Friday , August 17 2018
Home / شہر کی خبریں / وقار آباد کے قریب بحریہ کا کمیونیکیشن اسٹیشن

وقار آباد کے قریب بحریہ کا کمیونیکیشن اسٹیشن

حیدرآباد۔ 25ڈسمبر(سیاست نیوز) ہندوستانی بحریہ کی جانب سے پڑوسی ضلع رنگاریڈی کے علاقہ پڈور میں 2900 ایکڑ پر محیط VLF مرکز کے قیام کے سلسلہ میں راہ ہموار ہوچکی ہے اور 2010 سے تعطل کے شکار اس پراجکٹ کو گرین ٹریبونل کی منظوری کے بعد ریاستی حکومت تلنگانہ نے محکمہ جنگلات کی 2900 ایکڑ اراضی کے موقف کو تبدیل کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے محکمہ دفاع کے حوالہ کرنے کے احکام جاری کردیئے ہیں۔ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد اور اطراف و اکناف کے علاقو ں میں کئی سرکردہ دفاعی ادارے موجود ہیں اور اب ان میں ایک اور اضافہ ہونے جا رہاہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے محکمہ جنگلات کی اراضی کی بحریہ کو حوالگی کے بعد پڈور میں جو VLF(ویری لو فریکوینسی ) مرکز کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت نے دمگنڈم محفوظ جنگلاتی علاقہ کی 2900 ایکڑ اراضی بحریہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورا س سلسلہ میں احکامات کی اجرائی بھی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ اس مرکز کے قیام کے بعد بحریہ کی جانب سے اس مرکزکے ذریعہ سمندر میں موجود ہندستانی بحریہ کے جہازوں کے علاوہ سمندروں میں موجود بحریہ کے آبدوزوں سے رابطہ قائم کرنے میں آسانیاں ہوں گی اور اس مرکز کے ذریعہ ہندستانی بحریہ کا مواصلاتی نظام کام کرے گا جو کہ بالکلیہ طور پر وائر لیس ہوگا ۔اس مرکز کے آغاز کے لئے ابھی وقت درکار ہو سکتا ہے کیونکہ عصری VFL کے قیام کیلئے 3تا4 سال کا عرصہ لگ سکتاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ 2010 میں شروع کئے گئے اس منصوبہ کو محکمہ ماحولیات کی جانب سے اجازت کے حصول میں ہونے والی دشواریوں کے سبب یہ پراجکٹ لیت و لعل کا شکار بنا ہوا تھا لیکن اب اس پراجکٹ کو بیشتر تمام محکمہ جات کی جانب سے منظوری حاصل ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں بہت جلد پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے اقدامات کا آغا زکیا جاسکتا ہے۔ ہندستانی بحریہ کے عہدیداروں کے مطابق حیدرآباد اور حیدرآباد کے اطراف کے علاقو ں ہندستانی دفاعی تنصیبات کے سبب اس علاقہ کو اس انتہائی اہم مرکز کے لئے محفوظ تصور کیا جا رہا تھا اور اسی لئے اس جگہ کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں سے بحریہ کو بحری جہازوں اور آبدوزوں سے رابطہ میں رہنے میں ہونے والی دشواریاں دور ہوجائیں گی اور اس ادارہ کے ذریعہ سمندروں میں موجود افواج سے رابطہ کے علاوہ مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے میں ہندستانی بحریہ کو کافی سہولت حاصل ہونے لگے گی ۔

TOPPOPULARRECENT