی میں اس طرح  کے محاذ کا تجربہ ناکام ہوا ہے۔ مرکز میں موجود ایک مضبوط حکمراں پارٹی کا زور دار اثر توڑنے کیلئے ضروری ہیکہ مختلف سیاسی پارٹیوں کا گروپ خالص مفاد پرستی سے پاک اتحاد پر توجہ دے۔ کولکتہ میں حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے والوں میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار، چیف منسٹر یو پی اکھیلیش یادو اور دیگر قائدین توجہ کا مرکز تھے جو قائدین ممتابنرجی کی قیادت میں وفاقی محاذ بنانے کی بات کررہے ہیں انہیں اس بات کا یقین ہیکہ ان کے سیکولر اتحاد میں شامل ہونے والے دیگر قائدین، ممتابنرجی کی قیادت کو قبول کریں گے۔

نتیش کمار یا ملائم سنگھ یادو کو ممتابنرجی کی قیادت قابل قبول ہوگی یہ کہنا مشکل ہے۔ منسٹر دہلی اروند کجریوال نے بھی کولکتہ کی دیدی کو مبارکباد پیش کی۔ سیاستدانوں کا یکجا ہونا بہت بڑی بات ہے اور اس پر قومی سیاست کے مستقبل پر تبادلہ خیال کا نتیجہ اگر مثبت طور پر نکلتا ہے تو پھر ایسے سیکولر محاذ کو مضبوط بنانے کی بنیادی جدوجہد شروع کرنی چاہئے لیکن ماضی میں بھی ایسے محاذوں کو بنانے کی کوشش کی جاچکی ہیں لیکن محاذ میں شامل مختلف پارٹیوں کے قائدین کو وزارت عظمیٰ کی کرسی اتنی عزیز دکھائی دی کہ انہوں نے محاذ کو مضبوط بنانے پر دھیان نہیں دیا۔ علاقائی طور پر اس وقت کئی پارٹیاں مضبوط بن کر ابھری ہیں لیکن ان کا آپس میں اتحاد اور ایک کاز کیلئے آگے بڑھنے کا جذبہ ہمیشہ ماند پڑتا دکھائی دیا ہے اور محاذ بنانے کا عمل ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اگر تمام پارٹیاں مل کر سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے  بڑھتی ہیں تو بلاشبہ ایک مضبوط قومی اتحاد وجود میں آئے گا۔ عوام کو اچھے دن کا لالچ دے کر اقتدار حاصل کرنے والے قائدین سے اب عوام کی اکثریت بیزارگی کا اظہار کررہی ہے۔ اگر سیاسی طاقتوں کا علاقائی گروپ سنجیدگی سے کام کرے تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف طاقتور محاذ بنایا جاسکتا ہے۔ مودی حکومت کی ناکامیوں کی فہرست دن بہ دن طویل ہوتے جارہی ہے۔ اچھے دن آنے کا وعدہ کرنے والی حکومت خود برے دنوں کو دعوت دے چکی ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ مسائل جوں کے توں ہیں اور مودی حکومت نے اپنے حصہ کے دو سال گذار کر جشن منایا ہے۔ ان دو برسوں میں عوام نے اچھے دن نہیں دیکھے۔ اب جبکہ سیکولر محاذ کی امید پیدا کردی گئی ہے تو اس پر غیرمفاد پرستانہ جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔ سیکولر محاذ میں شامل ہر پارٹی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے محاذ کے مفاد کے علاوہ کوئی مفاد عزیز نہیں ہوگا۔ ہندوستانی سیاست میں ایسے کئی رئیس زادے سیاستداں ہیں جو خود کو ہی اقتدار کاحقدار سمجھتے ہیں مگر وہ اپنے بل پر طاقت و اکثریت کو مجتمع کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔

مودی کابینہ کے غیرکارکرد وزراء
نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت کے بعض وزراء کی کارکردگی صفر ہے۔ ایسے وزراء کو قلمدانوں سے محروم کردینا ہی حکومت کی نیک نامی کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے این ڈی اے سے وابستہ وزراء کو برطرف کرنے بعض نئے قائدین کو شامل کرنے پر غور کیا ہے۔ کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کو ضروری سمجھنے والے وزیراعظم کیلئے یہ سوچنا بھی ضروری ہیکہ ان کی کابینہ میں بعض قائدین کو ایسی وزارتیں دی گئی ہیں جو ان کے لائق ہی نہیں ہیں۔ فروغ انسانی وسائل کی وزارت پر ایک خاتون کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ تعلیمی نصاب اور تعلیمی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے مگر وزیر فروغ انسانی وسائل کی حیثیت سے سمرتی ایرانی کا رول متنازعہ رہا ہے۔ ان کی جگہ ایک قابل سیاستداں کو دی جانی چاہئے۔ ارون جیٹلی کے علاوہ سشماسوراج، راجناتھ سنگھ اور نتن گڈکری مودی حکومت کے اہم ستون ہیں، انہیں تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر مودی نے اپنی وزارتی ٹیم کو ازسرنو تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اپنی حکومت پر اٹھنے والی انگلیاں اور مجوزہ سیکولر محاذ یا وفاقی اتحاد کے امکانات کے پیش نظر اچھی حکمرانی کے تصور کو بہرحال پورا کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔ وزیرصحت جے پی ندا، وزیرماحولیات پرکاش جاویڈکر اور مملکتی وزیر چھوٹی صنعت گری راج سنگھ کی کارکردگی کی رپورٹ ٹھیک نہیں ہے۔ کسی بھی اہم قلمدان کیلئے ایک مضبوط اور بہترین ایڈمنسٹریشن کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہئے۔ وزیراعظم بعض وزراء کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ کابینی ردوبدل کے موقع پر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہیکہ اچھے دن کا نعرہ پورا کرنے کیلئے اچھے وزراء کو ہی کام کا موقع دیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT